مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

رشید پروینؔ سوپور
(قسط: ۵۵)
عنا یت اللہ خان کے بعد ۱۷۲۵؁ء میںعقیدت خان نے کشمیر کی صوبیداری سنبھالی اور اس نے پھر ایک بار ابو البرکات خان کو اپنا نائب مقرر کیا ،لیکن دوسال کے بعد ہی بادشاہ نے نائب اور صوبیدار دونوں کو معزول کیا ، اور آغر خان نے صوبیداری کا منصب پایا ، آغر خان نے چھوٹی سی مدت تک عدل و انصاف سے کام چلایا لیکن بہت جلد ہی یکسر بدل گیا اور رعایا پر ظلم و جبر کے پہاڈ توڈنے میں کوئی کسر نہیں کی ، ابولبر کات خان ابھی کشمیر میں موجود تھا اس نے کوشش کی کہ آغر خان تشدد اور نا انصافی سے باز رہے ، لیکن ممکن نہیں ہوا ، محمد شاہ بادشاہ کے دربار تک فریاد تو پہنچی لیکن آغرخان کے کئی دوست دربار میں تھے جن میں ظفر خان بخشی اہم درباری تھے وہ فریادیوں کو محمد شاہ تک پہنچنے ہی نہیں دیتا تھا ، آخر عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا اور آغر خان کے خلاف بغاوت ہوئی ، اسی اثنا میں اس کے دوست ظفر خان بخشی کو وزیر نے جامع مسجد دہلی میں جوتوں سے مار کر ر سوا اور بے عزت کیا ، بخشی کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ مظلوم کشمیریوں کی آہوں کا اثر تھا اور فوراً ہی آغر کی معزولی پر آمادہ ہوا لیکن اس سے پہلے ہی عوام نے آغر کو بارہمولہ تک دھکیل دیا تھا ، ۱۳ رمضان ۱۱۴۱ھ ۱۷۲۸ ؁ء کوانہیں معزولی کا پروانہ وصول کیا ، ہمارے مشہور و معروف ، مورخ صوفی شریعت اور طریقت دونوں علموں پر دستگاہ رکھنے والے مورخ محمد اعظم دیدہ مر ی اسی زمانے میں پیدا ہوئے ہیں ، یہ ۱۶۹۱؁ء میں دیدہ مر سرینگر میں پیدا ہوئے اسی لئے انہیں دیدہ مری کے نام سے جانا جاتا ہے اور ان کی مشہور و معروف تاریخ ،، واقعات کشمیر ‘‘ ہے واقعات کشمیر میں انہوںنے خود ہی ، اپنا نام محمد اعظم ولد خیر الزماںان لکھا ہے اور ان کے والد دوران ملازمت اپنی دیانت ، امانت اور فہم و فراست سے عالمگیر کے خاص مصاحبوں میں شامل ہوئے تھے اور انہیں کچھ جاگیریں بھی ملی تھیں ، لیکن ملازمت سے فراغت کے بعد کشمیر آکر رہنے لگے، جہاں ان کے ہاں محمد اعظم پیدا ہوئے ، مختلف اساتذہ سے مروجہ تعلیم کے ساتھ ساتھ منطق، ادب اور دینیات کی تعلیم بھی اس وقت کے معروف اساتذہ جن میں آخوند ملا عبیداللہ ، شہید ملا ابوالحسن کلوہ داری اور عبدالرزاق خاص طور پر قابل ذکر ہیں ، کی شاگردی اختیار کی اور خدا داد صلاحیتوں اور قابلیتوں کی بنا پر ان علوم پر جلد ہی دسترس حاصل کی ، ، شاعری کا شوق ہوا تو مرزا نو رالدین شارقؔ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا ، اور پھر سولہ سترہ برس کی چھوٹی سی عمر میں ہی شیخ محمد مراد کے ارادت مندوں میں شامل