مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

رشید پروینؔ سوپور
(قسط: ۶۰)

سیف الدولہ۔مددخان اسحاق زئی صوبہ دار کشمیر ۱۰ ماہ ،۱۷۵۸؁ء) بہت جلد مدد خان نے محسوس کیا کہ کشمیری لوگ موت سے کم لیکن افغان صوبیداروں سے زیادہ ڈرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ کسی بھی افغان کو دیکھ کرخوف سے سہم کر رہ جاتے اور افغانوں کو انتہائی قابل نفرت سمجھتے ہیں ۔اس بات کے اسباب بھی اس سے جلد ہی معلوم ہو ئے ، اس لئے مدد خان نے اس تصویر کو بدلنے کی کوشش کی اور عوام کے ساتھ بہت ہی نرم رویہ سے پیش آنے کی کوشش کی لیکن جلد ہی اس سے معلوم ہوا کہ نرمی اور مہربانیوں کو بہت سارے فتنہ پرور عناصر صوبیدار کی نا اہلی اور کمزوری پر محمول کرتے ہیں، اس لئے مدد خان نے فوراً ہی رویہ بدل دیا اور اب سختی سے ایسے عناصر سے نپٹنے لگا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ مدد خان بھی اپنے پیشرؤں سے مختلف نہیں ، لیکن جلد ہی مفسدوں اور فتنہ پروروں کی لگام کسنے کے بعد اپنی رعایا پروری اور داد گری کے ساتھ جلوہ افروز ہوا ، عالموں فاضلوں اور وقت کے دانشوروں کے ساتھ رابطے قائم کئے ۔ ہر جمعہ کی رات عمائدین کو پر تکلف دعوت دینے لگا جہاں ان کے ساتھ مختلف امورات پر بڑی نرمی اور انکساری کے ساتھ گفتگو کرتا۔ ان باتوں سے بہت جلد ہی اس کی شبیہہ مختلف نظر آنے لگی اور لوگوں کا ڈر و خوف بھی کسی حد تک کم ہوا ، کریم خان اور اس کے بیٹے کا ناقابل برداشت جزیہ بھی موقوف کرنے کا ارادہ کیا لیکن انہیں دنوں ملا میر غفار میر وصولی مالیہ کے لئے واردِ کشمیر ہوا ،اس نے کسی طرح ہندوؤں سے جزیہ کا قبولیت نام لکھوایا ۔اس طرح مدد خان کا منصوبہ ناکام ہوا ،صرف دس ماہ کے بعد ہی مدد خان کا متبادل میر داد خان صوبہ دار کشمیر ہوا ۔۔۔ ( میر داد خان صوبیدار کشمیر ۲سال ۱۷۸۶؁ء سے ۱۷۸۸؁ء تک ) میر داد خان خلعت نظامت سے سرفراز ہوا تو ملا غفارخان منصب نیابت کا مالک تھا ، دونوں نے شروع میں اتحاد کے ساتھ ملکی امورات دیکھنے شروع کئے ۔ پنڈت دلا رام قلی کو عہدہ ،افسر دیوانی تفویض ہوا جس نے تمام دفاتر میں ہندؤں کے لئے دروازے کھول دئے اور مسلمانوں کی حق تلفی کا مرتکب ہوا ، ۱۷۸۷؁ء میں بادشاہ نے مر تضیٰ خان کوخلعت فاخرہ سے سر فراز کرکے کشمیر، منصب داروں کی آپسی رسہ کشی کا تصفیہ کرنے بھیجا جس نے یہاں اعلان کیا کہ ناظم یا نائب میں سے جو کوئی بھی مالیہ سرکاری کا ذمہ دار بنے گا حکومت ملک پر مستقل کیا جائے گا ، ملا غفار نے تحریر دینے سے انکار کیا اور کابل روانہ ہوا ،نظامت میر داد کے حصے میں آئی جس نے مالیہ کی خاطر ظلم و ستم کا نیا دور شروع کیا ، اسی دوران میں واعظ حافظ کمال جو