اداریہ

کورونا لاک ڈائون میں نر می کہیں فیصلہ اُلٹے نتایج نہ لے آئے

جموں و کشمیر میں کورونا وائر س کی دوسری لہر کے بعد حکو مت کی جانب سے عائد کئے گئے لا ک ڈائون میں کسی حد تک مشروط نر می کئے جا نے کےا علا ن کے ساتھ ہی یہاں کے عوام نے اگر چہ راحت کی سانس لی تاہم کا روبا ر زند گی ابھی تک اپنی معمول کی رفتا ر پکڑ نے میں کا میا ب نہیں ہو اہے کیو نکہ حکو مت نے لا ک ڈائون میں محدود نر می کے ساتھ چند شرائط بھی عائد کر دی ہیں جس کے نتیجہ میں معمول کی سر گرمیوں کا مکمل طور شروع ہو نا ابھی مشکل ہے ۔اسبا ت میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ لو گ حکو مت کی جا نب سے دی جانے والی معمولی سے معمو لی رعایت کا بھی نا جائز فا ئدہ اٹھا نے لگ جا تے ہیں اور پھر جوق در جو ق گھروں سے با ہر نکل کر اپنی معمولات شروع کر نے کی تگ و دو کر تے ہیں ۔اس دوران یہ با ت بھی اہم ہے کہ مسلسل لا ک ڈائون کے نتیجہ میں جہاں لو گوں کے مالی حالات دگر گو ں ہیں وہیں گھروں کے حصار میں کا فی عرصہ سے قید لوگوں کیلئے کچھ نفسیاتی مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں ۔حکو مت کی جانب سے لا ک ڈائون میں کی جانے والی ان نر میوں کے تحت گلی محلوں میں بھیڑ بھاڑ سے دور دکا نوں کو کھو لے جا نے کی اجازت دی گئی جبکہ بازاروں میں محض سوموار اور جمعرات کو دکانیں کھو لنے کی اجازت دی گئی تاہم اس میں بھی یہ شر ط رکھی گئی کہ ایسے با زاروں میں جہاں دونوں اطراف دکا نیں ہیں وہاں ایک طرف کی دکا نیں ایک دن جبکہ دوسری طرف کی دکا نیں دوسرے روز کھو لی جا ئیں گی ۔اسی طرح سے کچھ شرائط کے ساتھ دیگر چند سر گرمیوں کی اجازت بھی دی گئی تاہم انتظامیہ نے عام لوگوں پر یہ واضح کر دیا کہ وہ کو رونا وائرس کی روکتھا م کے لئے جا ری کئے گئے رہنما خطوط پر من وعن عمل کر یں اور ایس او پیز کو توڑنے سے احتراز کریں۔حکو مت کے اس فیصلہ کے ساتھ ہی وادی کے اطراف و اکناف میں زندگی کی جیسے جان میں جا ن پڑ ھ گئی اور اگلے دن سرینگر شہر کی اکثر سڑکوں پر ٹریفک جا م کے نظارے دیکھنے کو ملے جبکہ با زار بھی قواعد و ضوابط کے ساتھ کھل گئے ۔جموں وکشمیر میں کئی تا جر انجمنیں حکو مت سے لگا تار اس با ت کا مطالبہ کر رہی تھیں کہ لا ک ڈائون کو ختم کر دیا جا نا چاہئے یا پھر اس میں کچھ رعا یا ت دی جا نی چاہئیں تا کہ تجارت پیشہ افراد اپنا کا روبا ر کر سکیں اور لوگ غربت و فاقہ کشی کا شکا ر نہ ہوں ۔اس دوران حق تو یہ ہے کہ حکو مت نے یہ با ت واضح کر دی کہ اس کے سامنے لوگوں کی جا نیں کا روبا ر اور تجا رت سے زیا دہ اہم اور قیمتی ہیں لہٰذاء لاک ڈائون کا نفا ذ حکو مت کی مجبو ری ہے ۔اس دوران تاجروں کے ساتھ ساتھ طبی ما ہرین کا ایک طبقہ بھی اس را ئے کا حامل تھا کہ حکو مت کو سختی کے ساتھ لا ک ڈائون کا نفا ذ عمل میں لا کر کورونا وائرس کے پھیلا ئو کو روکنا چاہئے اور یہ لوگ سمجھتے تھے کہ لاک ڈائون کے بغیر کورونا وائر س کی دوسری لہر کا دائرہ محدود کر نے کا اور کو ئی راستہ ہی نہیں ہے لہٰذاء حکو مت لاک ڈائون کے نفا ذ میں جس قدر دیر کرے گی اتنا ہی سنگین نتا ئج ہمیں بھگتنا پڑ یں گے ۔
لگاتار کئی ہفتوں تک لا ک ڈائون نافذ کئے رکھنے کے بعد حکومت نے ایک ایسے وقت میں اس میں رعایتیں دینے کا اعلان کیا جبکہ جموں وکشمیر میں کو رونا وائرس کے یو میہ معاملات کی تعداد دوہزار کے آس پا س ہی تھی اور اس مہلک وبا ء سے جا ں بحق ہو نے والوں کی تعداد میں بھی کو ئی خاطر خواہ کمی نہیں ہو ئی تھی ۔لاک ڈائون میں نر می برتے جا نے کے محض دوسرے ہی روز سامنے آنے والے یو میہ مریضوں کی تعداد میں کم و بیش تین سو کا اضافہ دیکھنے کو ملا اور جس طرح سے لوگ جو ق در جو ق گھروں سے نکل کر با زاروں کا رخ کر رہے ہیں تو لگتا ہے کہ لاک ڈائون میں نر می کئے جا نے کے فیصلے کے سخت نتا ئج بھگتنا پڑ یں گے ۔کئی ما ہرین کی رائے ہے کہ حکو مت کا لاک ڈائون میں نر می کر نے کا فیصلہ جلد با زی میں لیا گیا ایک فیصلہ تھا اور اگر لوگوں نے بڑ ی سنجید گی کے ساتھ(جس کے کہ بہت کم چانسز ہیں ) ایس اوپیز پر عمل نہیں کیا اور فیس ماسک لگا نے و سماجی دوری بنا ئے رکھنے کے اصول پر کا ر بند نہیں رہے تو آنے والے دنو ں میں جموں و کشمیر میں یو میہ مر یضوں کی تعداد اپر یل کی نہج پر ہی پہنچ جا نے کا خطرہ ہے اور بعید نہیں کہ ہمیں ایک مر تبہ پھر لا ک ڈائون کے دورسے گزر نا پڑ ے ۔