ہوکر روحانی سر چشموں کی تلاش شروع کی ، اپنے اس شیخ کے علاوہ بھی زمانے کے بڑے معروف بزرگوں سے فیض حاصل کرتے رہے ، آخر ۱۷۶۵؁ء کو اس دار فانی سے کوچ کیا اور تاریخ ’’واقعات کشمیر کے علاوہ بھی ایک گراں قدر علمی سرمایہ اپنے پیچھے چھوڈا ، یہ واحد تاریخ ہے جس میں دیدہ مری نے صوفیائے کشمیر اور بزرگان دین کا تفصیلی تذکرہ ادوار کے ساتھ ایک ترتیب میں کیا ہے جو ان کے بعد آنے والے تاریخ دانوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوئی۔ اور تاریخ دانوں نے بہ کثرت واقعات کشمیر کا جابجا حوالہ دے کر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ تاریخ معتبر ، مستنند اور شک و شبہات سے بالاتر ہے ، اس تاریخ کی دوسری اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ ِاس میں اُس دور کے شعرا و ادبا کے حالات بھی درج ہیں جنہیں شاید ہی اورکسی اور تاریخ نے ریکارڈ کر رکھا ہو،،آغر خان کی معزولی کے بعد ۱۷۲۸؁ء میں امیر خان ناظم کشمیر مقرر ہوا ، اس نے بھی اپنی طرف سے ابو ا لبرکات خان کو نائب مقرر کیا ، یہ ا بو ا لبر کات خان کی تیسری باری تھی ، دوسال تک حکومت کے بعد ۱۷۳۰؁ء میں احترام خان کے لئے جگہ خالی کی ، ،، احترام خان کے آتے ہی قحط سالی جیسی صورت حال پیدا ہوئی اور غلے کی قیمتیں آسمانوں کو چھو نے لگیں ، لوگوں نے احترام خان سے فریاد کی کہ غلہ داروں نے غلہ چھپاکر رکھا ہے ، تو اس ناواقبت اندیش حکمران نے لوٹ مار یعنی غلہ لوٹنے کی اجازت دی جس کی وجہ سے افراتفری ۔ماردھاڈ اور لوٹ مارکا بازار گرم ہوا ، فضیلت خان اور محمد اشرف جو اس ڈیپارٹمنٹ کے منتظم تھے اور جنہوں نے نرخوں پر قابو پانے میں غفلت برتی تھی، انہیں فسادیوں نے گرفتار کیا اور جامع مسجد میں قتل کیا ، ابوالبرکات خان کو ان حالات اور احترام خان کی کم عقلی پر بہت افسوس ہوا ، ان ہی دنوں جمعہ کے روز احترام خان ادائے نماز کی خاطر جامع مسجد پہنچا لیکن ا بو البرکات خان نے جمعہ ادا کرنے کے لئے خانقاہ معلیٰ کی راہ لی ، اس بات پر احترام خان کا شک بڑھ گیا اور وہاں سے ہی ایک جمیعت کے ساتھ ابوالبرکات پر حملہ کیا لیکن عوام کی ایک بڑی تعداد جو نماز کے لئے آئی نے ابوالبرکات کا ساتھ دیا اور احترام خان کسی طرح مشکل سے جان بچاکر ہندوستان بھاگ گیا ، امیر خان ناظم کشمیر کو اس بات کا پتہ چلا تو احترام کو معزول کر کے ابوا لبرکات کو مستقل قائم مقام بنادیا ، اس طرح سے ابوالبرکات خان چوتھی بار کشمیر کا نائب صوبیدار ۱۷۳۰؁ء میں مقرر ہوا ، اسی سال راجہ ہیبت خان والئی مظفر آباد نے بغاوت کا جھنڈا بلند کیا اور علاقہ کامراج کو تخت و تاراج کرنے لگا ، علاقہ کامراج میں سارا شمالی کشمیر ہے جس میں سویا کا بسایا ہوا شہر سوپور