نقطہ نظر

کورونا لاک ڈائون اور جموں و کشمیر کی معیشت
وسیع لاک ڈائون کورونا سے بھی زیا دہ خطر نا ک ثابت نہ ہو

تجمل احمد
جموں و کشمیر کی حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلا ئو میں تشویشناک اُچھا ل آجا نے کے بعد اس مہلک وائرس کے پھیلائو کا دائرہ تو ڑنے کے لئے پہلے نا ئٹ کر فیو اور اب 84گھنٹوں پر محیط لاک ڈائون کا اعلا ن کر دیا اور یہ لا ک ڈائون جمعہ یعنی 30اپریل سے جموں وکشمیر کے گیا رہ سب سے زیا دہ متا ثرہ اضلاع میں نا فذ العمل ہے ۔اس بات میں کسی شک و شبہ کی کو ئی گنجا ئش نہیں کہ لا ک ڈائون کو رونا وائرس کے پھیلا ئو کو روکنے کے حوالے سے ایک موثر آپشن ہو سکتا ہے مگر اس دوران اس بات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ وسیع تر لا ک ڈائون سے فوائد کے بجا ئے زیا دہ نقصانات ہی سامنے آجاتے ہیں اور یہ کئی طرح کے سماجی اور خاندانی مسائل کو جنم دے سکتا ہے ۔گزشتہ سال دنیا کے مختلف علا قوں میں نا فذ کئے گئے لا ک ڈائون کے نتیجہ میں جو مسائل سامنے آئے تھے ان میں گھریلو تشدد میں اضافہ ،نفسیاتی بیما ریوںمیں تشویشناک اُچھا ل اور سب سے اہم ملکوں ،اقوام اور لوگوں کی اقتصادی حالت انتہا ئی دگر گو ں ہو گئی تھی جس کے نتیجہ میں جرائم بھی بڑ ھ گئے تھے ۔اس حوالے سے کئے گئے ایک سر وے میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈائون کے نتیجہ میں جب لوگ گھروں کے اندر محصور ہو کر رہ گئے تو ان کے اندر قوت ِ برداشت کا فی کم ہو گیا اور ٹی وی چینل کو بدلنے کے معمولی سے مسئلہ پر بھی گھروں کے اندر ما ر پیٹ پر نو بت آگئی اور یو ں گھریلو تشدد کے واقعات میں تیس فیصد اضافہ درج کیاگیا۔ سائنسی تحقیق اس با ت کی شاہد ہے کہ ایک سماجی حیوان ہو نے کے نتیجہ میں انسان کا گھر سے با ہر آنا ایک لا زمی امر ہے اور جب ایک فرد کئی کئی روز تک گھر سے باہر نہیں آتا تو اس کی نفسیات کے اندر کئی طرح کے مسائل پیدا ہو جا تے ہیں۔ طبی ما ہرین کا کہنا ہے کہ نفسیا تی مر یضوں کے لئے ضروری ہے کہ انہیں گھر سے با ہر گھو منے پھر نے کے لئے لے جا یا جائے تاکہ ان کا دھیا ن ان کی ذہنی بیما ری سے ہٹ جائے اور ٹھیک ہو سکیں مگر کو رونا وائرس کے پھیلا ئو کے نتیجہ میں لگا ئے گئے لاک ڈائوں کے نتیجہ میں چو نکہ یہ لو گ اپنے گھروں تک ہی محدود ہو کر رہ گئے لہٰذاء ان کی ذہنی پریشانیاں بڑ ھ گئیں اور ان کے مر ض میں اضافہ دیکھنے کو ملا ۔نفسیاتی مر یضوں کی صحت پر لا ک ڈائون کے مضر اثرات کے حوالے سے گزشتہ برس کئی طرح کی تحقیق ہو ئی اور ہر تحقیق سے یہ بات سامنے آگئی کہ لا ک ڈائون نفسیاتی مریضوں کے لئے کسی بھی صورت میں صحیح نہیں ہے اور ایسے مر یضوں کو گھروں سے با ہر آنے جا نے کی اجازت دینا ان کی صحت کیلئے انتہا ئی ضروری ہے۔دنیا بھر میں لا ک ڈائون کے دوران طلاقوں اور خود کشیو ں کے واقعات میں بھی تشویشناک اچھا ل دیکھنے کو ملی اور سماجی و طبی ماہرین نے ایک ہی رائے دی اور وہ یہ کہ لاک ڈائون ان سب مسائل کی اصل وجہ ہے ۔
