مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے
(قسط: ۴۴)

لیلیٰ مجنون ، ہیر رانجھا،، سوہنی مہیوال کی عشقیہ داستانیں آپ کے کانوں تک ضرور پہنچی ہوں گی اور بہت سارے لوگوں نے ان جوڑیوں کی کہانیوں پر مبنی فلمیں بھی دیکھی ہوں گی ، اس پر یاد آیا کہ اپنے بچپن کے زمانے میں جب اس طرح کی کسی ٹریجڈک فلم کو دیکھنے کا اتفاق ہوا تو ہمیشہ کئی دنوں تک اداسی تو چھائی ہی رہتی بلکہ سینما ہال کے اندر مجھے آنسو چھپانا مشکل ہوجا تا ،،، جیسا میں نے پہلے ہی کہیں لکھا تھا کہ یوسف ، اپنے دور کا کشمیر میں رانجھا ہی ٹہھرایا جاسکتا ہے لیکن شاہی گھرانے میں پیدا ہونے کی وجہ سے تخت نشین ہونا بھی اس کے لئے قسمت کی بات تھی ، لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بادشاہ کاعاشق مزاج ، نازک مزاج رنگیلی طبیعت کا ہونا منفی رحجانات اور اوصاف میں ہی شمار ہوسکتے ہیں کیونکہ ان اوصاف کے ساتھ کوئی شہنشاہ بڑا فاتح نہیں ہوسکتا ۔یہ تاریخ کے اسباق ہیں اور ہزارو ں شہنشاہوں کی زندگیوں کا نچوڈ ہے ، شاعری اور بادشاہت بالکل دو الگ الگ چیزیں ہیں ، بہر حال یوسف ، رنگیلا ، مستانہ ،پروانہ اور نازک مزاج عاشق۔ و حسن پرست تھا ، اس لئے جب وہ تخت پر بیٹھا تو فتوحات کے لحاظ سے اس کے پاس کوئی سرمایہ نہیں سوائے اس کے کہ دوسروں کی مدد سے تخت پانے کی تگ و دو کی ہو۔ اور تخت نشین ہوچکا ہو ، یوسف ، پہلی بار تخت نشین ہوا تو ڈیڑھ برس کے بعد ہی تخت سے ہاتھ دھونے پڑے، اور وجہ یہی تھی کہ وہ چنگ و رباب کو اول سمجھتا تھا جب کہ ، اولین ترجیح شمشیر و سناں کو حاصل ہے ، دوسری بار تخت نشین ہوا تو اپنے پیچھے یہ المیہ داستاں چھوڑ گیا جو کسی بھی عشقیہ داستاں کے مقابلے میں زیادہ حقائق پر مبنی ہے ،، یہ داستاں یوں شروع ہوتی ہے کہ ایک بار یوسف شاہ شاید چندہ ہار گاؤں کے کھیتوں سے گذر رہا تھا کہ اس کے کانوں میں ایک انتہائی رسیلی اور سریلی آواز گونجنے لگی ۔ یہ آواز کسی عورت کی تھی جو شاید اپنی مستی میں اپنے آس پاس اور ماحول سے بے خبر اور بے نیاز اپنے آپ میں گم اپنے دل کی تاروں کو ضرب دے کر اس نغمے سے فضا میں ارتعاش پیدا کر رہی تھی جس سے سننے والوں کے دل و دماغ اور وجود ہی جھنجھنا کر رہ جاتے ،، یوسف پرستار حسن ، نازک مزاج اور شاعرانہ طبیعت کا مالک آواز کی طرف کیوں نہ بڑھتا ، اور پھر اپنے سامنے ایک پیکر حسن کو دیکھ کر نہ صرف اس کے ہوش اڑ گئے بلکہ اس سے لگا کہ مطلع ابر آلود ہونے کے باوجود جیسے اندھیروں میں ناگاہ دھوپ کھل اٹھی ہو ،،، یوسف جیسا کہا جاتا ہے خود بھی کبھی کبھی اچھے شعر موزون کر لیتا تھا بے ساختہ ، کہہ اٹھا، ( ایک خوبصورت پری نہا دھوکر سج سنور کر گھر سے نکلی ، بارش نہ برسنے کا کوئی مطلب ہی نہی )،،،،،عورت شاید اس شعر سے چونک پڑی اور بر محل اسی بحر اور ردیف و کافیہ میں ترنم کے ساتھ گاکر جواب دیا ،،،( اے بادشاہ صاحب آپ اپنے دل کو صاف و پاک ہی رکھئے انشاللہ دھوپ ہی نکل آئے گی ) یہ چھوٹی سی ملاقات ضرور تھی لیکن اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یوسف کس آگ کے سمندر میں عشق کی حدت سے جلنے لگا ہوگا ،،، ،یہ عورت (زون ) زون کشمیری میں چاند کو کہتے ہیں ، چندہ ہار گاؤں کے ہی ایک زمیندار گھرانے کی بیٹی تھی ، شروع سے شاعرانہ طبیعت پائی تھی،نہ صرف شاعرہ کی حیثیت سے اپنے آس پاس معروف تھی بلکہ خود ہی بڑی پر سوز اور پرکشش آواز میں اپنے گیت گانے میں بھی مشہور تھی ،، کہا جاتا ہے کہ زون کے باپ کا نام عبدی راتھر تھا اور انہوں نے خاندانی روایات کے مطابق زون کی شادی کم عمری میں ہی چندہ ہار گاؤں کے ہی کسی کسان لڑکے جس کا نام عزیز تھا،سے کی تھی جو جاہل ، گنوار اور ان پڑھ تھا ، کہتے ہیں کہ یوسف نے اپنے محل پہنچ کر سب سے پہلے زون کے بارے میں معلومات جمع کیں،یوں بھی کہا جاتا ہے کہ زون کا خاوند اس سے ناپسند کرتا تھا کیونکہ اس کی بیوی کا شاعرہ ہونا اور اس کی گائکی کے چرچے اسوقت شاید عزت و احترام کے حامل کارنامے نہیں سمجھے جاتے رہے ہوں گے، یہی وجہ بنی رہی ہوگی کہ سسرال میں زون کو کافی مصا ئب جھیلنا پڑے ہوں گے ، جس کا اظہار اس نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنی غزلوں میں کیا ہے جو آج بھی کشمیر میں شوق اور ذوق سے گائی جاتی ہیں ، ان میں ایک گیت انتہائی مقبول ہے جو یقینی طور پر زون پر سسرال میں ہورہے ظلم و ستم کی کہانی بیانی کرنے کے لئے کافی ہے ،، اس کا یہ شعر آج بھی اس غزل کا شاہکار ہے ،، (پنگھٹ سے پانی کا گھڑا لاتے ہوئے راستے میں پتھر سے ٹھوکر لگی،،میرا گھڑا ٹوٹ گیا ،، اب میں سسرال کیسے جاؤں ،،، اے میرے مائکے ، میرے مشفق ، میرے مہرباں مائکے ، یاتو مجھے گھڑے کے بدلے گھڑا دیدو یا اس گھڑے کی قیمت دیدو )ظاہر ہے کہ یہ واقعہ اسی طرح پیش آیا ہوگا ، لیکن سسرال کا خوف و ڈرکشمیری بہوؤں کا کوئی افسانہ نہیں تھا بلکہ ہمارے بچپن تک سسرال ایک قید تھی اور اب اس نئے زمانے میں بھی سب سسرال والے مل کر اپنی بہوؤں کو زندہ جلادیتے ہیں ، حیراں کہ زمانے میں کیا بدلتا ہے ، اور نئی تعلیم نے ہمیں کونسے اعلیٰ اور ارفع اقدار دئے ہیں ، یوسف کو یہ سب معلوم ہوا تو دونوں میں طلاق کرادی ، اور عدت گذرنے کے بعد زون سے نکاح کیا ، اور زون محل میں پہنچنے کے