مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط: ۴۶)
چک خاندان کا آخری تاجدار ،، یعقوب شاہ چک ولدیوسف شاہ چک ، رہا ہے اور اس کے بعد کشمیری بادشاہوں کا دور بھی اسی کے ساتھ اختتام پذیر ہوکر یہ وادی گلپوش باہری حکمرانوں کی چراگاہ کے طور استعمال ہوتی رہی ہے ، پچھلی قسط میں آپ نے یہ پڑھا ہے کہ یوسف شاہ نے اکبری دربار میں سرنڈر کیا اور بغیر، کسی جنگ و جدل کے اکبری وعدے پر بھروسہ کرکے اپنے لئے قید تنہائی کی زندگی کا انتخاب کیا ، میدان جنگ سے واپس آکر یعقوب شاہ نے ۱۵۸۵؁ء میں جشن تاجپوشی منعقد کی اور پہلی عظیم غلطی یہ کہ کی علی ڈار کو وزیر اعظم بنایا ، یہ فاش غلطی یوں بھی تھی کہ تدبر سے عاری ہونے کے ساتھ ساتھ یہ صاحب نشے کا عادی تھا اور ہر وقت نشے میں ڈوبا رہتا تھا جس کی وجہ سے اس کی یاد داشت بھی بڑی کمزور اور نحیف تھی ، یاد داشت کا عالم اس ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ایک بار ظہر کے وقت کسی شخص کو ایک جگہ جاگیر عطا کی اور عصر کے وقت یہی جاگیر کسی دوسرے کو بخش دی ، شام کو دونوں نے مقدمہ دائر کیا تو علی ڈار نے دونوں کو لتاڈتے ہوئے کہا کہ میں نے یہ جاگیر کسی کو نہیں دی ،اس سے ظاہر ہے کہ یعقوب شاہ کی حکمرانی میں انتشار اور اضطراب شروع سے ہی موجود رہا ہوگا ،یعقوب کے خلاف بھی حسب معمول سازشیں ہوتی رہیں اور میں نے بار بار لکھا ہے کہ اقتدار کی ہوس کا ٹولہ ہمیشہ سے موجود ہی رہا ہے لیکن کبھی کبھی،باہمت ، با تدبیر ، بہادر اور عقلمند بادشاہوں نے اس ٹولے کی لگامیں کس کے رکھی ہیں اور لمبے لمبے عرصے تک تاریخ میں بڑے بڑے بادشاہوں کی صف میں شامل ہوئے ہیں لیکن ، اس کے لئے ، شمشیر و سناں اول رہی ہے ، لیکن جہاں طاؤس و رباب ہی اولین ترجیح رہی ہو وہاں کوئی شاہین صفت حکمران کبھی اور کسی حال میں پیدا نہیں ہوتا ، یعقوب نے اپنے خلاف پہلی یلغار کو زالڈگر کے میدان جنگ میں ناکام کیا ، یہاں سے علی ڈار اور شمس چک اپنی افواج کے ساتھ سوپور آگئے ، یہاں بھی میدان کار زار گرم ہوا اور علی ڈار کو شکست ہوئی ،بہر حال یعقوب کے تینوں مخالف شکست سے دوچار ہوئے اور علم شیرماگرے کچھواہہ، میر حسن پاڈورہ شمہ ہال اور علی ڈار بر تھل کے کسی زمیندار گھرانے میں پناہ گزین ہوا ، شمس چک خانقاہ میر شمس الدین عراقی میں جا چھپا لیکن گرفتار ہوا ، ، اس واقعہ کے بعد محمد بٹ یعقوب کا وزیر مقرر ہوا ، اس مہم کے بعد یعقوب شاہ اپنے شیعیہ مسلک کی ترویج میں زور زبردستی اورظلم و جبر کی راہ پر گامزن ہوا جس نے سارے ملک کے خرمن امن و اماںآگ لگادی ، اہل سنت والجماعت سے منسلک اور پیروکا رزبردست عذاب میں مبتلا ہوئے ، ، قاضی موسیٰ جن کا خاندان پچھلی کئی نسلوں سے قاضی کے فرائض دیتے چلے آرہے تھے ،اور بہت بڑے عالم و زاہد تھے ایک برس سے جامع مسجد کی مرمت میں مصروف تھے ، یعقوب شاہ کو ا س مسجد کی تجدید ناگوار گذر رہی تھی، جس کی وجہ سے وہ قاضی موسیٰ کے در پہ آزار ہوئے اور اسی اثنا میں ایک دن قاضی کو دربار میں بلاکر ، حکم دیا کہ اذان کے ساتھ (علی ولی اللہ ) کے کلمات شامل کریں ، قاضی نے اذان میں کسی قسم کی تحریف کرنے سے انکار کیا اور اس بات سے خفا ہوکر یعقوب شاہ نے شمس چک کے ساتھ رابطہ رکھنے کا الزام لگا کر اپنے دربار میں قتل کرایا اور اس کی لاش کوہاتھی