مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

رشید پروینؔ سوپور
(قسط: ۶۱)

کفایت خان نے ایک سال تک کشمیر میں اپنی حکمرانی کا دورختم کیا اور اس کے بعد ۱۷۹۵؁ ء میں امیر خان کا بیٹا ارسلان خان صوبیدار کشمیر مقرر ہوا ،، جس نے اپنی طرف سے محمد خان جواں شیر کو نائب مقرر کیا ، کفایت خان شیر گڈھی خالی کر کے اپنے باغ محلہ خانیار منتقل ہوا ، محمد خان نے کفایت کو دربار بلوایا اور شیر گڈھی میں محصور کیا ، اور چند روز بعد اس سے کابل بھجوادیا ،، لیکن محمد خان ابھی دم بھی نہیں لینے پایا تھا کہ خداداد خان اور مومن خان نے مشترکہ طور پر شیر گڈھی کا محاصرہ کیا ، محمد خان نے اپنی بڑی جماعت کے ساتھ شیر گڈھی میں پناہ لی ، لیکن میاں خان اور مومن خان نے ہمت سے کام لے کر سیڑھی سے قلعے کی دیواروں کو پھاندا ،اور محمد خان کو گرفتار کیا ، لیکن تینوں نے اتفاق کرکے اقتدار سنبھالا اور حکومت شروع کی ، یہ خبر بادشاہ کو پہنچی تو شیر محمد خان مختارالدولہ کو عبداللہ ولد جمعہ خان کے ساتھ فساد ختم کرنے کے لئے کشمیر روانہ کیا اور انہوں نے یہاں پہنچ کر باغیوں اور سر کشوں کا قلع قمع کیا ، ،
منصب داری عبداللہ خان الکوزئی کے نصیب میں آئی جو ۱۷۹۶ ؁ء ۱۸۰۲؁ء تک یعنی پورے پانچ سال دس مہینے اس منصب پر فائض رہے ایک سال کے بعد دربار سے بلاوا آیا تو بھائی گلستان خان کو نائب اور مرزا رضا کو مشیر بناکر کابل روانہ ہوا ، روانگی کے ساتھ ہی صفدر علی خان اور شیر بلند خان بمبہ نے کمراج میں لوٹ مار مچادی ، دراصل بار بار جب بھی بمبہ قوم نے لوٹ مار مچائی ہے یہ علاقہ کمراج ہی میں زیادہ تر ممکن ہوا ہے اس لئے کہ کامراج کا علاقہ قوم بمبہ جس میں دور دراز کے کوہستانی علاقے اور کرناہ ٹیٹوال اور دوسرے آجکل کے سرحدی علاقے پڑتے ہیں ، کامراج کے ساتھ ہی منسلک اور نزدیک ہیں ، گلستان خان مقابلہ کے لئے نکلا جس میں کچھ نامور سردار ہلاک ہوئے لیکن قوم بمبہ کا مشہور سردار علی خان بھی قتل ہوا ،ناظم صوبہ ۱۷۹۹؁ء کو واپس کشمیر پہنچے اور انتظام ملکی میں مصروف ہوئے ، مضافات کشمیر پر چڑھائی کی ، پونچھ ،راجوری، مظفر آباد اور وچھنہ و کھاورہ پر قبضہ کیا ، راجہ راجوری کو گرفتار کیا اور پھر اس سے عزت کے ساتھ یہاں سے رخصت کیا ،والئی پونچھ بھی گرفتار ہوا لیکن جلد ہی چھوڈ دیا گیا ،اس نے پھر بغاوت کی ، اس بار گرفتار ہوا اور جیل میں ہی زہر دے کر قتل کیا گیا ، فتح خان بمبہ کو مظفر آباد تک تمام علاقہ جاگیر میں دیا گیا ، اور اس کی بیٹی سے نکاح کیا تاکہ یہ جنگجو بمبہ قوم بغاوت اور فتنہ فسادوں سے دور رہے ، عبداللہ خان کا دور بھی کشمیری عوام کے لئے اطمینان اور امن و چین کا دور رہا، یہ خود بھی اچھا اور سلیقہ مند اور سلجھی ہوئی طبیعت کا مالک تھا ، اس