مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

رشید پروینؔ سوپور
(قسط: ۵۶)

اقتدار اور طاقت وقوت ، تخت شاہی ،کے لئے مسلسل انتشار اور اضطراب کا تاریخ میں پایا جانا کوئی انہونی بات نہیں ، اس طرح کشمیر کی صوبیداری اور نائب صوبیداری پر بھی کشمکش اور چال بازیاں لازم و ملزوم بنتی ہیں ،، عنایت خان اپنے بیٹے کے ساتھ راہ فرار اختیار تو کرگیا لیکن گوجر علاقے میں بمبوقبیلہ کے لوگ اس کے ارد گرد جمع ہوگئے ، جو ایک بار پھر علاقہ کامراج میں داخل ہوئے اور یہاں لوٹ مار مچانے لگے ، سرینگر میں ابوالبرکات راج کر رہا تھا ، آخر دونوں میں صلح ہوئی اور عنایت خان پونچھ اور ابوالبرکات کی دعوت پہ سرینگر آیا ، تاریخ میں دونام یوں ہیں محمد زماں اور محمد ولی،،انہوں نے اپنے ایک نوکردیا رام کے ہاتھوں سے عنایت خان کو رات کو نیند کے دوران قتل کیا ،، دو تین مہینوں تک ابو البرکات حاکم رہا اور اس کے بعد بادشاہ محمد شاہ کی طرف سے اسعد یا رخان ۱۷۴۱؁ء میں صوبیدار مقرر ہوا ،ابو البرکات بدستور نائب رہا ، لیکن پونچھ جنہوں نے برکات کی مدد کی تھی نے اپنی ریشہ دوانیاں جاری رکھیں اور امن و اماں بگاڈنے میں پیش پیش رہے ، دو بار انہیں برکات نے شہر بدر تو کیا لیکن ان کی طاقت کے سامنے بے بس ہی رہا، اور آخر ایک روز ان لوگوں نے ابوالبرکات کے محل پر ہلہ بولا لیکن خوش قسمتی سے برکات اس وقت خانقاہ معلیٰ میں تھا ، اس حملے کی سر براہی ولی محمد اور اور محمد زماں ہی کر رہے تھے ، برکات کو پتہ چلا تو فوراً اپنی جمیعت کے ساتھ اپنے محل کا معاصرہ کیا جس کے اندر مفسد جمع ہوئے تھے ، برکات کی اقبال مندی ہی تھی کہ یہ دونوں معہ دیا رام کے گرفتار ہوئے ، قتل ہوئے اور برکات نے اہل پونچھ کا قتل عام کیا ،اس طرح سے عنایت خان کا قصاص بھی لیا اور سارے مفسد وں کا قلع بھی قمع ہوا ،،۔محمد شاہ نے اس کاروائی پہ برکات کو۔بہادری کا خطاب دیا ،،اور برکات بے خوف و خطر اقتدار پر براجمان رہا ، تھوڈی ہی مدت کے بعد ابوالبرکات بیمار ہوا ، ، بیر اللہ بیگ جو برکات کا قریبی اور خاص ساتھی تھا ،نے ۔۔علم ِ بغاوت بلند کی ، برکات بیمار اور خود لاچار تھا ، بیگ کے ساتھ پونچھ اور مظفر آباد کے مفسد بھی آملے اور لوگوں کا مال و اسباب لوٹنے لگے ، سرینگر میں اہل تشیع کو اپنے ساتھ ملالیا اور سنیوں پر زمین تنگ کر دی ، ، ابوالبرکات نے بستر سے حرکت کی ، اور بیراللہ بیگ کامراج کی طرف بھاگ کھڑا ہوا یہاں ،برکات سے ایک بڑی خطا سرزد ہوئی کہ جڈی بل پہنچ کر اس کے مدد گاروں کو سزا دینے کی خاطر ہلہ بولا ، لوٹ مار مچادی ، بیراللہ خان نے قلعہ اندر کوٹ میں پناہ لی ، برکات نے اپنی فوج مراد باز خان کی سر براہی میں بھیج دی اور شادی پورہ اور اندر