مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط: ۴۵)
۱۳ دسمبر ۱۵۸۵؁ء کو دونوں سفیر حسن آباد کے مقام پر اپنے قافلے سے ملے ، اکبر کو تفصیلات معلوم ہوئیں تو چراغ پا ہوا اور فوری طور پر ۲۰ دسمبر کو اٹک کے گرد نواح سے مرزا شاہ رخ ، راجہ بھگوانداس ا ور شاہ قلی محرم کے سات ہزار سوار ساتھ کرکے کشمیر پر دھاوا بولنے کا حکم دیا ، ، حیدر چک اور شیخ یعقوب صرفی کو اس لشکر کی رہنمائی کے لئے منتخب کیا گیا ، ، سپاہ سالار موسم بہار کے اوائل تک حملہ ٹالنا چاہتے تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ برفباری سے راستے مخدوش اور ناقابل استعمال ہوجاتے ہیں ا س کے علاو ہ وہ چاہتے تھے کہ یلغار کے لئے بمبھر کا راستہ اختیار کیا جائے کیونکہ اس طرف کے لوگ مغلوں کو اپنا دوست ہی سمجھتے تھے ، لیکن اکبر تاخیر کے خلاف تھا اور اس نے پکھلی کے راستے فوراً کوچ کا حکم دیا ،یہ خبر سرینگر پہنچی تو عوام یوسف شاہ کے پاس پہنچے اور اس سے ذالچو خان کی تباہی یاد دلادی ، آپ کو یاد ہوگا کہ ذالچو نے سارے کشمیر کو تباہ و برباد کرکے رکھدیا تھا، بستیاں ویراں کردی تھیں ، اور آبادیوں کو قبرستانوں میں بدل دیا تھا ، اس لئے امیر و غریب اس حق میں تھے کہ آخری سانس تک جنگ لڑی جائے اور اس کے لئے بھر پور تیاری کی جائے ، بہرحال یوسف شاہ نے محمد بٹ اور عالم شیر ماگرے کو قید سے رہا کیا اور محمد بٹ کو سرینگر کا نگراں مقرر کرکے خود بارہمولہ عالم شیر ماگرے کے ساتھ آیا ۔ یہاں فوج کے تین حصے کئے ۔ ہراول دستہ کو حسن ملک اور عالم شیر خان کی قیادت میں دیا ، دائیں بازو کو یعقوب اور ابو المعالی کی نگرانی میں اور بائیں بازو کو بابا طالب اصفہانی اور محمد بٹ کے بھائی حسن بٹ کی کمان میں رکھا اس کے بعد یوسف خود کوراست کی طرف روانہ ہوا ،جب مغل درہ بولیاس پہنچے تو یہاں کشمیری مدافعت کے لئے تیار بیٹھے تھے ، پہلی ہی لڑائی میں کشمیریوں نے زبردست بہادری دکھائی ۔ بارش اور برفباری بھی ہوچکی تھی اور ادھر کشمیر ی افواج کی سخت مزاحمت کی وجہ سے مغل سرداروںکے حوصلے پست ہوئے ،، یہ مغل سرداروں کی شکست ہی تھی ، کہ وہ کسی بھی طرح آگے بڑھنے میں کامیاب نہیں ہوئے ، ، شکست کا اندازہ کرتے ہی بھگوانداس نے گفت و شنید کی بساط بچھادی ، رات بھر مذاکرات ہوتے رہے جس میں یوسف شاہ اور مغل سپاہ سالار تھے ، اسی صبح یوسف نے اپنی افواج کے معائنے کے بعد ہی اپنے آپ کو مغل سپاہ سالاروں کے حوالے کیا ،اسوقت یوسف کی فوج میں ۱۵ہزار سوار ، ۲۵ ہزار پیدل اور ۷ہزار بندوقچی تھے اور اس کے ساتھ ہی کشمیری افواج کا حوصلہ بھی بلند تھا اور موسم بھی ان کے حق میں تھا ، اس جنگ کی مشابہت روس اور جرمنی کے جنگ تھی ،جہاںجرمنی افواج برف کی تہوںکے نیچے ہمیشہ کے لئے دب کر رہ گئی تھی، ، کشمیر کے درے ، بلند و بالا پہاڈ اور موسم بڑی سے بڑی فوج کے چھکے چھڑانے کے لئے کافی ہوسکتے تھے اگر بادشاہ کے پاس حوصلہ اور جنگ لڑنے کی مہارت ہو ۔ لیکن بالکل کم باشاہ کشمیر کی تاریخ میں رہے ہیں جو عیش کوشی کے بجائے سخت کوشی کے قائل رہے ہیںاور ایسے بادشاہوں کی فتوحات ہر حال میں ہندوستان کی آخری سرحد تک پہنچی ہیں ، یہ یوسف کو کیا سوجھی اور کیوں سرنڈر کرکے اپنے ملک سے بھی غداری کا مرتکب ہوا ، ؟ اس کے سوا اور اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ راجہ بھگوان داس نے اس سے یہ وعدہ دیا ہوگا کہ اکبر صرف آپ کی دربار میں حاضری چاہتے ہیں اور حاضری دے کر آپ اپنے ملک تزک و احتشام کے ساتھ واپس بھی آئیں گے ،تو اس خون خرابے سے فائدہ کیا ، جب جنگ کے بغیرہی یہ سارے مقاصد حاصل ہوتے ہیں تو کیوںنا امن کو ہی ترجیح دی جائے ،، کشمیریوں نے ہمت نہیں ہاری اورفوراً یعقوب کو سلطان بنایا ، ۲۸ مارچ ۱۵۸۶؁ء کو راجہ بھگوان داس نے یوسف شاہ کو اکبر کے سامنے پیش کیا ، جس نے فوراً یوسف کو قید کرکے رام داس کچھو اہا کے حوالے کیا ، یہ صلح نامے کی صریحاً خلاف ورزی تھی ،اس بات کا یہ ثبوت ہے کہ بھگوان داس اس عمل سے اتنا مایوس اور برا فرختہ ہوا کہ اس نے خنجر سے خود کشی کی کوشش کی ، لاہور پہنچنے پر اکبر نے یوسف شاہ کو ٹوڈر مل کی زیر نگرانی ڈھائی سال تک رکھا اس کے بعد یوسف کو بہار بھیج دیا گیا ، ادھر زون جو فطری شاعرہ اور با صلاحیت خاتون تھی اس جدائی کو برداشت نہیں کر پائی ، اور ادھر یوسف شاہ اکبری قید تنہائی کے طویل اور کٹھن دن گذارتا رہا ، غم فراق، غم جدائی ، اور قید خانے کی چار دیواروں نے بادشاہ یوسف شاہ کے دل و دماغ کو کیسے الٹ پلٹ کر رکھدیا ہوگا اس کا صرف اندازہ ہی کیا جاسکتا ہے ۔یہ کوئی سادھارن جوڈی تو تھی نہیں بلکہ ایک ملک کے شہنشاہ اور محبوبہ کی جدائی تھی مغلیہ خاندان کے ایک شہنشاہ نے اپنی ممتاز کے لئے تاج محل جیسی یادگار چھوڈدی اور ساری دنیا میں اپنی محبت اور اپنے عشق کی داستاں زمانے کے اوراق پر لکھدی اور دوسری طرف اسی مغلیہ خاندان کے اکبر اعظم نے اپنے سپاہ سالاروں کے دئے ہوئے وعدوں کا کوئی پاس نہیں کیا۔ یوسف شاہ نے اقرار اورشاہی وعدوں پر اعتبار کیا تھا، اور دوکھا کھایا تھا اس درد ، کرب اور جدائی نے حبہ خاتوں کا بھی دماغ الٹ دیا اور وہ اپنے یوسف کو جنگل جنگل ،بیابان بیابان صحرا صحرا تلاش کرتی ہوئی اپنے آپ سے بے خبر اپنی آخری سانسوں تک اپنے یوسف کو تلاش کرتی رہی، تاریخ اکبری کے مطابق اکبر نے یوسف کو قید سے رہا کردیا اور بہار بھیج دیا ، (بسوک )اسلام پور ضلع پٹنہ ( بہار )کے شمال مشرق میں ۳میل پر واقع گاؤں کا ایک ٹلیہ ہے جس کو گڑھ کہاجاتا ہے ، اس گڑھ کے پاس ہی یعقوب اور یوسف شاہ کے مقبرے ہیں ، گاؤں والوں کو شاید ان قبروں میں مدفون ان شاہوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ، ، یہاں سے تھوڈے ہی فاصلے پر ایک گاؤں کشمیری چک کے نام سے جانا جاتا ہے ، ،آس پاس کے گاؤں والے کہتے ہیں کہ یہ لوگ کشمیر سے آئے تھے اور چک ہی کہلاتے تھے ، بہت ہی قرین قیاس ہے کہ یوسف شاہ جب یہاں قید رہے ہوں گے تو اس کے کچھ رشتے دار ، یا دوست و احباب اس کے پاس یہاں آئے ہوں اور اس طرح سے یہاں کچھ گھرانے بستے بستے ایک گاؤں بن گیا ہو ، اکبر نامہ کے مطابق اکبر نے انہیں رہا کرکے یہاں جاگیر دی تھی اور یہاں ہی بسایا تھا لیکن میرے ذہن میں یہ سوال بار بار پیدا ہوتا ہے کہ اگر یوسف رہا ہوتے تو اس بات کا فطری تقاضا یہ ہونا چا ہئے تھا کہ وہ کشمیر رات دن سفر کرکے اپنی سلطنت میں پہنچ جاتا ، چلئے مان لیا کہ اب وہ بادشاہ نہیں رہا تھا لیکن (زون )اس کے لئے ہفت اقلیم سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل تھی وہ اس سے تلاش کرنے کیوں نہیں آیا ، یا اس کی دوسری وجہ ہوسکتی ہے کہ کسی طرح جیسے اس کے کچھ خاص رشتے دار اس کے پاس بسوک پہنچ گئے زون بھی ان میں ایک تھی ؟ قابل تحقیق سوال ہے ، اسی جگہ سے کسی دوست نے رانچی کے اخبار عوامی نیواز میں میرے کشمیر پر جاری یہ مضامین پڑھے تھے ، مجھ سے رابطہ کیا اور کئی اہم باتیں بتادیں ایک یہ کہ محمد یوسف ٹینگ صاحب اس گاؤں اور ان مقبروں تک پہنچے ہیں اور انکی کچھ مرمت بھی وہاں کرائی ہے ، دوئم یہ کہ محمد یوسف ٹینگ صاحب نے اس پر ایک مضمون قلمبند کیا ہے جو شیراز کے کسی شمارے میں چھپ چکا ہے ، لیکن مجھے نہیں ملا ۔ لیکن ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ کال کرنے والے نے اپنا سلسلہ بھی چک خاندان سے ظاہر کیا ، اس نے مجھے یوسف شاہ کے مقبرے کی لوکیشن اور اس کی خستہ حالی کی طرف میری توجہ مبذول کرائی اور اب اس شخص کا مقصد یہ تھا کہ کسی طرح کشمیری سرکار یا کلچرل اکادمی یا وہ محکمے جن کا اس سے تعلق ہوسکتا ہے اس طرف توجہ دیں اور کشمیر کے ان شاہوں کے مزارات کی کم سے کم مرمت ہی کرائیں ، ظاہر ہے کہ کشمیر چک کے نام سے موسوم یہ گاؤں شایداب ایک قصبہ بھی بن گیا ہو یا بڑا قصبہ بن گیا ہو ،مجھے کچھ معلوم نہیں یہ سب شاید ٹینگ صاحب کے مضمون میں آچکا ہوگا اور ان کی تحقیق بھی بڑی اہمیت کی حامل رہی ہوگی لیکن افسوس کہ کوشش کے باوجود بھی مجھے یہ مضمون نہیں ملا ،،بعض تاریخوں میں یعقوب چک کی وفات کشتواڈ میں بتائی گئی ہے اور یہیں پر ان کے دفنائے جانے کا بھی ذکر ہے اگر یہ صحیح ہے تو بسوک (بہار ) میں یوسف شاہ کی قبر کے ساتھ ہی کس کی قبر ہے ؟