مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

رشید پروینؔ سوپور
(قسط: ۵۷)
عبداللہ خان ایشک اقاصی ،احمد شاہ ابدالی کا نظام بن کے یہاں فاتحانہ سرینگر کے اندر داخل ہوا تو ، مغلیہ چراغ ہمیشہ کے لئے گل ہوا اور چراغ افغانہ جلنے لگا جس کی تپش ، تمازت اور حدت نے گلستان کشمیر کو ریگستانوں کی پہچان دی ، لیکن مختصر سا تذکرہ پہلے احمد شاہ کا ، جب نادر شاہ خراساں کی تسخیر کے بعد ہرات پہنچا تو یہاں اس کا پوتا احمد خان ابدالی اس کی ملازمت میں آگیا ، لیکن اپنی اقبال مندی اور اوصاف کی بنا پر بہت جلد ہی نادر شاہ کا چہتا بن گیا ، اور دھیرے دھیرے نہیں کہا جاسکتا بلکہ بڑی تیز رفتاری کے ساتھ نادر شاہ کے دل میں ٹھکانہ بنالیا ، اور نادر شاہ کو احمد ابدالی سے اتنا پیار ہوا کہ اس سے ہر وقت اپنے ساتھ ساتھ رکھنے لگا ، اس دور میں نادر شاہ کا قول رہا کہ ، ’’من در ایران و توران و ہندوستان ہیچ کسے احمد خان نیک محضر ندیدم ‘‘ اس سے ظاہر ہے کہ نادر شاہ احمد ابدالی کو کس قدر عزیز رکھتا تھا ، لیکن اس کے بعد ایک دن جب احمد اس کے سامنے تھا تو اچانک نادر نے بے ساختہ احمد کو مخاطب کیا ، یہ اس کا اندازہ تھا ، الہام تھا یا اس کی پیش گوئی تھی ، لیکن اس کی اپنی جگہ پر بڑی اہمیت ہے برجستہ کہا ،، ’’اے احمد خان این سخن یاد داری کہ بعد از من مالک ایں سلطنت تو باشی ،در آن وقت حقوق نعمت من یاد داری و فرزنداں مر ادر کتف حمایت خود نگہداری ‘‘ ظاہر ہے کہ نادر شاہ ابدالی میں نہ صرف مستقبل کا شہنشاہ نظر آتا ہے بلکہ اپنے بچوں کو بھی اس کے سپرد کر کے اس سے ان پر مہربانی و شفقت برتنے کی در خواست کرتے ہیں ،،اور یہ حرف بہ حرف سچ ثابت ہوا جب ا چانک نادر محلاتی سازش میں قتل کیا گیا تو احمد نے اپنی فوج سے پہلے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا اور اس کے بعد نادر کی سلطنت پر حکمرانی شروع کی ، ۱۷۴۷؁ء میں نادر کا قتل ہوا تھا ، لاہور سے عبداللہ خان ایشک اقاصی کو کشمیر بھیجا گیا ، کشمیری سادہ لوح لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ زالچو خان کے قتل عام کے بعد مغلوں کی حکمرانی اللہ کی رحمت ثابت ہوئی تھی ، اور اب افغانہ حکمرانی بھی کچھ اسی ڈھنگ سے شروع ہوجائے گی ، لیکن یہاں پہنچتے ہی کشمیری کو احساس ہوا کہ وہ چکی کے دو پاٹوں میں پسنے کے لئے ڈالے جاچکے ہیں کیونکہ اقاصی نے کشمیر پہنچ کرذالچو خان کی یادوں کو نہ صرف تازہ کیا بلکہ انہیں یہ بھی احساس ہوا کہ مغل حکمران کے صوبیدار اپنی خامیوں کے باوجود انصاف پسند اور رعایا پرور رہے تھے ، اقاصی نے جرمانوں کی صورت لوٹ مار شروع کی ، بڑے بڑے اقابرین پر نہ صرف جرمانے عائد کئے بلکہ کچھ کو عذاب دے دے کر قتل کیا اور کئی ذی عزت لوگ مجبور ہوکر خود کشی پر مجبور ہوئے ،تمام مملکت میں واویلا بلند ہوا اور عبداللہ خان ایشک پانچ ماہ کے بعد جفا کا بازار گرم کر کے عبداللہ خان کابلی اور سکھ جیون مل کو منصب سونپ کر خود ایک کروڈ روپیہ کے ساتھ کشمیر چھوڈا ،،عبداللہ خان کو منصب صوبیداری پر ابھی چار ہی ماہ ہوئے تھے کہ اپنے ساتھی سکھ جیون مل نے اس سے ابو الحسن بانڈے کے ساتھ سازش کا شکار بنا کر اس سے اور اس کے بیٹے دونوں کو موت کے گھاٹ اتارا ، ۱۷۵۴ ؁ء سے سکھ جیون مل نے حکمرانی شروع کی اور اپنے مدد گار ابو الحسن بانڈے کو منصب مدارامہامی