کی دم کے ساتھ باندھ کر تمام شہر میں پھرائی اور آخر اپنے گھر کے صحن میںڈ النے کا حکم دیا ، ، تاریخوں میں ہے کہ جب یہ لاش گھر پہنچی تو اس کی ماں نے بیٹے کے چہرے پر اپنا ڈوپٹہ ڈال کر اس شہادت پر خدا کا شکر ادا کیا ،حسن کھوئہامی نے اپنی تاریخ حسن میں لکھا ہے کہ اس روز شام ہونے سے پہلے اچانک طوفانی بارشیں شروع ہوئیں ، بجلیاں چمکنے لگی بادل گرجنے لگے ، اولے پڑنے لگے اور زلزلوں کے جھٹکے محسوس کئے گئے جن سے بہت ساری حامل عورتوں کے حمل گر گئے ، ، اور یہ بھی کہ یعقوب خان کے گھر پر ایسی بجلی گری کہ علی ڈار کی بیوی اور دوسری چار عورتیں اس زد میں آکر ہلاک ہوئیں ، ، اس کے ساتھ ہی یعقوب خان نے ملا احسن کی رائے کے باعث محمد بٹ کو وزارت سے فارغ کرکے نازک بٹ کو وزیر مقرر کیا ، جو سرے سے عقل و دانش سے عاری تھا، میں نے یہ پہلے بھی لکھا ہے کہ آدمی ریشم کے کیڑے کی ہی خصوصیت رکھتا ہے جو خود ہی اپنے آس پاس ریشم کی تاریں بھن کر اپنے آپ کو اسی خول میں بند کرتا ہے ،یہی یعقوب کرتا رہا ، اس کے بعد یہ دونوں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر نہ صرف اہل سنت والجماعت پر ظلم وستم کے پہاڈ توڈنے لگے بلکہ انہوں نے ہندؤں پر بھی یہی نسخے آزمانے شروع کئے جس کی وجہ سے ملک کی رعایا انتہائی پریشان اور مضطرب ہوئی اور ان دونوں عقل کے اندھوں اور ظالموں سے نجات کی راہیں تلاش کرنے پر مجبور ہوئے ، اس بنا پر اکابرین کشمیر کی ایک بہت بڑی جماعت دربار اکبری پہنچی ،ان کابرین میں حضرت شیخ یعقوب صرفی اور شیخ بابا داؤد خاکی جیسے بزرگ اور ولی اللہ بھی تھے ، ، اور اکبر کو کشمیر فتح کرنے کی ترغیب دی ، لیکن اس کے ساتھ ہی ا پنے تعاون اور اشتراک کو چند شرائط کے ساتھ منسلک کیا جو اس طرح سے ہیں اور جن کے دستاویز ات بھی اب تک موجود ہیں۔
(۱)بادشاہ حکمران مذہبی معاملات اور غلے کی نرخوں میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے۔
(۲)کشمیر کے لوگوں کو غلام اور انکی عورتوں کو کنیزیں نہیں بنائیں گے ۔
(۳) یہ کہ روزگار کے وسائل پیدا کرکے کشمیریوں کو روز گار فراہم کیا جائے گا۔
(۴) کشمیریوں کی خوشحالی کا خیال رکھاجائے گا ۔
(۵) ملکی امور میں ان لوگوں کو طاقت و اقتدار نہیں دیا جائے گا جو اس کے اہل نہ ہوں ۔۔۔۔ان مدعوں پر عہد و پیماں کے بعد اکبر بادشاہ نے اپنے سپاہ سالار وغیرہ کشمیر کی فتح کے لئے منتخب کئے ( واقعات کشمیر ،، محمد اعظم دیدہ مری ، ، تاریخ ریاست جموں کشمیر اور تاریخ حسن )اس کے بعد اکبر نے محمد قاسم خان میر بحر کو تیس ہزار سواروں کے ساتھ راجوری کے راستے کشمیر روانہ کیا ، محمد قاسم کی ر ہنمائی کشمیر کا یہی باوقار اور بزرگ وفد کر رہا تھا ، اکبر کے حوصلے اس لئے بھی بلند تھے کہ کشمیر کے کچھ اور راجاؤں نے بھی اس سے اپنے تعاون اور امداد کا یقین دلایا تھا جو یعقوب سے دلبرداشتہ اور خفا تھے ، ۱۵۸۷ ؁ ء کو اکبر نے قاسم خان میر بحرکو کشمیر روانہ کیا ، سرینگر میں داخل ہوکر قاسم خان نے اکبری پرچم لہرایا ، اکبر کے نام کا خطبہ پڑھوایا اور فتح کا ایک بہت بڑا جشن منایا ، جس میں کشمیری لوگوں نے کوئی حصہ نہیں لیا ، اس دوران لوگوں کو یوسف شاہ کا تیسرا بیٹا حیدر یاد آیا ، حیدر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ حبہ خاتوں