نقطہ نظر

کورونا ،لاک ڈائون اور مہنگا ئی
کس کس ستم نے مجھ کو ،اے ہم نشیں ہے مارا

کورونا وائرس سال2019کے دسمبر مہینے میں چین کے وُہا ن شہرسے نمودار ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ سر حدوں کو عبر کر تا ہوا دنیا کے کونے کو نے میں پھیل گیا ۔اس وائرس کے نمودار ہو ئے ابھی دو سال بھی نہیں گزرے ہیں مگر اس نے دنیا کے ایک ایک ملک میں اپنے پنجے کچھ اس مضبوطی سے گا ڑھ دئے ہیں کہ عالم انسانیت پریشان و حیران ہے کہ آگے کیا کچھ کیا جانا چاہئے ۔سردست عالم انسانیت کے سامنے سب سے بڑ امتبا دل یہی تھا کہ انسانوں کے نقل و حمل کو محدود کیا جا ئے تاکہ جب تک اس وائرس کا کو ئی علاج نکلے لو گ متاثر ہو نے سے بچیں اور یوں جا نوں کو بچایا جا سکے ۔اس سب کے با وجود کو رونا وائرس پھیلتا ہی گیا اور اس نے دنیا کے اندر کروڑوں کی تعداد میں لو گوں کو متا ثر کیا جبکہ لاکھوں ایسے ہیں جو اس وائرس سے لڑ تے لڑ تے اپنی زندگی کی جنگ ہا ر گئے ہیں ۔ جموںوکشمیر میں اگر چہ اب بھا رت کے دیگر حصوں کی طرح لاک ڈائون میں کا فی نر می کی گئی ہے تاہم کو رونا وائرس کی تلوار ابھی بھی سروں کے اوپر لٹکی ہو ئی ہے ۔کم و بیش ڈیڑھ سال کے لا ک ڈائون نے جہاں انسانی نفسیات پر انتہا ئی مضر اثرات مر تب کئے ہیں وہیں اس دوران دنیا بھر کے اندر مہنگا ئی کا فی حد تک بڑ ھ گئی ہے ۔جموں و کشمیر میں بھی لوگوں کو کورونا وائرس کی وجہ سے طرح طرح کے مسائل کا سامنا کر نا پڑ اہے جن میں بے روزگاری اور مہنگا ئی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔کچھ عرصہ قبل جموں وکشمیر میں کرائے گئے ایک سر وے میں انتہا ئی تشویشناک منظر کشی ہو ئی تھی جس دوران بتایا گیا کہ جموں وکشمیر کے اندر پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران کم و بیش پچاس ہزار افراد رو ز گا ر سے محروم ہو ئے ہیں ۔کورونا وائرس کے پھیلا ئو کے بعد حکو مت کی جانب سے عائد کئے گئے لا ک ڈائون کے نتیجہ میں جب لوگ ان کے گھروں کے اندر محصور ہو ئے تو زندگی کی تمام تر معمولات ٹھپ ہو کر رہ گئیں ۔ایسے میں منظم اور غیر منظم دونوں سیکٹروں سے وابستہ کا مگا ر روزگار سے ہا تھ دھو بیٹھے اور یوں سماج کا ہر ایک طبقہ متاثر ہوا ۔تعمیرات کے سیکٹر میں بھی تمام تر سرکاری و نجی پرو جیکٹوں پر کا م رک گیا اور یو میہ اجرت پر کا م کر نے والے مزدور متاثر ہوئے۔اس دوران مر کزی حکو مت کی مہر با نیاں بھی پو رے بھا رت پر سایہ فگن ہو گئیں اور پیٹرول ،ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنو عات کی قیمتیں ہر گزتے دن کے ساتھ بڑ ھنے لگیں اور یہ سلسلہ اب تک جا ری ہے ۔