دیا ، احمد شاہ ابدالی نے عبداللہ خان کے قتل کا حال سنا اور سمجھ بیٹھا کہ سکھ جیون اسی کا آدمی اور وفادار ہے اس لئے کوئی کاروائی نہیں کی اور پراوانہ منصب داری بھی اسی کے نام جاری کیا ، ساتھ ہی خواجہ کیچک کو اپنا نائب بناکر بھیجا ، جو سکھ جیون کو ناگوار تو گذرا لیکن خاموش رہا ، لیکن تھوڈی ہی مدت کے بعد احمد شاہ نے سکھ جیون سے کچھ تحایف اور کسی رقم کا مطالبہ کیا تو سکھ جیون نے بہانے بنائے اور خود جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہوا ، اس نے خواجہ کیچک اور احمد شاہ کے دوسرے وفاداروں کو بھی ہم خیال بنانے کی کوشش کی لیکن وہ اس جھانسے میں نہیں آئے اور چند ہزار سپاہیوں کے ساتھ بارہمولہ میں ڈٹ گئے ،، سکھ جیون نے فو راً ہی ان کا تعاقب کیا اور یہاں میدان کار زار گرم ہوا جس میں ملک حسن اعظم اور میرہ خان مقتول ہوئے جو احمد شاہ کے قریبی تھے ، اور خواجہ کیچک مغلوب ہوکر جلا وطن کئے گئے ، خواجہ کیچک کی واپسی پر احمد شاہ ابدالی نے پھر ایک بار اقاصی کو تیس ہزار کی لشکر کے ساتھ سکھ جیون کی گوشمالی کے لئے بھیجا ، اقاصی نے بغیر کسی معقول منصوبے کے موسم سرما میں کشمیر پر حملہ کیا ، برفباری ، دشوار گذار راستے ، اورکڑاکے کی سردیاں موسم سرما کا زیور کہلاتی ہیں اور کسی بھی کمانڈر کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ یہ بلند و بالا پہاڈ مخالف فوج کے بغیر بھی اس موسم میں کسی بھی بڑی فوج کو شکست دے سکتے ہیں ، اس لئے جب اس موسم میں اس افغانی فوج نے حملہ کیا تو سکھ جیون انہیں شکست دینے میں بڑی آسانی سے کامیاب ہوا ، ، ،۱۷۵۵ ؁ء میں یہاں پھر ایک بار قحط کے آثار نمایاں ہوگئے ، آپ ان قسطوں میں سیلاب اور قحط سالی کے بارے میں مسلسل پڑھتے رہے ہیں اور تاریخ کے ہر موڈپر وقفے وقفے کے بعد یہ دونوں ’’سیاہ دیو‘‘ اس وادی میں وارد ہوکر انسانی جانوں اور مال و جان کا اتلاف کرتے رہے ہیں ،،دو ڈھائی سال تک سکھ جیون نے اور ابو الحسن ملکی امورات متحد ہوکر چلاتے رہے لیکن مفسدوں نے پھر ایک بار وہی دراڈ والے فارمولے کو آزماکر ان دونوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا ، بلکہ اس بار ابو الحسن نے شکوے شکایات ختم کرنے کے لئے سکھ جیون کی دعوت کا اہتمام کیا لیکن مفسدوں نے عین وقت پر اس کے ذہن میں یہ بات بٹھادی کہ ابوالحسن نے ڈائیس کے نیچے بارودبچھادیا ہے اور وہ سب قتل ہو جائیں گے ،،،سکھ جیون برافروختہ ہوا اور بغیر کسی تحقیق کے واپس لوٹ آیا اور ابو الحسن کو قید کرکے اس کے رشتے داروں سے ایک لاکھ روپیہ جرمانہ وصول کیا ، لیکن ایک سال کے بعد ہی ابوالحسن کو پھر اپنے عہدے پر سر فراز کیا ، دوسرے سال سکھوں نے پنجاب میں شورش برپا کی اور سکھ جیون کو بھی ملک گیری کی ہوس ہوئی ،۔ چالیس ہزار سپاہیوں کے ساتھ سیا لکوٹ ، بھمبراور اکھنور پر فوج کشی کی ، لیکن راجہ جموں نے اس سے کامیاب نہیں ہونے دیا ، آخر اس مہم جوئی کو چھوڈ کر واپس آیا ، یہاں اسی دوران قوم بمبہ نے شورش پیدا کی اور کامراج یعنی شمالی کشمیر میں لوٹ کھسوٹ مچا دی ، ابوالحسن ان کی سرکوبی کے لئے فوج لے کر بارہمولہ پہنچا لیکن راجہ کے ہزیمت خوردہ واپسی کی خبر سن کر واپس لوٹ آیا ، سکھ جیون نے سرینگر پہنچ کر ابو الحسن اور بہت سے کمانداروں کو غفلت کے الزام میں قید کرکے دل کا غبار نکالا ، ان