کوٹ کے مابین میدان کار زار گرم ہوا ، یہ شادی پور اور اندر کوٹ سرینگر بانڈی پورہ شاہراہ پر واقع ہیں ، برکات نے مراد باز کی سر کردگی میں بڑی فوج بھیج دی لیکن مراد باز اچھا اور قابل سپاہ سا لار ثابت نہیں ہوا جس کی وجہ سے اس فوج میں بھگڈر مچ گئی ، فوج نے ہمت ہاری اور بھاگتے ہوئے دریائے جہلم میں چھلانگیں لگا کر غرق ہوئے ، بہت کم فوجی اپنی جانیں بچا سکے، اس واقعہ سے بیر اللہ خان کے حوصلے بلند ہوئے ، پہاڈوں اور پونچھ سے جو لوگ برکات کی مدد کے لئے آئے تھے انہوں نے بھی بدلتے رنگ کے ساتھ اپنے مفادات وابستہ کئے اور بیراللہ کے ساتھ منسلک ہوگئے ، ابوالبرکات خواجہ مرزائی نقشبندی کے ہاں پناہ گزین ہوئے تو چند اوباشوں نے اس کا پتہ لگایا اور اس سے بیراللہ کے حوالے کردیا، برکات کو نظر بند کیا گیا ، ، جب یہ خبر دلی پہنچی تو بادشاہ نے اسعد یار خان کو معزول کر کے ابوالمنصور خان بہادر صفدر جنگ کو نظامت کشمیر پر فائض کر دیا ، اس مرتبہ ابوالبرکات نے چار سال تک اسعد یار خان کی نیابت میں کشمیر پر حکومت کی ، ،، ۱۷۴۵؁ء کو صفدر جنگ نے کشمیر کی نظامت پاکر اپنی جانب سے جان نثار خان بہادر شیر جنگ کو منصب نیابت پر سر فراز کیا ، خان بہادر صفدر جنگ نے کشمیر پہنچ کر میدان عید گاہ میں قیام کیا ، اس کے بعد حکمت عملی سے کام لے کر ابوالبرکات کو قید سے نکالا اور اس سے بادشاہ کے پاس بھیجا ، ، پھر باغیوں کی گوشمالی شروع کردی ، اور ان کے سر غنہ بیراللہ خان جو کمراز کی طرف بھاگا تھا ، کو بلاکر اپنی ملازمت میں رکھا ، لیکن بہت جلدہی اس سے فتنہ پردازی کی پاداش میں ایک ملاقات میں بے خبری سے اس کا قتل کیا اور اس کا سر کاٹ کر بادشاہ کو بھیج دیا ، اس کے بعد مفسدوں کی کمر ٹوٹ گئی اور چھ مہینوں کے اندر جان نثار خان امن و اماں بحال کرنے میں کامیاب ہوا ، لیکن پوری طرح سے مفسدوں کا خاتمہ نہیں ہوا ،۱۷۴۶؁ء میں افراسیاب بیگ خان نائب صوبیدار مقرر ہوکر آیا ، یہ د ور حکومت مسلسل مصائب اور پریشانیوں کا دور رہا ، ایک طرف بد امنی اور دوسری طرف سے ملک کشمیر کو پھر ایک بار سیلاب کی آفت نے آگھیرا ، غلہ نایاب ہوا ، قیمتیں عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوئیں ، اور اس طرح پھر ایک بار کشمیری عوا م نے اپنے بچوں اور بچیوں کو سستے داموں فرو خت کردیا تاکہ پیٹ کی آگ بجھا سکیں ، ، محمد دین فوق نے لکھا ہے کہ لوگ ، کتے ، بلیاں کھانے پر مجبور ہوئے اس دوران ایک تہائی آبادی بھوک سے لقمہ اجل بنی ، اور ایک تہائی کشمیر سے ہجرت کرگئی اور اور ایک خاصی بڑی تعداد سیلاب میں ختم ہوئی ۔،سات ماہ تک یہی حالات رہے، آخر نئے سال کی فصل نے عوام کو راحت دی ، اسی دوران خواجہ علاوالدین نقشبندی اور حاجی عتیق اللہ قادری ملارٹی نے غلہ داروں پر ہلہ بول دیا ،افراسیاب بیگ نے ان کے خلاف فوج کا استعمال کیا، دوسرے روز نائب ناظم نے مصالحت کی حکمت عملی اختیار کی اور نقشبندی کو دربار میں بلایا ، حاجی عتیق اللہ کو بھی گرفتار کیا گیا ،اور درشت کلامی پر قتل کیا گیا ، ان ہی دنوں مرحوم ابو البرکات خان کا داماد میر عمر اپنے نانا محتشم بیگ کے ہاں موضع میرپرگنہ کھاور پارہ آکر رہنے لگا ، لیکن جلد ہی خودسری سمائی اور چند اوباشوں کو اکٹھا کرکے اسلام آباد کے تھانے دار کو قتل کیا ، افراسیاب بیگ نے اس کا نوٹس لیا تومحتشم بیگ اور اس کے بیٹوں کو قتل کیا اور میر عمربھاگ کر کشتواڈ پہنچا ، دوسرے سال پھر قحط سالی کی مصیبت آگئی ، اس کے ساتھ ہی ایک روز ایسی آندھی چلی ، اندھیرا چھا گیا اور دن میں ہی چراغ جلانے پڑے ،، اس کے بیس دن بعد بارشیں شروع ہوئیں، سیلاب آگیا اور اس سیلاب میں لگ بھگ بیس ہزار مکانات بہہ گئے ، ۱۷۴۷؁ء میں نادر شاہ آدھی رات کو اپنے خدمت گاروں کے ہاتھوں سازش کے تحت قتل ہوئے ، ،احمد شاہ ابدالی اس کے مصاحبوں میں تھا ، وہ فوراً اپنی قوم کے پانچ ہزار سپاہیوں کے سمیت حمہ آور ہوا ، پہلے نادر شاہ کے قاتلوں سے انتقام لیا اور پھر عنان حکومت اپنے ہاتھوں میں لی،کشمیر میں یہ خبر پہنچی تو فسادیوں کو پھر ایک بار فساد برپا کرنے کا موقع ہاتھ آیا ،اہلیان کشمیر نے احمد شاہ ابدالی سے اپنا ناظم بھیجنے کی درخواست کی ، یہ مکتوب کسی طرح افراسیاب کے ہاتھ لگا ، ۱۷۱۷؁ء کو عصمت ا للہ خان اپنے ہمراہیوں کے ساتھ وارد کشمیر ہوا دوسری طرف افراسیاب بھی اپنے سپاہیوں کے ساتھ مقابلے کے لئے نکلا ، کریوہ چیر میں دونوں فریقین کے درمیان جنگ چھڑ گئی ، اس لڑائی میں افراسیاب فتح یاب ہوا لیکن اہلیان کشمیر نے عصمت ا للہ خان کا حوصلہ بڑھایا اور وہ نئے سرے سے دریائے جہلم کے کنارے موضع آنچار جا پہنچا ،یہاں بھی افراسیاب نے مقابلہ کیا لیکن اس بار ناکام ہوا اور عصمت ا للہ خان فاتح ہوکر سرینگر کی طرف چل پڑا لیکن محلہ نوشہرہ پہنچ کر کسی شکست خوردہ سپاہی نے دیوار کی اوٹ سے اس پر گولی چلائی اور اس کا کام تمام کردیا ، افراسیاب خان نے باقی فوج کا تعاقب کیا ، عصمت ا للہ خان کی لاش صورہ کے راستے میں کہیں دفن کی گئی ، اس کے بعد ۱۷۴۸؁ ء کو محمد شاہ کا انتقال ہوا اور اس کا بیٹا احمد شاہ تخت نشین ہوا اس کے ساتھ ہی محمد شاہ کی نظامت بھی کشمیر میں ختم ہوئی ،،،محمد ابولنصر مجاہد الدین احمد شاہ تخت نشین ہوا ،،اس کے دور میں ابو المنصور خان بہادر صفدر جنگ کشمیر کی نظامت پر مامور ہوئے ، یہ ۱۷۴۸؁ء سے ۱۷۵۳؁ تک صوبیدار رہے ان کے زمانے میں افراسیاب بیگ ، احمد علی خان ۔ملک حسن ایرانی اور آلہ قلی خان نائب صوبیدار کشمیر رہے ،،افراسیاب بیگ ۔