لئے رعایا بھی اس کی مشکور و ممنوع تھی ، ، اس کے دور میں اشیاء ضرورت ارزاں تھیں اور خصوصاً شالی ایک روپیہ بارہ آنے خروار کے دام سے بک رہی تھی ، ( خروار میں لگ بھگ سٹھ کلو) ہوا کرتے تھے ، شاہی دربار میں بادشاہ کو کسی نے گمراہ کیا اور عبداللہ خان کو واپس بلایا گیا ، عبداللہ نے اپنے عطا محمد کو ناظم کے طور مقرر کیا اور خود دربار روانہ ہوا ، ابھی راستے ہی میں تھا کہ اس کے ایک اور بھائی وکیل خان نے وزیر وفادار خان جوکہ وکیل کا ہم زلف بھی تھا کی وساطت سے صوبیداری کا فرمان حاصل کیا ، اور عبداللہ کابل پہنچا تو قید کیا گیا ، عطا محمد خان کی گرفتاری اور وکیل خان کی مسند نشینی کے لئے ایک فوج کثیر بھی ہمراہ کی گئی ، عبداللہ نے بھائی عطا کو پیغام بھیئجا کہ وکیل کو ملک کشمیر میں داخل ہونے نہ دیں ، عطا نے مقابلے کی تیاری کی اور مختصر وکیل خان کو قتل کیا اور اور شاہی فوج تتر بتر ہو گئی ،، عطا محمد کو بہت سا مالِ غنیمت حاصل ہوا ،اس دوران عالی مسجد واقع عید گاہ میں آگ لگی اور پوری مسجد جل کر راکھ ہوئی ، بعد میں گل محمد خان نے یہ دوبارہ تعمیر کروائی ، انہی دنوں زماں شاہ کا ستارہ اقبال بھی گردش میں آگیا اور اسی ابتری کی حالت میں زماں شاہ بھی اپنے بھائی کے ہاتھوں گرفتار ہوا ، بھائی کی آنکھیں نکال کر محمد شاہ نے تاج شاہی اپنے سر پہ ۱۸۰۲؁ء رکھا ،اس خاندان کا زوال شروع ہوچکا تھا ان بادشاہوں کے دور پر ’’تاریخ افغان ‘‘ میں پوری تفصیل موجود ہے اور چونکہ ہم صرف کشمیر سے منسلک رہنا چاہتے ہیں اس لئے کشمیر کے حالات ہی قلمبند کرنے کی طرف متوجہ رہیں گے ، ، یہ وہ دور ہے جب افغان میں تخت چھیننے ، سازشیں اور قتل و گارتگری کا زمانہ ہی کہا جائے گا اس لحاظ سے کوئی افغانی بادشاہ کشمیر کی طرف یکسوئی کے ساتھ توجہ نہیں دے پایا ، اور اصل میں یہ صوبیدار جو اس دور میں یہاں رہے خود مختار ہی کہے جاسکتے ہیں لیکن افاغانہ سے جڑے ہونا ہی انہیں افغانی صوبیداروں میں شامل کرتے تھے ، یہاں تک کہ آخر میں ۱۸۱۹ میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے کشمیر پر قبضہ کرکے نئی حکمرانی کی بنیاد ڈالی ،، محمد شاہ کے دور میں کشمیر پر چار صوبیدار مامور ہوئے ،، (۱) عبداللہ خان الکوزئی ،،۱۸۰۲؁ء سے ۷ہ۱۸؁ء تک ، آپ کو یاد ہوگا کہ عبداللہ خان کو قید کیا گیا تھا ، لیکن جب زماں شاہ کے بعد محمد شاہ بھی فتنوں فسادوں میں گھر گیا تو عبداللہ نے داروغہ زنداں کو بہت سارے مال و زر کی لالچ سے شیشے میں اتارا اور قید سے فرار حاصل کیا تو سیدھا کشمیر پہنچا ،کشمیر کا مالک بن بیٹھا اور ایک خود مختار بادشاہ کی طرح ہی سے حکومت شروع کی ، ۱۸۰۴ ؁ء میں شجاوالدولہ نے محمد شاہ سے تخت چھینا تو الکوزئی مطمئین ہوا ، لیکن اسی سال کشمیر میں ایک بہت ہی شدید زلزلہ آیا ۔