مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط: ۵۳)
اورنگ زیب عالمگیر کی وفات کے بعد ان کے بیٹوں میں تاج و تخت کے لئے لڑائی چھڑنا ناگزیر تھا ، کیونکہ اگر سارے معاملات ہی عقل کی بنیاد پر طئے ہونے لگیں تو پھر ’’ مقدر ‘‘کس چیز کا نام ہے ، اورنگ زیب کی وفات کے ساتھ ہی سلطان اعظم نے اپنے بیٹوں اور شاہی فوج کے ساتھ اکبر آباد کا رخ کیا اور دوسری طرف معظم شاہ نے بھی یلغا ر کی ، دونوں بھائیوں کے درمیان اکبر آباد کے آس پاس میدان جنگ سجا ، ایک انتہائی سخت معرکہ ہوا جس میں اعظم شاہ کی فوجوں کو تقریباً فتح حاصل ہونے ہی والی تھی کہ معظم شاہ کی فوجوں کی جانب سے تیز ہوائیں چلنے لگیں جنہوں نےگردو غبار کا ایک طوفان اعظم شاہ کی فوجوں کی طرف موڈ دیا ، سپا ہیوں اور سواروں کی آنکھوں میں دھول مٹی، گردو غبار نے انہیں بصا رت سے ہی محروم کردیا اور اسی دوران جب انہیں سامنے کچھ نظر نہیں آرہا تھا معظم شاہ کی فوجوں نے انہیں اپنی تلواروں پر رکھ دیا ، اعظم شاہ اپنے بیٹوں اور لشکر کے ایک بڑے حصے کے ساتھ قتل ہوا ، اور اس غیبی امداد نے معظم شاہ کو تخت پر بٹھا دیا ، جو لوگ اور دانشور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ خود اپنی تقدیر اپنے ہاتھوں لکھ دیتے ہیں ان کے لئے اس طرح کی تاریخی مثالیں جو لاکھوں کی تعداد میں ہیں تازیانہ عبرت ہیں اور اس بات کے لئے چشم کشا ہیں کہ، اللہ کے اپنے منصوبے ہوتے ہیں جو ہر حال میں پورے ہوتے ہیں ، بڑے بڑے شاہوں اور فرعونوں کو لمحات میں تخت سے اتار کر زمین نشین کر دیتا ہے ، یہ اورنگ زیب کا دوسرا بیٹا تھا ، ۱۷۰۷؁ء کو دربار شاہی منعقد کیا اور شاہ عالم بہادر کے خطاب سے اپنی حکمرانی کا آغاز کیا ،،تخت نشین ہوکر اعظم شاہ اور دوسرے لواحقین کے ساتھ مشفقانہ سلوک کیا ، انہیں بڑے بڑے عہدے دے کر انہیں زیربار احسان کیا ، ،، شاہ عالم بہادر کے عہد میں کشمیر جو صوبیدار آئے ان کا حال یوں ہے ، (۱) جعفر خان ،،۱۷۰۸سے ۱۷۰۹؁ء ۔۔کل ایک سال ۳ماہ ،،، جعفر خان کی غیر موجودگی میں خواجہ عبداللہ منصب داری کے فرائض انجام دیتے رہے لیکن کشمیر آکر جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو حکومت کارنگ ڈھنگ بدل دیا ، یہ شخص جیسا کہ تاریخوں میں ہے بلا نوش تھا اور شراب کے نشے میں اس سے وہ حرکات و سکنات سرزد ہوجاتیں جو بہت ہی گٹھیااور کم ظرفی کی نمایاں مثالیں ہوا کرتیں تھی ، لوگوں پر ظلم بڑھنے لگا اور عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا تو اس کے ماتحت کچھ منتظموں کے گھر جلادئے ، ابھی یہ بغاوت اسی چھوٹے پیمانے پر ہی تھی کہ اس شراب خور کی صحت نے جواب دیا اور کئی ا مراض میں مبتلا ہوکر اس دنیا سے رخصت ہوا ، ، جعفر خان کے ورثاء اس کی لاش ہندوستان لے گئے ،،منصب صوبیداری کچھ وقت کے لئے خالی رہا لیکن جلد ہی اتفاق کے ساتھ نئے صوبیدار کے آنے تک قاضی محمد فاروق کو ناظم مقرر کیا ،، ( ۲) ابراہیم خان ،،، صوبیدار کشمیر بار چہارم ۔۔۔ شاید آپ کو یاد آئے کہ یہ ابراہیم خان علی مرداں خان کا بیٹا تھا جنہوں نے بڑی نیک نامی اور احسن طریقے پے اپنا منصب سنبھالا ، یہ چوتھی بار کشمیر کے صوبیدار ہوکر آئے لیکن اس بار صرف تین مہینے کی صوبیداری کے بعد اس دار ِ فانی سے کوچ کیا،،،(۳) نوازش خان بار ثانی ،، ۱۷۰۹؁ء سے ۱۷۱۰ ،،، ایک سال پانچ ماہ ،،، نئے صوبیدار کے پہنچنے تک محمد فاروق عرف عارف خان کشمیر میں منصب نظامت پر فائض رہا اور نئے صوبیدار نوازش خان نے اس کی بہتر اور ایماندارانہ کار گذاری سے خوش ہوکر ا س سے بدستور اپنا معاون رکھا اور بادشاہ سے سفارش کرکے اس کے لئے امانت خان کا خطاب بھی حاصل کیا،،، اس کے دور میں اگرچہ اس صوبیدار سے کوئی تکلیف نہیں پہنچی تھی لیکن بارشوں نے سیلاب پیدا کئے جس نے بہت سارا جانی و مالی نقصان کیا اور دوسری بلائے ناگہانی آتشزدگی کے روپ میں وارد کشمیر ہوئی ، جس نے عوام کا بہت سارا مالی نقصان کیا ، اس آگ نے شہر سرینگر میں محلہ صراف کدل سے محلہ ویلچی مرجو جامع مسجد سے ایک متصل محلہ ہے۔ تک تقریباً بیس ہزار گھر جلاکر راکھ کئے ۔ایک سال پانچ مہینے کی نظامت کے بعد بادشاہ نے نوازش خان کو واپس بلایا (۴)عنایت خان،، ۱۷۱۱؁ء سے ۱۷۱۲؁ئ۔۔ ایک سال نو ماہ ۔۔۔عنایت اللہ خان نے بھی محمد فاروق ، عرف عارف خان ، خطاب امانت خان کو اپنا معاون برقرار رکھا ، کیونکہ یہ شخص نہ صرف دیا نت اور امانت میں یکتا تھا بلکہ اپنے آقاکا پوری وفادری کے ساتھ۔ ساتھ نبھاتا اور اپنی بہتر کارکردگی سے اپنی رعایا کا بھی دل جیت چکا تھا ، اسی سال کوئی خلیل بیگ صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہوا تھا قاضی محمد اکرم کے فتویٰ سے قتل کیا گیا ، دوسری اہم بات یہ ہوئی کہ جعفر خان کے عہد میں سودرش پنڈت نے عوام پر بہت مظالم ڈھائے تھے اور لوگ اس سے خار کھائے بیٹھے تھے ، ،ایک بار جب لوگوں کو اس کا کام تمام کرنے کا موقعہ ملا تو وہ یہ چال چلا کہ فوراً خو ا جہ محمد آفتاب نقشبندی کے ہاتھ پر بیعت کی اور مسلماں ہوا ، اس کی جان چھوٹ گئی ، اسی سال نو ماہ کی نیابت کے بعد امانت خان اس دار فانی سے رخصت ہوا ، ،اس کی جگہ عنایت خان نے اپنے داماد مشرف خان کو اس منصب پر بٹھایا ، اسی سال شاہ عالم بہادر کا ۱۷۱۲؁ء میں انتقال ہوا۔۔ اس کا جانشین جہاندار شاہ ہوا جس نے عنایت خان کو کشمیر کی صوبیداری پر بر قرار رکھا ، اور مزید تین ماہ تک مشرف خان ہی اس کے فرائض انجام دیتا رہا ، پھر عنایت اس سال خود کشمیر آیا اور مہام نظامت انجام دینے لگا ، اس دوران راجہ مظفر خان بمبہ نے مظفر آباد میں شورش برپا کی ، اور علاقہ کرناہ اور وزادہ کو اپنے قبضے میں کر لیا ، عنایت اللہ خان نے اس کی گوشمالی کے لئے فوج تیار کی ، لیکن اسی دوران ۹ ماہ کی حکومت کے بعد جہاندار شاہ کے ہاتھ سے حکومت نکل گئی اور ہندوستان کے تخت پر محمد فرخ سیر تخت نشین ہوا ،، فرخ سیر اپنے دادا شاہ عالم بہادر کے دور میں حاکم بنگال تھا اس نے بھی تخت کے لئے وہی کچھ کیا جو تقریباً ہر بادشاہ کی روائت رہی ہے ، ،سادات بارہہ کی معاونت سے فوج لے کر اکبر آبادپر چڑھ دوڈا ،پھر شاہجہاں آباد آیا اور جہاندارشاہ ا ور اسکے معاون ذوالفقار خان کو قتل کیا اور تخت ہند پر قابض ہوا ، ،خواجہ اعظم دیدہ مری نے تاریخ جلوس یوں لکھی ہے ،، ازاں جملہ گفت اعظم کم رموز۔ سلیمان ثانی بعدل و کرم ، ۱۱۲۴ھ ۱۷۱۲؁ء ۶سال ۳ماہ۱۵ روز ۱۷۱۹؁ء تک تخت ہند پر متمکن رہا ،اپنے خاندان کے کئی بے گناہ شاہزادوں کو قتل کیا اور ان کے ساتھ کئی امراء کو بھی ملک عدم پہنچایا جن کے بارے میں گماں ہوا کہ بغاوت کریںگے ۔