خان محمد شاہ کے عہد میں متواتر نائب ناظم رہا اور بڑی حد تک تمام فسادات کا قلع قمع کیا ، لیکن ناظم پشاور عصمت اللہ خان کا بدلہ لینے کی فکر میں تھا اور آخر طالب علی خان کو اپنے ساتھ ملا لیا جو کہ افرا سیاب کا قریبی رشتے دار بھی تھا اور اسی نے آخر زہر دے کر افراسیاب کی زندگی کو خاتمے تک پہنچایا ، بوالمنصور خان نے افرا سیاب کی موت کے بعد اس کے بیٹے جو کہ کمسن تھا ناظم مقرر کیا ، اور خود ہی اس کا سرپرست ملک حسن کو مقرر کیا ، لیکن شاہی کہانیوں کی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے جب یہ کم سن اپنے باپ کی فاتحہ خوانی کے لئے جارہا تھا تو اپنے ہی محسن اور گارڈین ملک حسن نے اس سے قتل کروایا اور اس کی لاش سرینگر لاکر کہیں مٹی کے نیچے چھپا دی ، ملک حسن نے خود ہی نیابت سنبھا لی ،، لیکن صرف دو مہینوںٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ کی نیابت کے بعد ہی ملک حسن کو معزول کیا گیا ، ،احمد شاہ نے آلہ قلی خان کے نام پروانہ بھیجا لیکن صرف پانچ ماہ تک ہی نیابت پر فائض رہا لیکن اس نے میر مقیم کنٹھ کو اپنا نائب مقرر کیا تھا ، پانچ مہینوں کے بعد ابو البرکات خان کے بیٹے ابو القاسم نے جو محلہ قلاش پورہ میں بیٹھا تھا کچھ منصب داروں کی مدد سے شورش برپا کی اور اپنے بھائی نور الدین خان کو نواکدل کے راستے پر مامور کیا اور خود جمیعت لے کر نالہ مار کے راستے محلہ دیدہ مر میر مقیم کے محل پر ہلہ بول کر میر کے گھر کو آگ لگادی ، مال و اسباب لوٹ لیا اور میر مقیم کسی طرح جان بچا کر علاقہ کھوئہامہ بھاگ نکلا ، ابو القاسم نے دہلی کے ساتھ ناطہ توڈا اور خود مختار حکمرانی شروع کی ۔۔ لیکن میر مقیم کنٹھ اور خوجہ ظہیر الدین نے احمد شاہ ابدالی کو کشمیر فتح کرنے کی ترغیب دی جب وہ لاہور میں مقیم تھا ، احمد شاہ ابدالی نے ۱۷۵۳؁ء میں عبداللہ خان ایشک اقاصی کو پندرہ ہزار چنیدہ سپاہیوں کے ساتھ کشمیر روانہ کیا ایشک جب لشکر کے ساتھ راجوری پہنچا تو قاسم نے اپنا وکیل بھیج کر ایک لاکھ روپیہ نذرانہ دینے کی پیش کش کی ، لیکن دو ماہ تک یہ روپیہ نہیں بھیجا ،اور اس دوران خواجہ ظہیر کو جیل میں قتل کر وایا ،ایشک فوج لے کر شوپیاں پہنچا ،بمقام گنڈنعمت میدان کار ذارگرم ہوا ، پندرہ روز تک جنگ جاری رہی ، آخر ابوالقاسم کا سپاہ سالار گل خان عبداللہ ایشک سے جا ملا ،اور قاسم حوصلہ ہار کر بھاگ نکلا ، لیکن گرفتار ہوا ، بعد میں ایشک اس سے احمد شاہ کے دربار لایا جہاں وہ اپنی لیاقت اور ہمت کی بنا پر مقبول نظر تو ہوا لیکن کچھ ہی مدت بعد انتقال کر گیا ،،، مملکت کشمیر اس بار شاہانِ افغانہ کی زنجیروں میں قید ہوئی ،،،اور مغلیہ چراغ ہمیشہ کے لئے کشمیر میں گل ہوا ۔