بھی ہے جس مٹی کی بو باس اس خاکسار میں بھی ہے ،،، دوسری طرف شاہی فوج میر جعفر کنٹ کی سر براہی میں سرینگر سے نکل آئی اور موضع گنگل میں میدان کار زار گرم ہوا ، میر جعفر کنٹ نے ہیبت سے صلح کی ، شاید یہی وجہ تھی کی ابوالبرکات نے میر جعفر کے سرینگر پہنچنے پر اس کا استقبال نہیں کیا ، میر جعفر اتنی سی بات سے خفا ہوا اور پسِ پردہ بمبہ (پہاڈی لوگ ) کو پھر حملہ کرنے کی تر غیب دی ، اور یہ لوگ پھر کامراج پہنچ کر غارتگری میں مصروف ہوئے ، ابوالبرکات نے پھر ایک بار میر جعفر کنٹ کوہی بغاوت فرد کرنے کی ذمہ داری سونپی اور اس کے ساتھ اپنے بیٹے کوبھی میدان جنگ کی طرف بھیجا ، بارہمولہ پہنچتے ہی منصب داروں کے رنگ بدل گئے ، اور میر جعفرکنٹ نے اپنا جال پہلے ہی سے بھن رکھا تھا اس لئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی ابوالبرکات کے خلاف باغی ہوگئی، چناچہ میر جعفر اور عوام نے شہر کے تمام پل جلاڈالے اور بغاوت کا جھنڈا بلند کردیا ،، فریقین کے مابین لڑائی شروع ہوئی تو ابوالبرکات نے شہر کو آگ لگادی جس میں اندازے کے مطابق بیس ہزار گھر خاکستر ہوئے۔یہ لڑائی تین ماہ تک مسلسل چلتی رہی ، اس دوران اور بھی کئی محلے خاکستر ہوئے، نتیجے کے طور پر شہری اور منصب دار جنہوں نے بغاوت کی تھی تھک چکے تھے اور ان کا جوش بھی ٹھندا پڑ چکا تھا ، ابوالبرکات کشمیر سے پونچھ پہنچا وہاں سے عبدالرزاق چوہدری اور دیگر اہل پونچھ سے مدد لی ، اور سیدھا کشمیر پہنچا ۔ جعفر نے بھی برکات خان کے بھتیجے امانت خان کو اپنے ساتھ ملالیا ، ۱۷۳۷؁ء کو پھر میدان کارزار گرم ہوا لیکن اس بار ابوالبرکات کو شکست ہوئی ، وہ لاہور کی طرف بھاگا ۔ اس کے گھر کو آگ لگادی گئی اور سازو سامان لوٹ لیا گیا ، ، لیکن کشمیر کا نیا صوبیدار دلیر خان مقرر ہو چکا تھا جس نے اپنی طرف سے ابوالبرکات کو ہی نائب مقرر کر رکھا تھا لیکن اس کی شکست کے بعد جلیل الدین خان نائب مقرر ہوا تھا جو صرف آٹھ ماہ کی مدت ہی پوری کرسکا ، میر جعفر اور مفسدوں نے کشمیر کے امن و اماں کو غارت کر ہی دیا تھا اور کہیں پر بھی کوئی حکومت نظر نہیں آرہی تھی ، ،ان حالات پر جب قابو پانا مشکل ہوا تو نائب صوبیدار نے محمد شاہ کو تما م حالات سے بذریعہ خط آگاہ کیا ، ان ہی دنوں دلیر خان بھی فوت ہوا، اور پروانہ صوبیداری فخر الدولہ کے نصیب میں ۱۷۳۸؁ء میں آیا ، اس نے اپنا نائب قاضی خان کو مقرر کیا لیکن تھوڈے ہی عرصے کے بعد خود بھی وارد کشمیر ہوا ، کچھ ہی مدت کے دوران فتنوں اور فسادات کو کچل دیا اور ملکی امورات میں مصروف ہوا ، لیکن کئی معاملات میں نا انصافی سر زد ہوئی ، لیکن یہ کام ضرور کیا کہ میر جعفرجو کامراج کے علاقے میں موجود تھا ،اس پر فوج کشی کی ،اس