ہی دنوں میر خان کھکہ نے بغاوت کی ، سکھ جیون اس کے مقابلے کے لئے نکلا تو ابوالحسن نےبھی شورش پیدا کی ، ،شہر کے پل توڈ دئے ، کچھ دن بعد سکھ جیون واپس آیا تو ایک بڑی فوج لے کر دریا عبور کرکے ابوالحسن کے ساتھ میدان کار زار گرم کیا ، ابوالحسن کے سپاہی منتشر ہوئے ، ابوالحسن کے محل کو آگ لگا دی اور اس کے بہت سارے رشتے داروں کو گرفتار کرکے پھانسی لگوادی ، ابوالحسن خود پونچھ بھاگ گیا اور آخر کچھ مدت کے بعد وہاں راہی ملک عدم ہوا ، ، سکھ جیون نے پنڈت مہا نند کو مدارالمہامی کے منصب پر فائض کیا جس نے مذہبی تعصب کی وجہ سے اہل اسلام کی سخت بے عزتی شروع کی ، مسجدوں میں اذان پر پابندی عائد کی ، گاؤ کشی سخت جرم قرار دیا گیا ، ایک دن کسی نوجوان نے خلوت کے مو قعے پر راجہ پر خنجر سے وار کیا لیکن عین وقت پر سکھ جیون کے سپاہیوں نے اس سے اور اس کے ساتھیوں کو قتل کیا ، ساتھ ہی محلہ زالڈگر سے، پانداں تک سارا شہر لوٹ لیا ، اسی دوران احمد شاہ لاہور پہنچا اور کشمیر کے حالات سے با خبر ہوکر نورالدین خان کو پچاس ہزار سپاہی دے کر سکھ جیون کو سبق سکھانے پر مامور کیا ،جو جموں کے راجہ کی معاونت سے ۱۷۶۲؁ء کو توسہ میدان کی طرف سے وارد کشمیر ہوا ، دوسری طرف سے سکھ جیون بھی ساٹھ ہزار کا لشکر لے کر مقابلے میں آیا ، عین جنگ کے موقعہ پر بخت مل ( سکھ جیون کا افسر ) افغانوں سے جا ملا ، سکھ جیون حوصلہ ہار بیٹھا اور بھاگ کھڑا ہوا ، لیکن کہیں گرفتار ہوا ، اور نورالدین نے سرینگر پہنچ کر استرے سے اس کی آنکھیں نکال دیں ، پھر سکھ جیوں کو احمد شاہ کے پاس بھیجا گیا جہاں اسے ہاتھیوں کے پاؤں تلے کچل دیا گیا ،، یہ مکافات عمل ہی کہلایا جاسکتا ہے ،، سکھ جیون کے بارے میں اتنا کہناضروری ہوجاتا ہے کہ وہ بڑا بہادر ، اپنے پہلے دور میں بے تعصب ، اور راست گو تھا ، مسلمان علماء و فضلا کا احترام کرتا تھا ، جمعہ کے دن خود مسجد میں حاضر رہتا تھا ،عید اور نوروز دونوں تہواروں کوبڑی دھوم دھام سے مناتا تھا ، شعر و سخن کا بھی دلدادہ تھا اور کبھی کبھی خود بھی شعر کہہ لیتا تھا ، ان سب باتوں سے بغیر کسی رو رعایت کے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے اولین دور میں مملکت کشمیر کے لئے ایک نعمت سے کم نہ تھا ، اپنے زمانے کے بہت ہی معروف شعرا کو تاریخ لکھنے پر بھی مامور کیا جن میں محمد علی خان متینؔ، عبدالواہاب ،شائقؔ، ملا راج محمد ، محمد جان بیگ اور رحمت اللہ نوید ؔجیسے عالم و فاضل تھے ، ایک ایک بیت کے لئے ایک ہزار روپیہ کا انعام بھی رکھا تھا ، کہا جاتا ہے کہ شائقؔنے ساٹھ ہزار اور ملا توفیق نے دو ہزار بیت تیار کئے تھے کہ راجہ سکھ جیون کا آفتاب غروب ہوگیا ، راجہ سکھ جیون نے کل ملا کر ۱۷۵۴؁ء سے ۱۷۶۲؁ء تک آٹھ سال ایک ماہ تک کشمیر پر شان و شوکت کے ساتھ راج کیا ،، اور اس کے بعد اس کے نصیب میں یہی تھا کہ ہاتھی کے پاؤں تلے کچل کر قتل کیا جائے ،، کشمیر میں در اصل مورخ حسن کے مطابق سکھ جیون کے بعد ہی احمد شاہ ابدالی کی حکمرانی کا با ضابطہ آغاز ہوتا ہے اس واقعہ کے بعد دس سال پانچ ماہ بیس روز تک یہاں کشمیر میں حکمرانی کر کے احمد شاہ ابدالی ۱۷۷۲؁ء میں راہی ملک عدم ہوا ، حکومت افغانہ پر یہ بادشاہ پچیس سال تک بر قرا رہا ، احمد شاہ کے دور میں جو صوبیدار یہاں تعنیات ہوئے ان کی تعداد سات تک پہنچتی ہے ،،،،