اداریہ

کوئی بھی وعدہ پورا نہیں ہوا!

اب جبکہ کہ ہر کوئی یعنی عام و خواص اس بات سے واقف ہے کہ ریاست میں نئی حکومت بھی عوامی بہبود کےلئے کچھ نہیں کر پائی بلکہ الٹا عوام کو مصیبتوں کے اوور دھکیلنے کی کوشش میں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ریاست میں بر سر اقتدار پارٹی پی ڈی پی نے عوام کے سامنے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے بہت سارے وعدے کئے ہیں تاہم عملی جامع پہنانے میں یہ پار ٹی تاحال ناکام رہی ہے۔ اور تو اور ریاستی عوام کے لئے مرکز کی طرف سے بھی ایسے تجویز سامنے آتے ہیں جنہیں ایک عام آدمی بھی پرکھیں تو انہیں اندھیرا ہی اندھیرا نظر آرہا ہے ۔ مرکز کی طرف سے ریاست مخالف پالیسی پر سیول سوسائٹی نے مرکز میں برسراقتدار فرقہ پرست سیاست میں یقین رکھنے والی جماعتوں پر نشانہ سادھتے ہوئے انکشاف کیا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بگاڑنے کیلئے ایسی طاقتوں نے وقت وقت پر آئین ہند کے تحت ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کو زک پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ہے۔ سویل سوسائٹی کے ارکان نے ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ مرکز وقت وقت پر ریاست کے اندر ایسے حالات پیدا کرتا ہے جن سے اس حساس ریاست کے پاس خصوصی پوزیشن کے نام جو کچھ بچا کچھاہے، اس کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ اس کی تازہ مثال مرکز کی یہ تجویز ہے کہ ریاست میں شورش کے دوران کام کررہے ان سبکدوش فوجیوں کو مالی فوائد پہنچانے کے علاوہ انہیں بسانا ہے،جو ایک خطرناک سازش کا حصہ ہے۔اس طرح مرکزریاست کے آبادیاتی تناسب میں بگاڑ پیدا کرنے کے علاوہ یہاں کی مسلم اکثریت کو تبدیل کرکے انہیں اقلیت بناناچاہتا ہے اسی طرح مرکزی شماریات ایکٹ میں ترمیم کے اس کے اختیارات میں ریاست جموں و کشمیر کو بھی لانا ہے۔ چونکہ ریاست کے پا س اس طرح کا اپنا قانون ہے،اس لئے مرکز چاہتا ہے کہ وہ قانون میں ترمیم کرے ،ریاستی حکومت سے اجازت حاصل کئے بغیر انجام دے سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں مرکز کو اس طرح کے اعداد و شمار حاصل کرنے کے لئے ریاستی حکومت سے اجازت طلب کرنا پڑتی ہے اور اگر مرکز نے ایکٹ میں ترمیم کی تو بعد میں اسے کسی سے اجازت حاصل کرنی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ریاست کے قدرتی وسائل مرکز کو سونپ کر دراصل یہاں کے حکمران ریاست کی معیشت کو کمزور کرتے ہیں نہ کہ اس میں سدھار کی کوئی کوشش کی جاتی ہے۔سول سوسائٹی نے مرکز کے ان روڈ پروجیکٹوں کو بھی ہدف تنقید بنایا جن کا مقصد ریاست کی حساس قدرتی خوبصورتی اور وسائل کو لوٹناہے۔ ریاست از خود کمزور پڑرہی ہے اور وقت کے حکمران اسے مزید ابتری کی طرف لے جارہے ہیں۔سیول سوسائٹی ممبران نے برسراقتدار حکومت کی اکائی پی ڈی پی کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ حکومت بناتے وقت انہوں نے لوگوں سے جو وعدے کئے،ان میں سے کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ سیلاب زدگان آج بھی در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور متاثرین کی باز آباد کاری کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ پارٹی کی اس طرح کی مبینہ خاموشی سے ریاست کے لوگوں کا فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہورہا ہے۔