، ، سینہ بہ سینہ روایات یہ بھی ہیں کہ حبہ خاتون کا مقبرہ پاندریٹھن ،، سرینگر میں ہے ،،، چونکہ یوسف شاہ چک نے اچھی خاصی جنگی طاقت کے ہوتے ہوئے سرنڈر کیا تھا ، اس بات کے دو پہلو ہی ہوسکتے ہیں وہ بزدل تھا ، مستقل مزاجی اس میں نہیں تھی یا کمزور قوت ارادی کا مالک تھا ، یا راجہ بھگو ن داس نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اکبر کے دربار حا ضری دے کر وہ واپس آئے گا ، یہ بات یوں درست لگتی ہے کہ یوسف کی گرفتاری کا حکم صادر ہوتے ہی بھگوان داس نے راجپوتانہ غیرت اور وچن کا پاس کرتے ہوئے اپنے سینے میں خنجر بھونک دیا ، لیکن ابھی زندگی کے دن باقی تھے سو بچ گیا ، یوسف اور حبہ خاتون کی کہانی امر ہوگئی ، مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے ممتاز کے لئے تاج محل جیسا عجوبہ روز گار تحفہ دیا تو حبہ خاتوںنے یوسف کے فراق میں اپنی جان گنوائی ،کہانی کے لحاظ سے دونوں عشق کی وہ داستانیں ہیں جو ہر زمانے میں یاد کی جائیں گی،،، یوسف نے وعدے پر اعتبار کیا ، بحیثیت بادشاہ کے اس سے معلوم ہونا چاہئے تھا کہ شہنشاہوں کے وعدے سیاست ہی کہلاتے ہیں ، اور یہ اس کی غلطی تھی ، لیکن یہ بھی اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اکبر جیسے بڑے شہنشاہ کا فیصلہ مبنی برانصاف نہیں تھا ، اس فیصلے کی رو سے وہ دغا باز اور کم ظرف بادشاہ ثابت ہوجاتا ہے کیونکہ بہر حال اکبر کے مقابلے میں یوسف ایک چھوٹے ملک کا چھوٹا باشاہ تھا جس نے دربار میں حاضری دینے کی خاطر اپنے تاج و تخت سے بھی ہاتھ دھو لئے تھے ،اپنی کمزوریوں یا خون آشام جنگ سے صلح کے بجائے امن اور صلح کو ترجیح دی تھی ، قید ، اپنے وطن اور عزیز و اقارب سے دور جلا وطنی کی زندگی یوسف کے لئے کس قدر اذیتناک رہی ہوگی ، اس کا اندازہ ہی کیا جاسکتا ہے، بہادر شاہ ظفر نے رنگون کی قید تنہائی میں اپنی چند آخری غزلوں میں یہ درد اور کرب بڑی خوبصورتی کے ساتھ سمویا ہے ، دونوں کا درد ایک جیسا رہا ہوگا اس میں کوئی دو رائیں نہیں ، یوسف ، حبہ خاتون سے جدا ،،، اور بہادر شاہ ظفر اپنے اس وطن اور ملک سے دور جہاں اس خاندان نے صدیوں حکومت کی ،،، لیکن وقت کے آنچل میں کس کے لئے کیا چھپا ہے یہ کون جانے ؟ تیرے شب و روز کی اور حقیقت کیا ہے
زمانے کی ایک رو جس میں دن ہے نہ رات
آنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنر،،
کار ِ جہاں بے ثبات کارِ جہاں بے ثبات