زلزلہ اس قدر شدید تھا کہ ہزاروں مکانات ڈ ھ گئے جن کے نیچے ہزاروں لوگ دب کرمر گئے ، خانقاہ معلیٰ کا کلس بھی گر گیا ، دوسرے سال کثرت باراں سے سیلاب آیا ، ۱۸۰۶؁ء میں مائینس گیارہ بارہ یا اسے زیادہ کی وجہ سے جھیلیں اور دریا منجمد ہوئے ، اسی سال شجاع الملک قند ہار سے پشاور آیا تو شیر محمد خان کو عبداللہ خان کی گوشمالی کے لئے بھیجا ،موضع (سیر) مشہور قصبہ سوپور سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ۔ میں میدان کارزار گرم ہوا ، عبداللہ خان کی فوج منتشر ہوئی یہاںسے دوسری جگہ موضع دو آبہ گاہ میں خیمہ زن ہوا ، دو آبہ گاہ سوپو رسے دو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے چونکہ یہاں دریائے جہلم اور نالہ پہرو کا اتصال ہوتا ہے اس لئے اس سے دو آبگاہ (دو دریاؤںکی جگہ )کے نام سے جانا جاتا ہے یہاں زبردست لڑائی ہوئی اور آخر عبداللہ خان مفرور ہوکر قلعہ بیروہ میں پناہ گزین ہوا ، مختارالدولہ نے اپنے بیٹے عطا محمد خان کو عبداللہ خان کے تعاقب میں روانہ کیا ، جس نے قلعے کا معاصرہ کیا ، تین ماہ تک معاسرہ جاری رہا لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا اور آخر عبداللہ خان کو حکیم جواد نے مختارالدولہ کے ایما پر زہر دے کر قتل کیا ، الکوزئی عالی ہمت ، بہادر ، رعایا پرور اور منصف مزاج تھا ، لیکن بہر حال ،، باقی رہے گی صرف اللہ ذات ،،، عطا محمد خان صوبیدار ،،۵سال ۱۰ ماہ ۱۸۰۷؁ ء سے۱۸۱۳؁ء ،، عبداللہ خان کے بعد پانچ ماہ تک شیر محمد خان ناظم رہا اور پانچ ماہ بعد ہی اپنے بیٹے عطا محمد خان کو صوبیدار کا منصب تفویض کرکے خود کابل روانہ ہوا ، اس کی نیک نیتی اور طرز حکومت نے رنگ دکھانا شروع کیا کہ محاصل ملک دوچند ہوئے اور عوام بھی خوش و خرم اور خوشحالی سے جینے لگے ، بڑے دل کا آدمی تھا ، علماء ،فضلاء سے صحبت رکھتا تھا ، غرور اور گھمنڈ سے دور تھا ، سادہ لباس میں رہتا تھا اور خود ہی عوام کی داد رسی اور مقدموں کے فیصلے کیا کرتا تھا ، ۱۸۰۹ میں عطا محمد خان کا باپ لڑائی میں مارا گیا تو ناظم کشمیر نے اپنی خود مختاری کا اعلان کیا ، اس لئے ۱۸۱۰؁ء میں اکبر خان بامزئی اور میر افضل ایک لشکر جرار لے کر کشمیر کی طرف روانہ ہوئے ، بمقام شاہدرہ دونوں افواج کا آمنا سامنا ہوا ، شاہی فوج مغلوب ہوئی اور عطا محمد خان کو فتح نصیب ہوئی ، ، چونکہ طبیعت میں انکساری اور گھمنڈ غرور سے دور تھا اس لئے مست ہونے کے بجائے اگلی لڑائی کی بھر پور تیاریوں میں مصروف ہوا ، سامانِ حرب و ضرب کے ذخائر کئے ، قلعے بنائے ، قصبہ سوپور و بارہمولہ میں مورچہ بندی کے لئے برج بنوائے ، ،( سوپور کئی بار میدان جنگ بنا ہے ، یہاں کسی قلعے اور گڈھی کے بھی تذکرے تاریخوں میں پائے