آج کل خال خال ہی کو ئی دن ایسا گزرتا ہے جب بھا رت کی بڑ ی تیل کمپنیاں جیسے ہندوستان پیٹرولیم اور انڈین آئیل پیٹرول و ڈیزل کی قیمتیں نہ بڑ ھا رہی ہوں ۔تیل کی ان بڑ ھتی قیمتوں کا اثر تجا رت کے ہر شعبہ پر پڑ ھا اور یوں عام استعمال کی کو ئی ایک بھی چیز ایسی نہیں ہے جس کی قیمت نہ بڑ ھی ہو ۔ تیل سیاح ایک ٹین سرینگر میں کو رونا لا ک ڈائون سے قبل چودہ یا پندرہ سو کے حساب سے بکتا تھا مگر ان دنوں حال یہ ہے کہ اسی ایک ٹین تیل سیاہ کی قیمت تین ہزار روپے سے بھی اوپر ہو گئی ہے ۔ سرینگر شہر میں سبزی اوردودھ سے لے کر گھریلو ضرورت کے با قی ساز و سامان تک ہر چیز کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے اور عام انسان کی قوت خرید کا فی حد تک متا ثر ہو ئی ہے
کو رونا وائرس اپنے ساتھ کئی طرح کے مسائل لے کر آیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس وباء کو عالم انسانیت کی اب تک کی سب مہلک وبا ء تصور کیا جا تاہے ۔یہ وائر س جن لوگوں کو لگ گئی ان کو بھی متا ثر کر دیا اور جنہیں نہیں بھی لگی انہیں بھی متاثر کر رہا ہے ۔حال ہی میں جا ری کی گئی ایک رپو رٹ میں اس با ت کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ کو رونا وائرس سے صحت یا ب ہو ئے لو گوں میں کئی طرح کے مسائل ِ صحت رہتے ہیں جن میں تھکان، جو ڑوں اور پٹھو ں میں درد ایک عام شکایت ہے ۔جولوگ کورونا وائرس سے بچائو کے لئے اپنے گھروں تک محدود رہے یا ابھی بھی رہ رہے ہیں ان میں بھی کئی طرح کے ذہنی و جسمانی مسائل کی تشخیص ہو ئی ہے جس میں ذہنی تنا ئو ،مو ٹاپا ،بے خوابی اور دیگر کئی مسائل شامل ہیں۔لوگوں کے اندر کسی چیز کے خوف کی جو سطح ہو تی ہے کو رونا وائرس کے نتیجہ میں خوف کی وہ سطح بھی بڑ ھ گئی ہے اور طبی ما ہرین اس کو ایک انتہا ئی خطرناک اور تشویشناک صورتحال قرار دے رہے ہیں۔شائد یہی وجہ ہے کہ کئی لو گ لا ک ڈائون کے نفا ذ کے حق میں روزِ اول سے ہی نہیں تھے ۔
حکو مت کی جانب سے جموں وکشمیر کے صنعتی سیکٹر کو کسی قسم کا کو ئی سہا را نہ ملنے کی وجہ سے بھی بے روزگا ری بڑ ھ گئی ہے کیو نکہ یہاں کے صنعتی سیکٹر میں جمود کی وجہ سے ملا زمین کی تنخواہیں کا رخانہ داروں یا صنعتکا روں کے لئے ایک بڑا چلینج بن گئی ہیں ۔ایسی صورتحال میں انہوں نے مال زمین کی چھٹی کر نے میں ہی عافیت سمجھی اور حکو متی ہدایا ت کے بالکل بر عکس ان لوگوں نے ملا زمین کو نو کریوں سے نکال دیا جو بے روز گا ری کے بڑھنے کی ایک اور وجہ ہے۔صورتحال جس قدر سنگین رُخ اختیا ر کر تی جارہی ہے ایسے میں ضروری ہے کہ حکو مت اس حوالے سے فوری نو عیت کے اقداما ت کر ے تاکہ لو گوں کو تھوڑا بہت راحت محسوس ہو ۔