سید عبداللہ اور سید حسین مختار بن گئے اور اصل میں وہی اہم فیصلے کرنے لگے ، یہ دونوں خود غرض تھے اس لئے اس دور حکومت میں عدل و انصاف کا توازن قائم نہیں رہ سکا ، ان کی حکومت میں ملک کشمیر جو صوبیدار یا نائب یہاں آئے ان کی تفصیل یوں ہے ،، (۱) علی محمد خان ،، ۲سال ۔۔ ۱۷۱۲سے ۱۷۱۴ تک ،،(۲) اعظم خان ایک سال ۱۱ماہ ۱۷۱۴ سے ۱۷۱۵ ؁ ء تک (۳)علی محمد خان ، ایک سال ۔ (۴)احترام خان ۱۷ روز ،،،فرخ سیر کے عہد میں سادات خان کو کشمیر پر اقتدار حاصل ہوا جس نے یہاں کئی نائب تعینات کئے جن کا اوپر نام آچکا ہے ، یہ سب نائب صوبیدار تھے جنہوں نے کشمیر میں اپنے صوبیداروں کی طرف سے فرائض انجام دئے، اعظم خان نے کشمیر آکر علی محمد خان کے مصاحبوں کو معزول کرکے عدل و انصاف کے ساتھ اپنے گیارہ مہینے گذارے، ، لیکن علی محمد خان دوسری مرتبہ بھی سادات خان کا نمائیندہ بن کر آگیا ، احترام خان صرف سترہ روز تک ہی نائب صوبیداری کے منصب پر فائض رہا کیونکہ خود اس کا آقا سادات خان کشمیر کی صوبیداری سے فارغ کیا گیا ، اور اس کی جگہ پھر ایک بار عنایت اللہ خان صوبیدار کشمیر مقرر ہوا ،عنایت خان نے اپنی طرف سے میر احمد خان کو نائب بناکر کشمیر بھیجا ،عنایت خان خود بھی قابل اور ذی فہم انسان تھا اور میر احمد خان نے بھی کشمیر آکر بہ احسن خوبی کاروبارِحکومت چلایا ۔ فرخ سیر بھی سادات بارہہ کی سازشوں کا شکار ہوا اور آخر ان لوگوں نے اس سے قید کردیا، اس کی آنکھوں میں سلائی پھیروادی اور پھر بڑی اذیت اور درد و کرب میں ایک مہینے کے بعد قتل ہوا ،،فرخ سیر ، خود اپنے اوصاف کی بنا پر ایک اچھا اور عادل حکمران تھا لیکن بد قسمتی سے ان سادات نے اس پر غلبہ حاصل کیا تھا ۔ یہ سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے تھے اور آخر اس نیک بندے کو قید خانے میں قتل کرادیا ،،، زمانے کا پہیہ مکمل تاریخ میں ہم نے دیکھا کہ گھومتا رہتا ہے اور کوئی بھی مکافات عمل سے نہیں بچ پایا ہے ،یہ سارا دور یہاں مغلیہ صوبیداروں کا دور رہا ہے اس لئے ان بادشاہوں کا مختصر ساتذکرہ بھی ناگزیر ہوجاتا ہے جو ہندوستان کے تخت پر آتے جاتے رہے کیونکہ یہی لوگ اپنے اپنے ادوار میں یہاں کے لئے صوبیدار کی تعنیاتی کیا کرتے تھے ، ،، ہندوستان میں فرخ سیر کو قتل کرنے کے بعد ، ان سادات باہہ نے شاہزادہ ابوالبرکات کو قید سے رہا کرکے تخت پر بٹھایا لیکن یہ بادشاہ صرف ساڈھے تین ماہ کی حکمرانی کے بعد نوجوانی میں ہی اس دار فانی سے کوچ کر گیا ، جب کہ اس کی عمر صرف بیس برس کی تھی ، اس کے عہد میں بھی کشمیر کی صوبیداری پر عنایت اللہ خان ہی رہا جس کا نائب صوبیدار کشمیر میں میر احمد خان بدستور حکمر انی کرتا رہا ،،،،مغلیہ سلطنت چونکہ زوال پذیر تھی اور اورنگ زیب عالمگیر کے بعد یکے بعد دیگرے حادثات ، فسق و فجور ، اور تخت پر حکمرانی کی وجہ سے شاہی خاندان میں قتل و غارت کا بازار مسلسل گرم رہا اور درجنوں شاہزادے اور تخت پر بیٹھنے کے باوجود بادشاہ بھی اپنی زندگیاں گنواتے رہے ، اس لئے کشمیر کی تاریخ میں ان نائب یا صوبیداروں کا بھی کوئی خاص کارنامہ مجھے کہیں نظر نہیں آتا ، سوائے اس کے کہ یہاں بھی کبھی ایک جگہ تو کبھی دوسری جگہ شورشیں بپا ہوتی رہیں ،، تاریخوں میں بھی بے شمار ان نائب صوبیداروں کے کہیں قابل ذکر کارنامے رقم نہیں ،،،