جاتے ہیں لیکن یہ کہاں تھے ، اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے کیونکہ سوپورمیں ایسا کوئی نشان نہیں ملتا جہاں ان کے واقع ہونے کا گمان کیا جاسکتا ہو ، اس لئے تحقیق کے دروازے کھلے ہیں )۱۸۱۲؁ء میں کوہ ماراں سرینگر پر ایک بلند اور مستحکم قلعہ تیار کرایا ، تمام قلعوں اور مورچوں میں سامان جنگ پہنچایا، محمود شاہ والئی کابل کے فرمان سے وزیر فتح خان لشکر لے کر کشمیر کی طرف آیا لیکن دریائے اٹک کے کنارے پہنچ کر عطا خان کی تیاریوں کو بھانپ کر متردد ہوا ، اور مہاراجہ پنجاب رنجیت سنگھ سے کمک کا خواستگار ہوا ، رنجیت سنگھ نے آٹھ لاکھ سالانہ خراج مقرر کرکے دیوان محکم چند کودس ہزار سپاہیوں کے ساتھ معاونت پر مامور کیا ، ۱۸۱۲ ؁ء میں وزیر فتح محمد سکھوں کی فوج سے آملا اور پھر دونوں متفق ہوکر کشمیر کی طرف آگے بڑھے ، عطا محمد کی تیاریاں مکمل تھیں لیکن لڑائی سے پہلے ہی کچھ کشمیری سردار اور ان کے ہم نوا فتح خان سے جا ملے ، ، کئی دنوں کی سخت لرائی میں عطا کی فوج کے سردار فتح خان سے جاملے۔ عطا کو میدان جنگ سے فرار ہونا پڑا ، عطا محمد خان نے نے اپنی چالاکی اور ہوشیاری کے آخری پتے کھیلے ،اور کسی طرح سے سونا جواہرات اور تمام مال واسباب معہ عیال کے پشاور روانہ ہوا ، راستے میں والئی پنجاب سے ایک لاکھ روپیہ لے کر قلعہ اٹک کا قبضہ اس سے دیا اور لاہور پہنچا ،، وزیر فتح خان دو تین ماہ تک کشمیر میں رہا اور اس کے بعد نظا مت اپنے بھائی محمد عظیم خان کے سپرد کرکے خود کابل چلاگیا،، کشمیر میں محمد عظیم ۱۸۱۳؁ ء میں مسند سریر آراء ہوا ، عظیم نے رنجیت سنگھ کوخراج دینا بند کیا تو رنجیت سنگھ کے تن بدن میں آگ لگی ، ۱۸۱۴؁ء میں ڈل سنگھ کو ایک لشکر جرار دے کر براستہ سدو کشمیر بھیجا ، سدو میں ہی میدان کارزار گرم ہو لیکن بارشیں اس قدر زور دار ہوئیں اور بارشوں کے ساتھ ہی ٹھنڈی اور یخ بستہ ہواؤں نے گرم علاقوں کی افواج کا دم نکال دیا ، عظیم خان نے دوتین ہزار سوار باباخان کو دے کر حملے کا حکم دیا ، رنجیت کی افواج نے توسہ میدان میں بھی محاظ کھولا لیکن سردی نے اس افواج کو پہلے ہی بے دم کردیا تھا اور اس طرح کشمیری افواج نے رنجیت کی افواج کو زبردست شکست سے دوچار کیا ، اسی دوران ؑعظیم کو پتہ چلا کہ سکھوں کے ساتھ اہل ہنود کی ساز باز تھی اور یہ کہ یہ لوگ مسلم سلطانوں کو پسند نہیں کرتے ، عظیم خان نے ایسے عناصر کو کھوجنا اور چن چن کر قتل کرنا شروع کیا ،،بھائی فتح محمد نے بلوایا توپہلے پنڈت سہج رام مدارالمہام کے ہمراہ حرم خانہ اور تمام جمع شدہ مال و دولت جس کی مالیت اس وقت ایک کروڈ سے زیادہ تھی کابل روانہ کیا ا ور اس کے بعد اپنے بھائی جبار خان کو حکومت کشمیر دے کر ۱۸۱۹؁ کو خود بھی کابل روانہ ہوا ،،