مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط: ۵۴)
اگر چہ مجھے ہندوستان کی تاریخ آپ تک پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں پھر بھی ان بادشاہوں کا مختصر تذکرہ لازمی ہو جاتا ہے جنہوں نے ملک کشمیر میں اپنے صوبیدار بھیج دئے اور جنہوں نے کسی نہ طرح ہندوستان کے تخت پر بیٹھ کر بادشاہی کی ، ،، فرخ سیر کے بعد شمس الدین ابو البرکات تخت نشین ہوئے اور تین ماہ گیارہ روز تک حکمرانی کی ، اس کے عہد میں نظامت کے فرائض کشمیر میں عنایت اللہ خان دیتے رہے ، اور میر احمد خان نائب صوبیدار رہے،، شمس کے بعد رفیع الشان ، شاہجہاں ثانی سادات کی معاونت سے دہلی میں تخت نشین ہوا ،اور ادھر صفی خان کی مدد سے عالمگیر کے بیٹے محمد اکبر کا لڑکا سلطان نیکو سیر قلعہ آگرہ میں تخت نشین ہوا ، سیدحسین ۔۔شاہجہاں ثانی کو ساتھ لے کر آگرہ پر حملہ آور ہوا ، خون ریز لڑ ائی کے بعد نیکو سیر کو شکست ہوئی اور اس نے قلعہ آگرہ پر قبضہ کیا ، لیکن موت نے اس بادشاہ کو مہلت نہیں دی اور صرف ۳ ماہ ۲۷ دنوں کی بادشاہی کے بعد اس دنیا سے جوانی میں ہی کوچ کر گیا ،، اس دور میں بھی ملک کشمیر پر بدستور عنایت اللہ خان کی طرف سے میر احمد خان ہی نائب صوبیدار ی کے فرائض انجام دیتا رہا لیکن اس سارے وقت کے دوران مجھے کشمیر کی تاریخ میں کوئی خاص واقعہ ایسا نظر نہیں آتا جو قلمبند کرنے کے قابل ہو ، نائب آتے بھی رہے اور جاتے بھی رہے اور جب خود ان صوبیداروں کے آقا بڑی تیزی سے سے تخت ہند پر آتے اور اتارے گئے کشمیر کی طرف کیسے توجہ دی جاسکتی تھی ، اس کے بعد سلطنت ہند پر ناصر الدین محمد شاہ غازی تخت نشین ہوئے جو اپنے پیشروؤں کے بر خلاف ۲۸ سال ۸ماہ اور دو روز تخت شاہی پر براجمان رہے ، اوریہ کسی بھی بادشاہ کے لئے تخت پر رہنے کی لمبی عمر ہی کہی جاسکتی ہے ، ،،اس بادشاہ کا نام روشن اختر تھا اور اپنی ماں قدسیہ بیگم کے ساتھ قید خانے ہی میں پرورش پائی ، ، کسی شاعر نے ان پر یہ کہا ہے ، روشن اختر بودا کنوں ماہ شد ،، یوسف از زنداں بر آمد شاہ شد ، اس سے بھی تخت نشین کرانے میں سادات بارہہ ہی کا ہاتھ تھا جنہوں نے اس سے پہلے بھی کئی بادشاہوں کو تخت نشین کرکے بڑی جلدی تخت سے اتارا ، بہر حال ناصر نے حکومت سنبھالی لیکن اس کی ماں کافی ذہین اور ملکی امورات سے واقف تھی اس نے سب سے پہلے اپنے بیٹے کو ان سادات بارہہ سے مکمل محتاظ رہنے کی ہدایت بھی کی اور در پردہ ان کی تباہی کے اسباب بھی پیدا کرنے شروع کئے ،، نظام الملک فتح جنگ کو دکن میں شورش پیدا کرنے کے اشارے دئے ،جس میں بہت سے سادات بارہہ مقتول ہوئے ، محمد شاہ خود بھی سید حسن علی خان کو ہمراہ لے کر دکن روانہ ہوئے لیکن راستے میں ہی سید حسن علی کا پیٹ چاک کیا گیا ، ، جس کے جواب میں سادات نے قاتل میر حیدر کی لاش کے ٹکڑے کئے اور جواب میں محمد امین بخشی کی فوج نے محمد شاہ کے اشارے پر سارے سادات کو کیفر کردار تک پہنچایا ، ، اب ترکی امرا کی رفاقت اور تعاون سے محمد شاہ با اختیار بادشاہ بن گیا ، محمد شاہ نے پہلے تو فہم و فراست سے حکومت شروع کی لیکن جلد ہی لہو و لعب کا عادی ہوکر امور ملکی سے غافل ہوا، ،، اسی اثنا میں نادر شاہ بادشاہ ایران نے محمد شاہ سے چار کروڈ روپیہ کا مطالبہ کیا جو شاہ طہماسپ ایران نے ہمایوں کو بطور امداد دی تھی ، محمد شاہ نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی اور آخر نادر خود لشکر جرار کے ساتھ سارے پنجاب کو روندتا ہوا پانی پت کے میدان میں خیمہ زن ہوا تو محمد شاہ رنگیلا کا نشہ ہرن ہوا ، خود استقبال کو آگے بڑھا ، صلح ہوئی،،اور نادر شاہ اس کے ساتھ دہلی میں داخل ہوا ، ، دہلی کے اندر آکر نادر شاہ کسی بات پر خفا ہوا ، اور اپنی افواج کو قتل عام کا حکم دیا ، چوبیس گھنٹے تک دہلی خاک اور خون میں لت پت ہوتی رہی ، اور سڑکیں اور گلی کوچے انسانی لہو سے لالہ زار بن گئے ، ، آخر ۲۸ سال کی حکمرانی کے بعد محمد شاہ اس دنیا سے کوچ کر گئے ، ان کے دورِ بادشاہی میں جو صوبیدار ملک کشمیر میں تعینات رہے ان کی تفصیل یوں ہے ،، عنایت اللہ خان، ایک سال ۳ماہ،، اس کی طر ف سے میر احمد خان نائب کے طور پر فرائض انجام دیتا رہا ،میر احمد خان فرخ سیر کے زمانے میں تین سال سے بھی کچھ زیادہ عرصے تک نائب صوبیدار رہا تھا ، لیکن اس بار جب انہوں نے ملکی امورات سنبھالے تو ایک عجیب طرح کے حالات سے دوچار ہوا ، ایک شیطان صفت انسان نے جس کانام تاریخ میں عبدالنبی آتا ہے ۔نے اپنے آپ کو محتوی خان کے نام سے مشہور کر رکھا تھا اور یہ شاہ عالم کے باریافتوں اور درباریوں میں سے تھا اس نے سارے کشمیر میں فتنہ و فساد کی ہولناک آگ بھڑکا دی جس کے شعلے بلند ہوتے رہے ، اس نے سب سے پہلے ہندو آبادی کے خلاف اپنا مورچہ سنبھالا بلکہ اس کے لئے میر احمد خان اور دوسرے عہدے داروں کو بھی آمادہ کرنے کی کوشش کی جس میں وہ ناکام رہا اور اس کے بعد اس نے اوباش ، اور آوارہ ، چور اچکوں کی ایک بہت بڑی جماعت منظم کی ، لیکن مجھے یہ قرین قیاس لگتا ہے کہ اس شخص نے اور بھی جنگجوؤں کو کسی طرح کے لالچ میں اپنے ساتھ ملالیا ہوگا اور اس کے بعد شہر کے محلوں پر حملے اور دھاوے بولنے لگا ، لوگوں کی جان و مال عزت و آبرو کوئی بھی چیز محفوظ نہیں رہی ، اس دوران کسی جگہ کوئی شخص پنڈتوں کو کھانا کھلارہا شاید کوئی ہون وغیرہ کی تقریب رہی ہوگی کہ محتون خان نے وہاں نازل ہوکر سب کچھ لوٹ لیا ، میر احمد کو اس خبر دی گئی لیکن اس سے پہلے ہی محتون خان نے ان سب لوگوں کو قتل کیا جنہوں نے یہ خبر پہنچائی تھی بلکہ ان کے گھر بھی جلادئے ، میر احمد اپنے گھر میں چوبیس گھنٹے ان آشفتہ سروں کا یر غمال رہا ۔کسی طرح وہاں سے نکل آیا تو اپنی فوج کے ساتھ محتون خان پر حملہ کیا لیکن گمان غالب آجاتا ہے کہ محتوں خان کے جھنڈے تلے ایک جمِ غفیر جمع رہا ہوگا جس نے میر احمد کو شکست سے دوچار کردیا ۔اور تکبر اور گھمنڈ کے ساتھ ہندو محلوں میں گیا ، جہاں انسانیت سوز اور شرمناک کارنامے انجام دئے جن میں کئی لوگوں کے کان اور ناکیں کاٹ دیں جو کسی بھی طرح جائز نہیں ، اور یہاں تک تصرف پایا کہ ہندو آبادی کی پشت پناہی میں میر احمد ہی کو معزول کرکے خود حکومت سنبھالی ، دراصل زمانہ ہی ایسا تھا کہ بادشاہ تک خبر پہنچنے میں بھی مہینوں لگ جاتے تھے ، دہلی میں بادشاہ کو خبر پہنچی تو فوراً ہی عبداللہ خان دہ بیدی کو میر احمد کا نائب بنا کر بھیجا ۔عبداللہ خان ۱۷۱۹؁ء سے ۲۰ تک ۵ماہ ۲۴ روز کشمیر کا نائب رہا لیکن محتوی خان کے فتنے کو فرد نہیں کرسکا ، اس لئے بادشاہ نے مومن خان کو اس کی جگہ پر تعینات کیا ، ، مومن خان کشمیر کے نزدیک پہنچا تو محتوی خان کو شاید تردد ہونے لگا اور شاید یہ سوچنے لگا کہ آخر بادشاہ کا لشکر ایک روز یہاں آکر اس سے چیونٹیوں کی طرح مسل کر رکھدے گا ، اس نے خواجہ عبداللہ رئیس کے گھر جاکر اپنے افعال پر شرمندگی کا اظہار کیا اور ان سے درخواست کی کہ ا ٓپ مومن خان کے استقبال کو جائیں اور دوسری طرف یہاں کے امرا اور روساء کو ان کا استقبال کرنے کا مشورہ دیں ، خواجہ عبداللہ نے محتوی خان کو میر بخشی سے بھی یہ درخواست کرنے کا مشورہ دیا ، میر بخشی نے اپنے گھر کے آس پاس اس کے لئے اپنے آدمیوں سے گھات لگوادی ، اور محتون خان کے دو بیٹوں کو ازیت ناک موت دی ، بدقسمتی سے قتل کرنے والوں میں زیادہ تر اہل تشیع تھے اس لئے ایک نیا فساد بپا ہوا ، جس نے سنی اور شیعہ فسادات کا رخ اختیا کیا ، جو دو روز تک جاری رہے اور اس لڑائی میں دونوں طرف کے تین ہزار سے زیادہ لوگ قتل ہوئے جس میں عورتیں اور بچے بھی تھے ،۱۷۲۰؁ء میں عبدالصمد خان سیف الدولہ نے کشمیر پر اقتدار حاصل کیا ، اور آتے ہی ، حکمت عملی سے ملا شرف الدین جو محتو خا ن کا بیٹا تھا کو قتل کیا ، اور اس کے ساتھ ہی اس کے معتقدوں کو طرح طرح کے مصائب میں مبتلا کرکے ان کی کمر توڈ دی ، ، اپنا دبدبہ قائم رکھنے اور فسادات کو ختم کرنے کے لئے ایک ہی دن میں نائد کدل سے خواجہ یاربل تک پچاس مفسدوں کو پھانسی پر چڑھایا ، جس سے ڈر اور خوف پیدا ہوا اور مفسد اپنی اپنی کمین گاہوں میں چھپ گئے ، اولین فرصت میں ہندو لوگوں کے حقوق بحال کئے ، انہیں مذہبی آزادی دی اور ان کے جان و مال کو محفوظ بنادینے کے بے شمار اقدامات کئے ،، دوسال پانچ ماہ تک اپنے فرائض بہ احسن خوبی ، نبھا کر نیابت ابوالبرکات خان و عارف خان نائب کو تفویض کر دی ،، اس طرح پہلی بار کشمیر میں دو نائب مقرر ہوئے جنہوں نے جلد ہی آپس میں سر پھٹول شروع کیا ، بڑی اور اہم بات ہے کہ ایک میان میں دو تلوارین نہیں سماسکتیں،، اس لئے دونوں کو صرف چھ مہینے کے بعد ہی اس اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑے ، اور اب ۷۲۲؁۱ء کو نجیب خان نے چارج سنبھالا ، اچھی طرح فرائض ایک سال تک انجام دیتا رہا ، اور اب اس کے صوبیدار عبدالصمد خان کا اقتدار انجام تک پہنچا ،۔۔ عبدالصمد خان کے بعد بادشاہ نے اعظم خان بہادر کو صوبیداری کی خلعت عطا کی ، اعظم خان نے پہلے عبداللہ خان دہ بیدی کو اپنا نائب مقرر کیا لیکن صرف ڈھائی مہینوں کے بعد ہی ۱۷۲۴؁ء کو خود بہ نفس نفیس کشمیر آکر نظامت سنبھالی ، ظاہر ہے کہ نائب صوبیداروں کی ایک بڑی استحصالی جماعت یہاں رہی ہوگی جن کا اقتدار ختم ہونے جارہا تھا اس لئے وہ بغاوت کی سازشیں رچانے لگے لیکن اعظم خان نے اپنی حکمت عملیوں سے ان سب کو مغلوب کردیا لیکن قسمت مہرباں نہیں رہی کیونکہ اسی زمانے میں قحط عظیم پیدا ہوا جس نے سارے ملک کی رعایا کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ، اعظم خان ایک سال کے بعد ہی واپس بلالیا گیا ، اور تیسری بار پھر شاہی خلعت ،کشمیر کی عنایت خان پر مہرباں ہوئی ، اور ایک سال کے لئے ۱۷۲۴؁ء سے ۲۵ تک فرائض منصب داری انجام دئے اور یہ کارنامہ کر دکھایا کہ ڈھائی سالہ قحط پر قابو پالیا ، عنایت اللہ خاں اپنی اقبال مندی کے باعث عالمگیری دربار میں بڑے بڑے عہدوں پر فائض رہا اگر چہ اس کی ماں نے شاہی محل میں زیب النسابیگم کی تر بیت کے لئے محل تک رسائی پائی تھی ، عنایت اللہ اپنے آداب مجلس ، وقت کی پابندی ، علم ، فہم و فراست میں ممتاز مانا جاتا تھا ، عنا یت ا للہ خان کے بعد عقیدت خان کشمیر کا صوبیدار مقرر ہوا جس نے ابوالبرکات خان کو اپنا نائب تعینات کیا ،یہ ابو البرکات کا دوسرا دور تھا جودو سال پرمحیط رہا ۱۷۲۵؁ء سے ۲۷ تک لیکن اس دوران سرکاری کام کی رفتار سست رہی ، ، شکایت بادشاہ تک پہنچی تو اس نے نائب کے ساتھ ساتھ صوبیدار کو بھی معزول کیا ۔