کا زور توڈ دیا وہ علاقہ کھوئہامہ بھاگ گیا جہاں اس کی موروثی زمین تھی ، ، فخر الدولہ بھی صرف نو مہینے کے بعد ہی نظامت سے محروم ہوا ، ،، اس کے بعد عنایت اللہ خان ناظم کشمیر مقرر ہوا ، آپ کو یاد رہے کہ یہ عنایت اللہ اسی عنایت خان کا بیٹا تھا جس نے کئی بار کشمیر میں صوبیداری کے فرائض انجام دئے تھے ، اس کا نام عطیہ اللہ خان تھا لیکن بادشاہ نے اس سے عنایت اللہ خان کا خطاب دیا تھا یہ صاحب فخر الدولہ کے بعد۱۷۳۹؁ء کو اس خلعت سے سر فراز ہوا اس نے عصام الدین خان کو اپنا نائب بناکر یہاں بھیجا لیکن فخر الدولہ نے اس سے جعلی نائب سمجھ کر گرفتار کیا ، اس سے بہت ساروپیہ جرمانے کی صورت وصول کر کے خود قاضی خان کو نائب مقرر کرکے دہلی روانہ ہوا ، ، یہاں عصام الدین خان نے قاضی کو پسپا کرکے اقتدار سنبھالا ، اس دوران نادر شاہ دہلی آچکا تھا ، اور فخرالدولہ نے نادر شاہ کے امیروں وزیروں کو شیشے میں اتار کر اپنے نام کشمیر کی صوبیداری کے احکامات جاری کر وائے ، کشمیر بڑے کروفر اور شان و شوکت کے ساتھ واپس آیا اور نادر شاہ کا سکہ اور خطبہ جاری کرنے کی کوشش کی کی ، لیکن عوام نے اس سے ناپسند کیا اور نئے سرے سے فسادات کا سلسلہ شروع ہوا ، اسی اثنامیںمحمد شاہ اور نادر شاہ کی صلح ہوئی اور صوبہ کشمیر پر مغلیہ خاندان کی بادشاہی بر قرار رہی اور یہاں کی نظامت پر بھی عنایت اللہ خان ثانی کی نظامت بر قرار رہی ، فکر الدولہ کو عوام نے شہر بدر کیا لیکن کچھ مفسدوں نے اس کا ساتھ دیا اور ہفت چنار میں خیمہ زن کیا ، دو مہینوں تک وہ ان اطراف میں تباہی اور آگ زنی کا مرتکب ہوتا رہا ، دو مہینے تک یہ سلسلہ چلتا رہا اور آخر تنگ آکر فخر الدولہ میدان چھوڈ کر بھاگ گیا ۔عنایت اللہ خان خود بھی کشمیر وارد ہوا ، اور بہ اتفاق رائے ابوالبرکات خان مزید چھ مہینے تک ملکی امورات دیکھنے لگا ، ملکی حالات بڑی حد تک ٹھیک ہوئے ، لیکن ابو البرکات کے من میں کچھ اور ہی سمائی کہ اس نے رو گردانی اختیار کی ، ایک موقعہ پر جامع مسجد کے باہر بھی فریقین میں لڑائی ہوگئی ، اور یہاں ابو البرکات کے حامیوں نے عنایت اللہ پر غلبہ حاصل کیا عنایت کہیں چھپ گیا اور اس کا بیٹا خلعت خان سوپور کی طرف بھاگ نکلا ، ،اڑھائی مہینوں کے بعد خلعت خان نے ہیبت خان بمبہ کے بیٹے سے مدد لے کر بمقام ہارہ ترٹ میدان جنگ سجایا، یہاں ابو البرکات کو شکست ہوئی ،، اور عنایت خان تخت پر بیٹھا ، برکات پونچھ پہنچا اور کمک لے کر اچانک ہلہ بولا ، خلعت خان بھی فوج لے کر میدان جنگ میں آیا لیکن اس کی افواج ابوالبرکات سے جاملی اور خلعت کو کو راہ فرار اختیار کرنا پڑی ، خام پور کے راستے سوپور پہنچا اور یہاں سے دونوں باپ بیٹے راجہ محمود خان بمبہ کے پاس پہنچے ۔