محلہ ملارٹہ میں رہتا تھا اور کریم داد خان کے عہد میں رفض گوئی کی وجہ سے معزول ہوا تھا پھر سے متحرک ہوا اور اولیائے کرام کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام کی شان میں بھی گستاخیوں کا مرتکب ہوا ، ، مسلمانوں نے قاضی حبیب اللہ کی عدالت میں استغاثہ دائر کیا ، جس نے تحقیقات کے بعد اس شخص کو گدھے پر سوار کرکے سارے شہر میں گھمایا اور پھر ہفت چنار پہنچ کر قتل کردیا ، قلی رام نے جو۔ اب مشیر خاص تھا ، مسلمانوں کو ستانا جاری رکھا اور ایک دن مسلمانوں نے خانقاہ معلیٰ کو مقفل کرکے قلی رام پر حملہ کیا ، لیکن ناظم صوبہ کو فوراً ہی اطلاع ہوئی اور اس سے بچالیا ، ، ان ہی دنوں جعفر کنٹ نے بھی کامراج میں شورش برپا کی ، لیکن میر داد خان کے آدمیوں نے اس سے گرفتار کیا ، ۱۷۸۸ میں میر داد خان کسی موزی مرض میں مبتلا ہوکر فوت ہوا ، ،،، میر داد کی وفات پر اس کا ایک رشتے دار اسماعیل خان ملکی امور سر انجام دیتا رہا اور کچھ دنوں کے بعد ہی ملا غفار خان خلعت صوبیدار زیب تن کرکے ۱۷۸۸؁ء میں وارد خطہ ہوا جس نے میر کنٹ کو قید خانے سے رہا کرکے حکومت شروع کی ،، لیکن صرف چار مہینے کے بعد ہی واپس بلالیا گیا ،،، (سردار جمعہ خان الکو زئی صوبیدار کشمیر ،، ۴سال ۵ماہ ۱۷۸۸ سے ۱۷۹۲ ؁ء تک ) جمعہ خان نے بھی عدل و انصاف کے ساتھ اپنی شروعا ت کی اور اپنے دونوں بیٹوں عبداللہ خان اور محبت خان کو بھی کشمیر بلایا ، منصب صوبیداری سنبھالنے کے ساتھ ہی کثرت بارشوں سے سیلاب برپا ہوا ، اور قحط سالی کا سماں پیدا ہوا ، ، تیمور شاہ پشاور آگیا تو اس نے تنقیح خان کو حساب کے لئے کشمیر بھیجا ، ان ہی دنوں جڈی بل اور حسن آباد کے اہل تشیع نے ماتم سرائے تعمیر کی اور اعلانیہ ماتم داری شروع کی ، نائب صوبیدار نے اسلام خان کو تحقیقات پر مامور کیا ، اس کی رپورٹ پر محبت خان عوام کے ساتھ موقعہ پر پہنچا اور ماتم سرائے کو بنیاد سے اکھیڑ دیا ، تین ماہ کے بعد سردار خان بھی پشاور سے واپس آیا، واپسی کے ساتھ ہی پرویز حسن علی خان بمبہ نے کامراج میں بغاوت کی ، لیکن مغلوب ہوگیا ، راجہ رستم خان والئی پونچھ نے بھی کوہستان میں لوٹ مچادی ، جمعہ خا ن خو د پونچھ روانہ ہوا ،رستم خان گھبرا گیا اور مطابعت اختیا ر کی ،۱۷۱۹؁ء کو ناظم صوبہ رحمت ا للہ خان کو قائم مقام بناکر خود تیمور شاہ سے ملنے روانہ ہوا ، ، اقوام کھکھ و بمبہ نے کامراج میں شورش برپا کی ،، تاریخ کے ان پنوں میں آپ بار بار دو اقوام بمبہ اور کھکھ کی بغاوتوں اور شورشوں کا تذکرہ پڑھتے ہیں یہ دونوں اقوام کشمیر کے کوہستانی علاقوں میں اپنا بودوباش رکھتی تھیں اور آج بھی ان اقوام کی یہی نام پہچان ہیں ،،لیکن جلد ہی مغلوب ہوئے ، جمعہ خان بھی واپس کرناہ کے راستے سے داخل کشمیر ہوا ، لیکن صرف دو ماہ بعد ہی انتقال کرگیا ،اور سید قمرالدین کے قبرستان میں دفن ہوا جہاں کچھ عرصہ بعد اس کی لاش قندھار پہنچائی گئی ،تین ماہ بارہ روز تک اس کے بیٹے رحمت اللہ خان نے ملکی فرائض انجام دئے اور آخر تیمور شاہ نے میرزا خان کو صوبیداری کے پد پر فائض کیا ،،،، ( ۸ ۔مرزا خان صوبیدار ۴ماہ ۔۔ ۱۷۹۲ سے ۱۷۹۳ تک ) مرزا خان نظامت کشمیر پر متعین ہوکر ۱۷۹۲؁ء کو واردِ خطہ ہوا اس نے زمام حکومت اپنے بیٹے میر ہزار خان کے سپرد کردی ، اور خود حکمرانی سے کنارہ کش ہوگیا ،اس کے صرف چار ماہ بعد ہی تیمور شاہ نے انتقال کیا اور اس کے ساتھ مرزا خان کی منصب داری بھی ختم ہوئی در اصل ان صوبیداروں کی جان اپنے بادشاہوں کے جسم ہی میں محفوظ رہا کرتی تھی ، اِدھر بادشاہ گذرے ادھر صوبیداری کا پرندہ بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا تھا ،،، کابل میں تیمور شاہ کی وفات کو امرائے کابل قاضی فیض اللہ خان ، وزیر وفادار خان عبدالغفار خان خزانچی اور پائیندہ خان اور ان کے دوسرے اعلیٰ منصب داروں نے تیمور کی خبر مخفی رکھی ، پھر تما م روساء وزرا کا ایک بند کمرے میں اجلاس ہوا جس میں فیصلہ ہوا کہ تیمور شاہ کے تیسرے بیٹے زماں شاہ کو تخت پر بٹھایا جائے ، کچھ لوگ اگرچہ اس رائے سے اختلاف بھی کر رہے تھے لیکن ان کی تعداد بہت کم تھی ، ، زماں شاہ نے تخت سلطنت پر بیٹھتے ہی، وفادار خان کو امیرالملک، رحمت ا للہ خان کو معتمدالدولہ اور شیر محمد خان کو مختارالدولہ کے خطابات سے نوازا ، ظاہر ہے کہ یہی لوگ تھے جنہوں نے اس کی تخت نشین ممکن بنائی تھی ،، وفادار خان کی بیٹی سے نکاح بھی کیا اور کچھ مدت کے بعد ہی سارے شہزادوں کو سوائے شجاع الملک کے بغاوت کے خوف سے نظر بند کیا ، لیکن افغان سلطنت میں استحکام پیدا نہیں ہوسکا بلکہ زماں شاہ مسلسل لڑائیوں میں مصروف رہا اور ۸سال ۱۰ ماہ کے بعد ۱۸۰۲؁ء میں اپنے بڑے بھائی محمود شاہ کے ہاتھوں درہ خیبر میں گرفتار ہوا جس نے تمام صلہ ، رحمی ، اور اخلاقیات کی کتاب کو آگ میں جھونک کر اپنے بھائی کی آنکھوں میں گرم گرم سلا ئی پھیروادی ،،اور پھر اس سے قندہار ہمایوں شاہ کے پاس بھیجوادیا ، اپنی تخت نشینی کے چار ماہ بعد اس نے مرزا خان کے بجائے اس کے بیٹے میر ہزار خان کو صوبیدار کشمیر کے منصب پر براجمان کیا ،،، صوبیدار جو زماں شاہ کے دور میں حکومت کشمیر پر مامور ہوئے،ان کی تعداد ۵ تک پہنچتی ہے ،،،،