ساتھ ہی (حبہ خاتون ) یا حُبہ خاتون کے لقب سے مشہور ہوگئی ،، یہ اس ڈرامے کا پہلا بھاگ یا حصہ ہے جہاں یوسف کا اپنی زلیخا، حبہ خاتون کے ساتھ ملن بھی ہوا اور زون جھونپڑوں سے نکل کر ایک دم محل میں آگئی ، حبہ خاتون جیسا کہ تاریخوں میں درج ہے نہ صرف شاعرہ ،اور گائکہ تھی بلکہ کہا جاتا ہے کہ اس میں زبردست صلاحیتیں اور قابلیتیں تھیں جن کی وجہ سے اس نے فوراً ہی شاہی امورات میں دخل اندازی شروع کی بلکہ یوسف کی لاپرواہیوں ، غفلت شعاریوں کا نوٹس لے کر شاہی احکامات صادر کرنے لگی ۔ یوسف شاہ اگرچہ حبہ خاتوں سے بے انتہا محبت کرنے لگا تھا لیکن اس کی عیاشیوں میں کوئی خاص کمی نہیں آئی ، یوسف شاہ جب پہلی بار تخت نشین ہوا تھا تو صرف ڈیڑھ سال کے بعد ہی اس سے اپنی نااہلیوں اور لاپرواہیوں کی وجہ سے تخت چھوڑنا پڑا تھا اس دوران وہ شہنشاہ اکبر کے دربار میں امداد کا طلب گار ہوا تھا ، اکبر نے مان سنگھ اور دوسرے ایک دو،سرداروں کو لشکر دے کر یوسف کی مدد کے لئے منتخب کیا تھا لیکن اسی دوران یوسف کا اپنا ایک مددگار لشکر لے کر ملا اور اس سے سمجھایا کہ اکبری لشکر اگر ایک بار کشمیر میں داخل ہوا تو اس سے جان چھڑانا مشکل ہوگا ، اس لئے یوسف کسی بہانے سے لاہور میں مان سنگھ اور اکبری لشکر سے فرار حاصل کرکے کشمیر پہنچا اور تخت کے لئے کوشش کی جس میں وہ کامیاب ہوا (تفصیلات یوسف کی قسط میں دیکھئے )اکبر نے جب یہ سنا تو خفا ہوا۔ ۱۵۸۱ ؁ ء میں اکبر نے جلال آباد سے مرزا طاہر اور صالح عاقل کو اپنا سفیر بناکر یوسف شاہ کے پاس اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ تم نے کشمیر کے حالات سے ہمیں بے خبر رکھا ہے ہمارے دربار میں آکر اطاعت کا ثبوت دو ،، یوسف کے درباریوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا اور خود بھی یوسف شاہ سمجھتا تھا کہ اکبر کی نیت کشمیر کے بارے میں ٹھیک نہیں ، یوسف نے اکبر کو خوش کرنے کے لئے تحائف اور اپنے تیسرے بیٹے کو اکبر ی دربار بھیج دیا ، اکبر ان تحائف سے مطمئن نہیں ہوا ، اور بار بار یوسف کو دربار میں حاضری دینے کا حکم دیتا رہا ،ایک سال کے بعد شیخ یعقوب صرفی کے ساتھ اکبر نے شہزادہ حیدر کو یہ فرمان دے کر واپس کشمیر بھیجا کہ فتح پور سیکری میں آکر حاضر دربار نہیں ہوئے تو فوج کشی کی جائے گی ، اس کے بعد راجہ مان نے تیمور بیگ کو یہی فرمان دے کر کشمیر روانہ کیا ، تیمور بیگ سرینگر سے واپس ہونے لگا تو یوسف نے ڈر کر اپنے بڑے بیٹے یعقوب اور قیمتی تحائف اس کے ساتھ کر دئے ، یعقوب فتح پور آیا تو اکبر اس بار خفا ہی نہیں بلکہ آگ بگولہ ہوگیا ، ، اس نے کہا کہ یوسف شاہ کو دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا تو اپنے چھوٹے بچے کو یہاں بھیجا جو فوجی خدمات دینے کے قابل نہیں ، دوسری بار یعقوب کو بھیجا جو احمق اور پاگل ہے ، تخت حاصل کرنے کے بعد وہ عیش و عشرت میں ڈوب چکا ہے اور اپنی وفاداری کا کوئی ثبوت ہمیں نہیں دیا ۔۔ اس سے پہلے مرزا دوغلت نے ہمایوں کے عہد میں کشمیر کو فتح کیا تھا اور مرزا حیدر کا خاتمہ بہت پہلے ہوچکا تھا لیکن شاید اکبر کے ذہن میں یہ بات نقش تھی کہ کشمیر ہما را حصہ ہے ،یہ بھی آپ کسی قسط میں پڑھ چکے ہوں گے ۱۵۶۰ ؁ ء میں اکبر نے قرابہادر کو غازی خان کے عہد میں کشمیر فتح کرنے بھیجا تھا لیکن کشمیر کو فتح نہیں کرسکا ، یہاں دو باتیں بڑی اہم لگتی ہیں ایک یہ کہ یوسف نے اکبری لشکر سے کوئی مدد نہیں لی تھی کیونکہ ذہن کے کسی گوشے میں یہ خیال یقینی رہا ہوگا کہ اس امداد سے ہندوستانی راج کی راہیں ہموار ہوں گی اور ہمیں باجگذار ہونے کا مقام ملے گا ، لیکن یوسف اپنی عیش پسندی کو چھوڑ کر مقابلے کی ہمت اور حوصلہ نہیں رکھتا تھا اگرچہ اکثر اس کے درباری جنگ کی تیاری کے حق میں ہی تھے۔ ۲۲ اگست ۱۵۸۵؁ء فتح پور سیکری سے کابل روانہ ہوا ، پہلی اکتوبر کو اکبر نے حکیم گیلانی اور بہاوالدین کمبو کو سرینگر جانے اور اپنے ساتھ یوسف شاہ کو لانے کا حکم دیا ،، یوسف شاہ کو اپنے بیٹے جو دربار اکبری میں موجود تھا ساری خبریں ملتی تھیں ، اب یوسف بہت پریشان ہوا لڑنے کی ہمت تھی ہی نہیں ، اپنے مشیروں سے مشورہ طلب کیا جنہوں نے لڑنے کی صلح دی ، لیکن یوسف شاہ کے دل میں اکبری خوف پہلے ہی سما چکا تھا ،، اس نے دربار اکبری میں حاضر ہونے کا ارادہ ظاہر کیا لیکن کسی نے ایسا کرنے کا مشورہ نہیں دیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس کے بعد یوسف کو کبھی اپنا تخت و تاج واپس نہیں ملے گا ، ، اسی دوران شہزادہ یعقوب کسی طرح شاہی قافلے سے فرار ہوا اور سرینگر پہنچا ، یوسف بغیر اجازت کے آنے پر خفا ہوا ، اس دوران اکبر کے سفیر بھی وارد کشمیر ہوئے ،یوسف خام پور تک خود سفرا کے استقبال کے لئے آیا ،یہاں اس نے یعقوب کے ہاتھ پیر باندھ کر واپس دربا ر بھیجنے اور خود بھی دربار میں حاضر ہونے کا وعدہ کیا ، لیکن اپنے سالاروں ، امرا اور وزرا ء نے اس فیصلے کی مخالفت کی اور اس سے دھمکی بھی دی کہ اگر اس نے ایسا کیا تو وہ یعقوب کو تخت پر بٹھا ئیں گے ، ، حکیم علی اور بہاوالدین دو مہینے تک سرینگر میں رہے لیکن یوسف کو اپنے ساتھ نہیں لے جاسکے ، وہ مجبوراً واپس چلے گئے اور ۱۳ دسمبر ۱۵۸۵؁ ء کو حسن ابدال کے مقام پر شاہی قافلے سے جا ملے۔