جموں وکشمیر گزشتہ تین دہا ئیوں سے زیا دہ عر صہ سے ایک غیر یقینی صورتحال سے دو چار رہا ہے جس دوران ہم نے ہڑ تال اور کر فیو کے ہزاروں ایام دیکھے ہیں ۔یہاں کے محدود کا روباری اور تجا رتی منظر نامے میں ان تین دہائیوں کے دوران انتہا ئی تشویشناک تغیر و تبدل رونما ہو ا جس نے یہاں کے تجا رتی سیکٹر اور اس سیکٹر کے ساتھ جُڑے ہو ئے لوگوں کو نا قابل تلافی نقصانات سے دوچار کر دیا ۔وادی ٔ کشمیر کو اس حوالے سے کچھ زیادہ ہی مسائل کا سامنا کر نا پڑا کیو نکہ نا مساعد حالا ت کے دوران ہڑ تال اور کر فیو کا اثر زیا دہ تر وادی تک ہی محدود رہا ۔اب یہ لگا تار تیسرا سال ہے جب وادی کے اندر ہڑتال یا کر فیو کے نتیجہ میں اقتصادی سر گر میاں لگ بھگ ٹھپ ہیں اور اس شعبے کے ساتھ جڑے افراد کمر توڑ ما لی مشکلا ت کا سامنا کر رہے ہیں ۔کشمیر چیمبر آف کا مر س اینڈ انڈسٹری کے حال ہی میں کرائے گئے ایک سر وے کے دوران اس با ت کا انکشاف ہوا کہ گزشتہ دو بر سوں کے دوران جموں وکشمیر خاص کر وادی کی معیشت کو چھ سو کروڑ روپے کا خسارہ ہوا جس کے نتیجہ میں درجنوں صنعتی یو نٹ بند ہو ئے ،کئی افراد کی تجارت منجمد ہو ئی اور درجنوں لوگ ایسے ہیں جو دیوالیہ ہو کر نا نِ شبینہ کے محتاج ہو ئے ۔سرینگر شہر میں ایک محتا ط اندازے کے مطابق گیا رہ ہزار چھا پڑ ی فروش ہیں جن کی روزی رو ٹی کا حال یہ ہے کہ وہ دن بھر انتہا ئی محنت کے ساتھ مختلف نو عیت کی چیزیں جیسے سبزیاں ،میو ہ جات، ملبو سات و دیگر گھریلو اور روز مرہ کا ساز و سامان بیچ کر اپنے اور اپنے با ل بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی کما لیتے ہیں مگر گزشتہ دو سال کے دوران یہ لوگ ایک سنگین صورتحال سے دوچار ہیں کیو نکہ کسی بھی طرح کے نا مساعد حالا ت کا پہلا شکار یہی لوگ بن جا تے ہیں۔ سال2021ء کی شروعات میں اگر چہ کورونا وائرس کے پھیلا ئو کا گراف کا فی کم ہو گیا تھا جس کے نتیجہ میں بھا رت بھر کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر میں بھی اقتصادی سر گر میوں نے رفتا ر پکڑ لی تھی مگر اب جبکہ جموں و کشمیر میں یو میہ سامنے آنے والے کورونا مریضوں کی تعداد 3500کے ہندسے کو بھی پا ر کر گئی ہے تو ایسے میں حکو مت کی جانب سے عائد کئے گئے لا ک ڈائون کا پہلا شکا ر یہی لو گ بن گئے ہیں ۔
سر دیوں کے ایام میں وادی کے اندر سیاحتی سر گر میوں نے بھی رفتار پکڑ نا شروع کر دیا تھا اور ہزاروں کی تعداد میں ملکی سیاح واردِ کشمیر ہو رہے تھے مگر لا ک ڈائون کے نتیجہ میںیہ سرگرمیاں بھی ما ند پڑ گئی ہیں اور سیاحتی شعبہ ایک مر تبہ پھر جمود کا شکا ر ہو گیا ہے ۔ایسے میں سیاحتی سیکٹر کے ساتھ وابستہ لوگوں کا روز گار ایک مر تبہ پھر متا ثر ہو چکاہے اور اگر صورتحال کچھ اسی طرح سے چلتی رہی تو اس سیکٹر کے ساتھ وابستہ شکا رہ والوں ،ٹورسٹ آپریٹروں ،ہو ٹل ما لکان اور ان کے ملا زمین کو شدید نو عیت کے مشکلات کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے جو ان لوگوں کے لئے کسی قیا مت سے کم نہیں ہو گا ۔اس دوران ایک اہم با ت یہ بھی ہے کہ تجا رتی سیکٹر کے ساتھ وابستہ اکثر و بیشتر لوگوں نے اپنے کا روبا ر کو سہارا دینے کی غرض سے مختلف بینکوں سے قرضے لئے ہیں اور یہ لوگ لا ک ڈائون کے نتیجہ میں قرضوں کی ادائیگی سے قاصر ہیں اور اس طرح سے ان پر سود کا بو جھ بھی بڑ ھ رہا ہے ۔اس ساری صورتحال کے بیچ حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے ہو ئے لوگوں کو اس با ت پر سنجیدہ غور و فکر کر نے کی ضرورت ہے کہ لاک ڈائون اگر چہ ایک صحیح قدم ہے مگر اس کو زیادہ وسیع نہ کیا جا ئے تاکہ یہاں کی اقتصادیت کو ایک مر تبہ پھر پستیوں کی جانب نہ جا نے پڑے اور یہاں کے عوام کو لا ک ڈائون کے بعد ابھر کر سامنے آنے والے طرح طرح کے مسائل کا سامنا نہ کر نا پڑ ے ۔کورونا وائرس کی روکتھا م کے لئے ضروری ہے کہ اس حوالے سے جا ری کئے گئے رہنما خطوط پر عمل آوری یقینی بنانے کے لئے سنجیدہ اور سخت اقدامات کئے جائیں اورلو گوں کو زیا دہ دیر تک ان کے گھروں میں مقید نہ رکھا جا ئے ۔