[۱](میر ہزار خان ،، آٹھ ماہ ،،،۱۷۹۳؁ء ۱۷۹۴ ؁ء ،،،) ۱۷۹۴ ؁ء میں زماں شاہ پشاور آیا تو اس نے کا ظم خان کے ہاتھ خراج سلطانی بھجوانے کے لئے میر ہزار کو ہدایت کی ، لیکن میر ہزار نے حکم کی تعمیل نہیں کی ، اور رعایا پر جورو ظلم کی شروعات کی ۔ خصوصاً ہندو طبقے کو نشانہ بنانے لگا ، اسی طرح سے اہل تشیع پر بھی ظلم و جبر کے پہاڈ توڈنے لگا ، ، دلارام قلی کو بمقام خانیار قتل کر وایا ، تمام ہندوؤں پر زر جزیہ لگادیا ، ہندوؤں کو فارسی پڑھنے سے منع کیا ، خبر ملتے ہی زماں شاہ نے اس کے باپ مرزا خان کو کشمیر بیٹے کو سمجھانے بھیجا لیکن بیٹے نے باپ کی کسی نصیحت کا اثر قبول نہیں کیا ، آخر زماں شاہ نے احمد خان شہجی باشی اور رحمت ا للہ خان کو ایک بڑا لشکر جرار دیکر میر ہزار کی گوشمالی کے لئے روانہ کیا ، میر ہزار بارہمولہ آگیا اور یہاں میدان جنگ گرم ہوا ، تین ما ہ تک فریقین میں زبردست لڑائی چلتی رہی اور آخر میر ہزار کے تین اہم سردار جتکو خان ، علم خان اور میاں غلام علی خان شہجی باشی سے جا ملے ، ۔ہزار خان میدان جنگ سے بھاگ نکلا اور خانقاہ معلیٰ میں جا چھپا۔لیکن گرفتار ہوا ،، (۲ رحمت اللہ خان ۴ماہ ۱۷۹۴؁ئ) ہزار خان کی گرفتاری کے بعد رحمت اللہ خان الکوزی نظامت پر ممتاز ہوا ، احمد خان کے ساتھ جلد ہی جھگڑے شروع ہوئے تو بادشاہ نے دونوں کو واپس بلایا ،اور رحمت اللہ خان ، میر ہزار خان ،احمد خان ،خواجہ عیسیٰاور پنڈت نند رام ٹیکو کو ساتھ لے کر بادشاہ کے حضور روانہ ہوا ، دربار پہنچ کر خوجہ عیسیٰ تو واپس آیا لیکن نند رام نے بادشاہ کی مصاحبت اختیار کی ، کفایت خان ۱۷۹۴ تا ۹۵) ، واپسی پر ۱۷۹۴؁ء میں بادشاہ نے کفایت خان کو صوبیداری سے سرفراز کیا اس نے کشمیر پہنچ کر مرزا بدارلدین ا ور مرزا رضا کو مدا رالمہام۔ ملا قاضی مسعود کو قاضی اور ملا عبداللہ کو مفتی بنایا ،اور عدل و انصاف سے حکومت کرنے لگا ، تین ماہ تک نظام حکومت بہ احسن خوبی چلاتا رہا اور عوام بھی اطمینان کی سانس لینے ہی لگے تھے کہ زماں شاہ نے انہیں واپس بلایا اور مرزا بدالدین کو قائم مقام بناکر کابل چلاگیا ، اس دوران کسی تاجر نے عیسیٰ دیوانی کو فریب دے کر اپنے مکان پر بلایا ، اس سے حمام میں بٹھایا اور حمام کے نیچے آگ جلاکر دروازے بند کرکے باہر چلاگیا ، کسی راہرو نے چیخ سن کر اس سے آزاد کیا ،اس واقعے کے رد عمل میں آقا رحیم کے گھر کو ہجوم نے آگ لگادی ، اہل تشیع نے خواجہ عیسیٰ کے مکان پر ہلہ بولا اور اہل سنت نے بھی اہل تشیع پر یلغار کی ، یہ ہنگامے چک دور سے ہی ہمیں ہمار ی تاریخ کا حصہ بنے ہیں ، چھ مہینے کے بعد کفایت واپس آگئے ، تو قوم بمبہ نے کامراج میں شورش پیدا کی ، کچھ دنوں سوپور میں جنگ ہوگئی اور پھر یہ شورش فرد بھی ہوئی ، کفایت خان نے لگ بھگ ایک سال تک حکومت کی اور اس دوران نیک نیتی سے امور ملکی انجام دیتا رہا عوام بھی خوش تھے محلہ خانیار میں اسی کے نام سے ایک وسیع باغ اسی کی یاد گار ہے ،