کےبطن سے پیدا ہوا تھا ) قاسم خان نے حیدر کو گرفتار کیا، جس کی وجہ سے عوام بہت خفا ہوئے، ، راجہ کشتواڈ نے حیدر کی گرفتاری کا حال سنا تو فوراً ہی یعقوب شاہ کو جو اسی کے پاس چلا آیا تھا اپنا لشکر دے کر سرینگر روانہ کیا ، ، اگلے ڈھائی مہینے تک کشمیریوں نے مغل افواج کے خلاف گوریلا جنگ اور شبخون مارنے کا طریقہ اختیار کیا جس کی وجہ سے مغل افواج کا بہت نقصان ہوتا رہا ، یہاں تک کہ قسم خاں نے سارا احوال اکبر کو لکھ بھیجا جس نے یوسف خان مشہدی کو چالیس ہزار چنیدہ سواروں کے ساتھ قاسم کی مدد کے لئے روانہ کیا ، ، ساتھ ہی سید مبارک خان ،محمد بٹ اور خلیل کو بھی حکم دیا کہ یوسف کے ہمراہ کشمیر کے فتنہ و فساد کا تدارک کرے ، اکبر ۱۵۸۷؁ء میں کشمیر آیاجب قاسم خان یہاں ان کا حکمران تھا ، انہیں پہلے ہی راستوںکی دشواریوں سے واقفیت دی گئی تھی اس لئے ان کے ہمراہ تین ہزار سنگتراش ، و خارا شگاف اور ہزار بیلدار آدمی تھے ان کے علاوہ اکبر کے ہمراہ شہزادہ سلیم ، ، شہزادہ سلطان، مرزا خانِ خاناں زین خان ، میر شریف ، قاضی حسین نور ، اور اس طرح کے اور بھی بڑے بڑے لوگ اور بڑی بڑی شخصیتیں تھیں ، ، اکبر نے گورنر یوسف خان کے محل میں قیام کیا ، اور تیسرے روز انہوں نے یہاں کی سیر شروع کی ، اور بہت ہی مشہور بات یہ ہے کہ اکبر کے لئے ایک ہزار دریائی محل (ہاوس بوٹ ) تیار کرائے گئے ،ایک خاص ہاوس بوٹ بھی شہنشاہ کے لئے تیار کیا گیا ، ، محمد دین فوق نے تاریخ کشمیر میں لکھا ہے کہ یعقوب شاہ نے اکبر سے معافی مانگی ، بادشاہ نے اس سے معاف کیا اوربیس ہزار کی جاگیر عطا کی ،، یعقوب شاہ کی موت کے بارے میں کئی روایات ہمیں تاریخوں میں نظر آتی ہیں ، ، ایک روایت ہے کہ جب یعقوب شاہ راجہ مان سنگھ کی تحویل میں تھے تو انہیں زہریلا لباس پہنا کر قتل کیا گیا ، ، دوسری کہانی ہے کہ بھائی کے ہاتھوں مسموم ہوکر ۱۵۹۳ میں انتقال کر گیا ، ایک اور روایت ہے کہ انہیں ایک زہر آلود پان کھلا کر قتل کیا گیا ، بہر حال حقیقت کیا ہے ، یہ تحقیق طلب ہے لیکن اس بات پر اتفاق دکھائی دیتا ہے کہ یعقوب شاہ اپنے والد یوسف شاہ کے ساتھ بسوک ، بہار میں دفن ہیں ، ، اور اس کے ساتھ ہی کشمیر ی سلاطین کے تخت و تاج بھی منوں مٹی تلے ہمیشہ کے لئے دفن ہوگئے ، رینچن ، شہمیری اور چک ، تینوں دوسرے نزدیکی ممالک سے وارد کشمیر ہوکر یہاں تاج و تخت کے وارث ہوئے تھے ، رینچن نے اسلام قبول کیا تھا اور کشمیر میں مسلم سلاطین کی بنیاد پڑی تھی ، اس کا اسلامی نام ملک صدر الدین ہوا تھا اور اس نے کشمیر پر ۲سال ۷ماہ حکومت کی تھی اور اسی دور میں یہاِ اسلام کی ترویج کا دور بھی شروع ہوتا ہے ، اس کے بعد شاہمیریوں نے حکومت سنبھالی اورخوش قسمتی سے اس خاندان نے زین العابدین جیسے بلند پایہ بادشاہ کو جنم دیا جو کئی معاملات میں ہندوستان کے اکبر اعظم سے سے بڑا بادشاہ ہوا اور جس سے اپنی رعایا نے بھی بڈ شاہ ، کا لقب دیا اور آج تک اس ’’عابدین کی زینت ‘‘ کو بڈشاہ کے نام سے ہی اپنے سینوں میں بسائے ہیں ، ان کی حکمرانی لگ بھگ۲۴۰ برس برس تک بر قرار رہی جو تاریخی لحاظ سے کشمیر کے لئے ایک لمبا عرصہ ہی کہا جاسکتا ہے اور شاہمیریوں کے بعد ،چک خاندان نے بھاگ ڈور سنبھالی جنہوں نے کم و بیش ۳۲ سال کی حکرانی کے بعد سلاطین کشمیر کے باب کو بند کردیا