مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

رشید پروینؔ سوپور
(قسط: ۶۲)

بھائی کی کابل روانگی پر جبار خان حکمراں ہوا ، نام جبار ،، لیکن نرم مزاج اور انصاف پسند ، رحم دل اور منصف مزاج ۔لیکن قسمت نے اس سے ظلم و جبر کا دور ختم کرنے کی بالکل بھی فرصت نہیں دی اور جو فصل اس کے پیشرو افغانوں نے بوئی تھی اب پک چکی تھی ۔ اب اس سے کا ٹنا ہی باقی تھا ، بیر بل پنڈت جو رنجیت سنگھ کے دربار میں پناہ لے چکا تھا کو جب عظیم خان کے واپس کابل جانے کا حال معلوم ہوا تو فوراً ہی رنجیت سنگھ کو کشمیر پر قابض ہونے کے لئے تیار کرنے لگا لیکن رنجیت جو ایک بار زبردست شکست کشمیریوں سے کھا چکا تھا کسی طرح تیا ر نہیں ہورہا تھا ، لیکن بیربل پنڈت نے بہت سارے سبز باغ دکھا کر آخر اس سے لشکر کشی پر آمادہ کیا ، رنجیت نے بیربل کو جنگی نقصانات کا ذمہ دار بنایا اور اس کے بیٹے کو بطور یر غمال رکھنے کے باوجود حملہ کی ہمت نہیں کی ، اور مصر دیوان چند ،،راجہ گلاب سنگھ والئی جموں ،سردار ہری سنگھ نلوہ ، جولا سنگھ پدانیہ جما سنگھ چمنی سراداراں اتاری والہ اور ڈیرہ شاہزاد کھڑک سنگھ وغیرہ سرداراں کے ہمراہ تیس ہزار سے زیادہ کا لشکر دے کشمیر کو فتح کرنے کی ہدایت دی ، بیر بل کے ساتھ یہ لشکر تھنہ پہنچا تو کچھ دن آرام کرکے اس فوج کے دو حصے کئے ، ایک حصہ دارہ ہار کے راستے اور دوسرا پوشبانہ کی طرف سے آگے بڑھا ،جبار خان بھی اپنے کمانداروں کے ہمراہ ہیرہ پورپہنچا ، خالصہ افواج جب کوہ پیر پنجال کی چوٹی پر پہنچی تو افغانی لشکر جس کو جبار خان نے پہلے ہی یہاں راستوں کی نگرانی کے لئے تعینا ت کر رکھا تھا۔ سکھ لشکر پر قہر بن کے ٹوٹ پڑا زبردست خون ریزی کے بعد افغان لشکر سرخرو ہوکر شوپیاں پہنچے ،جنگ اب بھی جاری تھی لیکن خالصہ افواج سراسیمگی کی حالت میں آچکی تھی اور قریب تھا کہ جبار خان کو حتمی فتح حاصل ہوجاتی کہ قدرت نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا ، کسی سکھ سپاہی نے جبار کے بازو کو زخمی کیا ، جبار حواس باختہ ہوا ،سرینگر کی طرف دوڈ لگائی اور اپنا مال و اسباب سمیٹ کر کابل کی طرف بھاگ گیا ، سردار کو بھاگتے دیکھ کر تمام افغانی راہِ فرار اختیار کر گئے ، سکھ سرداروں نے گاؤں اور تمام قصبوں کو حسب روائت ویراں کر دیا اور ، ۱۸۱۹؁ء مطابق ۱۱ ماہ رمضان ۱۲۳۴ھ فاتح دیوان چند شیر گڈھی میں داخل ہوا تاریخ، یہ نکلی ،،( بولو، واگرو جی کا خالصہ ) یہاں افغان دور حکومت کا اختتام ہوتا ہے اور یہ لازمی ہوجاتا ہے کہ اس دور پر اور اس دور نے جو نقوش اپنے پیچھے چھوڑے ہیں ان کا مختصر طور پر جائزہ لیا جا ئے ،، ہم نے کہیں پہلے ہی اس دور کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ تپتا ہوا صحرا رہا ہے اور بیچ میں اگر کوئی مختصر سانخلستان دکھائی بھی پڑا تو وہ سارے منظر میں ایک حباب سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا ، اس دور میں افغان شاہوں کی طرف سے کئی کاکڑ خان اور چراغ بیگ یہاں آکر حکومت کر چکے ہیں اور جب میں کا’کڑ ‘‘اور ’’چراغ بیگ‘‘ کا لفظ استعمال کر رہا ہوں تو اگرچہ صرف دو ہی اشخاص اس نام کے یہاں حاکم آئے ہیں لیکن ہماری کشمیری تہذیب و تمدن اور ثقافت و زباں میں،انتہائی ظالم ، جابر ، بد بخت ، سفاک ،بے رحم اور قاتلوں کی اصطلاح میں یہ الفاظ نہ صرف بولے جاتے ہیں بلکہ ان الفاظ کا جب بھی استعمال ہوتا ہے ، مطلب ظالم ، جابر اور ستم گر کا ہی بنتا ہے اب صدیوں سے استعمال ہوتے آئے ہیں ، ، اس کی صرف ایک مثال سے آپ ان کی رعونت اور سفاکی کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ تاریخی طور پر جب چراغ بیگ کابل سے یہاں پہلی بار آرہا تھا تو کشمیر کے حدود میں آکر اس نے کہیں ایک جنازہ دیکھا ۔ لوگ مردے کو دفن کے لئے قبرستان لے جارہے تھے ، چراغ بیگ نے تابوت کو نیچے اتارنے کا حکم دیا، ڈھکن اٹھایا مردے کے چہرے سے کفن ہٹاکر اپنے چاقو سے اس کی ناک کاٹ دی ، کچھ مورخوں نے کان کاٹ دینے کو درست مانا ہے ،،، جب اس کی وجہ چراغ بیگ سے پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ ’’ چراغ بیگ کے آنے کی خبر زندوں تک تو پہلے ہی پہنچی ہے لیکن مردوں تک یہ شخص پہنچائے گا ، ‘‘،، اور کاکڑ خان کے بارے میں مستند تاریخوں میں ہے کہ اس نے یہاں کشمیریوں کی پیٹھ پر سواری کرنے اور انہیں حیوانوں کی طرح ہانک کر ’’بیگار ‘‘لینے کی رسم جاری کی ،، دیکھا جائے تو یہ سارا دور، ان ہی جیسے اشخاص اور حاکموں کا دور رہا جس نے کشمیری عوام کا زندہ رہنا ہی محال اور مشکل کر دیا تھا ، لگتا ہے کہ لوگ ایک طرح سے ’’ٹروما ‘‘سے گذر رہے تھے کیونکہ ذہنی اور جسمانی ناقابل برداشت دباؤ اور ذلت و خواری کی وجہ سے عوام اپنا تشخص ہی کھو چکے تھے اور غلامی کا انتہائی درجہ یہی ہوتا ہے کہ عوام اپنی جدوجہد، اور بحیثیت انسان زندہ رہنے کے حق سے محروم بھی ہوجاتے ہیں اور پھر اس زندگی پر راضی بھی ہوجاتے ہیں یہ صورت حال تقریباً ہر ملک کی اسی طرح سے رہی ہے ،، ،، پروین دیوان چند نے لکھا ہے کہ پنڈتوں کے ساتھ اہل تشیع کی پیٹھ پر پٹھان فوجی ان کے فرن کی جیبوں کو رکاب کے طور پر استعمال کرتے تھے ، لیکن یہ اکثر و بیشتر سنی مسلموں کے ساتھ بھی وطیرہ رہا ہے ، ویلی آف کشمیر میں سر والٹر لکھتے ہیں کہ مغلوں کے بعد جب کشمیر افغانی زیر تسلط آگیا تو اس سارے دور میں سوائے ظلم و ستم اور زور و جبر کے کہیں کچھ نظر نہیں آتا، سارا دور اندھیروں اور محتاجیوں کا زمانہ رہا ، وہی لوگ یہاں حکومت کے لئے بھیجے جاتے جو سفاک اور ظالم تھے اورغریب عوام کا ایک ایک لقمہ ٹیکس کی صورت چھین کر لے جانے ہی کو حکمرانی تصور کرتے تھے ، دولت جمع کرنا ، ظلم ڈھانا صوبیداروں کے فرائض تھے ، گورنروں کو یہ معلوم نہیں رہتا تھا کہ وہ یہاں کتنی مدت تک اس منصب پر فائض رہیں گے اس لئے بڑی جلدی خزانے جمع کرنے کی فکر انہیں دامنگیر رہتی اور یہی ان کے سفاکانہ عمل کا باعث بھی تھا ، ، لارنس نے یہ بھی لکھا ہے کہ کہیں کہیں کوئی گورنر کشمیریوں کو گھاس کی رسیوں سے بندھ وا کر جھیل ڈل میں ڈلواتا تھا ، ویلی آف کشمیر میں لارنس نے ان سزاؤں کا تفصیلی ذکر کیا ہے اور اس ذلالت آمیز برتاؤ کے کئی قصے لکھے ہیں جنہیں اب ہم لکھ کر کشمیر کے عوام کے زخم ہرے نہیں کریں گے اور نہ اس ذلالت کی وجہ سے انہیں شرمندہ کریں گے ، لیکن یہ بھی حیران کن بات ہے کہ اس شرمساری اور ذلالت کے باوجود کوئی شخص زندہ رہنے اور ان سب مظالموں کے خلاف اپنی آواز بلند کیوں نہیں کرتا یا موت سے بدتر زندگی کو ہی ترجیح کیوں دیتا ہے ،؟ ہر ملک کی تاریخ میں ایک ایسا نقطہ عروج دیکھنے کو ضرور ملتا ہے جہاں سے عوام نے آخر کا رموت کو زندگی پر ترجیح دے کر میدان جنگوں میں اپنے فیصلے کئے ، لیکن یہ قوم،،، بڑی عجیب قوم اور انوکھی قوم ہے ،، اسد خان کے بعد مدد خان نے گھاس کی رسیوں کے بجائے چمڑے کے پٹوں کا استعمال کیا ، ، لارنس کے مطابق اگر چہ افغانوں نے کچھ عمارات کھڑی ضرور کی ہیں لیکن ان لوگوں نے جھیل ڈل کے کنارے اور دیگر مقامات پر مغل شاہوں کی تعمیر کردہ بے شمار عمارات تباہ کیں اور بہت سارے بے مثال باغات ویراں کر دئے ، ،، پٹھانوں نے کشمیر میں یہاں کی حسین لڑکیوں کو اپنے قبضے میں لے کر انہیں اپنے نکاح میں لایا اس میں شیعہ سنی کی کوئی تمیز نہیں تھی ، اگر چہ اکثر و بیشتر گورنر شعیہ فرقہ سے تعلق رکھتے تھے (بک مائی کشمیر) تباہی و بربادی ہی اس دور کی یاد گاریں ہیں ، چند تعمیرات یوں ہیں ، امیر جوان قزلباش نے سرینگر میں چھوٹا سا قلعہ بنوایا ، جس سے آج بھی شیر گڈھی کے نام سے جانا جاتا ہے اور جس سے آج تک ’’اولڈ سیکریٹریٹ ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ،، اس امیر خان نے امیرا کدل بھی پہلی بار بنوایا تھا ، ۔ افغان گورنر عطا محمد خان نے چرارر شریف میں نند ریشی علمدار کشمیر کا آستانہ عالیہ بنوایا اور اپنی عقیدت کے طور پر نند ریشی کے نام پر سکہ بھی رائج کیا ، مختصر یہ کہ افغانیوں کی تعمیرات آٹے میں نمک ہی کہی جاسکتی ہیں جب کہ تخریب سارے دور میں جاری رہی اور اسی لئے ان کی اگر کبھی کوئی اچھائی رہی بھی ہوتو ان کے رنگوں میں جبر و ظلم کے بغیر کوئی اور رنگ نظر نہیں آتا اسی لئے کشمیر کی تاریخ سے یہی کچھ محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب لوگ ’’کاکڑ‘‘اور’’ چراغ بیگ ‘‘ہی رہے ہیں ۔۔ یہ دونوں نام آج بھی اپنی تمام شر انگیزیوں ، فتنہ انگیزیوں ، اور سفاکانہ صفات کے پیکروں کی صورت زندہ و جاوید ہیں ، اور جہاں کہیں ہمیں کسی شخص میں یہ صفات بیک وقت نظر آتی ہیں ہم بے دریغ اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس سے ،،، کاکڑ خان یا چراغ بیگ ہی سے تشبیہ دیتے ہیں ،،، یہ ایک بڑی وجہ رہی ہے کہ پنڈتوں نے ظلم و جبر کے خاتمے کے لئے رنجیت سنگھ کو کشمیر پر قبضہ کرنے کی نہ صرف تحریک دی بلکہ عملی طور بھی ہر طرح کی معاونت کی ،،رنجیت سنگھ کا مختصر سا تعارف یوں ہے کہ ، سدا کور ۔ سبدا کور جنید والے کی لڑکی کے بطن سے ایک لڑکا پیدا ہوا ، باپ کا نام مان سنگھ تھا ، اس کا نام رنجیت سنگھ رکھا گیا ، ۵ سال کی عمر میں اس بچے پر چیچک کا اس قدر شدید حملہ ہوا کہ ایک آنکھ جاتی رہی ، ، ۱۲ سال کی عمر میں باپ کا انتقال ہوا ، ،جب رنجیت سترہ سال کا ہوا تو اپنی ماں کے کردار پر متوحش ہوا کیونکہ اس کی شہرت اس ضمن میں بہت پہلے سے ہی ہوچکی تھی اس لئے اپنی ماں کو زہر دے کرقتل کیا ، رنجیت خود بہادر بھی تھااور قسمت نے اس کا ساتھ بھی نبھایا ،لوٹ مار سے کچھ شہروں اور دیہات کو قبضے میں کیا ،، ۱۷۹۸؁ء لاہور پر چیت سنگھ ، گوجر سنگھ اور صاحب سنگھ حاکمان تھے جن سے لوگ تنگ آچکے تھے اس لئے جب رنجیت نے ان پر حملہ کیا تو کوئی خاص مزاحمت نہیں ہوئی ، ، ’’تا ریخ گلشن ‘‘ میں درج ہے کہ یہ تینوں کم ظرف اور بدکار تھے ،، کشمیر کو فتح کرنے کے بعد رنجیت سنگھ کی پورے پنجاب میں دھاک بیٹھ گئی ، باوجو اس کی اپنی بد عنوانیوں کے اس کا دبدبہ قائم رہا،مہاراجہ رنجیت سنگھ شیر پنجاب کہلائے ، کشمیر پر ان کا قبضہ۱۸۱۹ کو ہوا ، ،،،، مہاراجہ کی طرف سے سب سے پہلا دیوان یہاں ، مصر دیوان چند بنا ۔