سرورق مضمون

کورونا نے ایک بار پھر ملک کو مفلوج کردیا

کورونا کا قہر جاری ہے اور پوری دنیا میں اس پر سخت تشویش پائی جاتی ہے ۔ ہندوستان بھر میں اس حوالے سے عجیب و غریب صورتحال پائی جاتی ہے ۔ ایک طرف کئی لاکھ لوگ وائرس سے متاثر بتائے جاتے ہیں ۔ دوسری طرف بڑے پیمانے پر سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں ۔ مغربی بنگال میں سیاسی جلسوں میں لوگ بڑی تعداد میں شریک ہورہے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق حال ہی میں وزیراعظم اور وزیرداخلہ نے بنگال میں کئی الیکشن ریلیوں سے خطاب کیا ۔ اس موقعے پر وہاں ان کے جلسوں میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی ۔ وزیراعظم نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ان کی نظر جہاں تک جاتی ہے لوگ ہی لوگ نظر آرہے ہیں ۔ جلسے میں لوگ ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملاکر نعرے لگارہے تھے ۔ اس موقعے پر انہوں نے ایک دوسرے سے کوئی دوری اختیار کی تھی نہ فیس ماسک ہی نظر آئے ۔ ان جلسوں کو سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ طبی ماہرین نے کورونا کی اس سیاست کاری پر حیرانگی کا اظہار کیا ۔ اس سے پہلے الیکشن کمیشن کو تجویز ملی تھی کہ انتخابات کو مختصر کیا جائے ۔ لیکن یہ تجویز مسترد کی گئی ۔ ادھر بتایا گیا کہ ملک میں کورونا کا مقابلہ کرنے کے لئے وسائل کی سخت کمی پائی جاتی ہے ۔ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے مبینہ طور کئی مریض مارے گئے ۔ دہلی کے وزیراعلیٰ نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ ان کو ملنے والی آکسیجن کہیں اور پہنچائی جاتی ہے ۔ وزیراعلیٰ کیجریوال نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ دہلی کو ملنے والی آکسیجن وہاں پہنچانے میں ان کی مدد کی جائے ۔ یاد رہے کہ دہلی میں آکسیجن تیار کرنے کا کوئی پلانٹ نہیں ۔ وہاں ہریانہ سے آکسیجن آتی ہے ۔ کیجریوال نے الزام لگایا کہ آکسیجن سے بھرے ٹرک وہاں پہنچانے میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں ۔ اس سے پہلے وزیراعظم نے دہلی کے لئے آکسیجن کے کوٹے میں اضافہ کرنے کا حکم دیا ۔ اس حکم پر عمل کرنے کے حوالے سے مبینہ طور رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں ۔ آکسیجن کی کمی سے دہلی میں تشویشناک صورتحال پائی جاتی ہے ۔
ادھر کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ مرکزی سرکار کووڈ19 سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکار وہی کھیل کھیل رہی ہے جو نوٹ بندی کے وقت کھیلا گیا ۔ راہول کا کہنا ہے کہ حکومت ویکسین فراہم کرنے میں ناکام رہی ۔ ہسپتالوں میں مبینہ طور آکسیجن کی سخت کمی پائی جاتی ہے اور لوگ مررہے ہیں ۔ اس پر کوئی پالیسی بنانے کے بجائے وزیراعظم تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔ راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ نوٹ بندی کے وقت لوگوں کو جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا آج ایک بار پھر وہی صورتحال ہے ۔ اس دوران کئی سیاسی لیڈر کووڈ 19 کا شکار بتائے جاتے ہیں ۔ عوام سخت خوف وہراس کا شکار ہیں ۔ وزیراعظم نے اس امکان کو مسترد کیا کہ ملک میں ایک بار پھر لاک داون لگایا جائے ۔ تاہم دہلی سرکار کی طرف سے کرفیو نافذ کرنے کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ دوسری ریاستوں سے آئے مزدور سخت مشکلات سے دو چار ہیں ۔ بہت سے مزدور اپنے آبائی گھروں کو روانہ ہوچکے ہیں ۔ لیکن ٹرین سروس میسر نہ آنے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں ۔ اسی طرح بہت سے علاقوں میں لوگوں کو اپنے مردے جلانے کے لئے لکڑیاں نہیں مل رہی ہیں ۔ اس وجہ سے اجتماعی طور جلانے کا کام انجام دیا جارہاہے ۔ ادھر ممبئی کی صورتحال بھی تشویش ناک بتائی جاتی ہے ۔ وہاں کی حکومت نے کئی طرح کی بندشوں کا اعلان کیا ہے ۔ لیکن تاحال کوئی راحت میسر نہیں آئی ہے ۔ ملک میں کورونا مریضوں کی تعداد تین لاکھ تک پہنچ رہی ہے ۔ ہر روز لاکھوں نئے کیس سامنے آتے ہیں ۔ ہسپتالوں میں جگہ کم پڑرہی ہے اور طبی عملے کے لئے ضروری ساز وسامان میسر نہیں ۔ اس صورتحال نے ہسپتالوں میں کام کرنے والے اہلکاروں کے لئے سخت مشکلات پیدا کی ہیں ۔ سب سے تشویش ناک صورتحال یہ ہے کہ لوگوں کو کورونا مخالف ٹیکہ دینے کی مہم اچانک ٹھنڈ پڑی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ویکسین جتنی تعداد میں ضرورت ہیں اتنی تعداد میں تیار نہیں ہورہے ۔ لوگ بڑی بے تابی سے ویکسین کا انتظار کررہے ہیں لیکن دستیاب نہیں ہیں ۔ جن لوگوں کو پہلا ڈوز دیا گیا بہت سے لوگوں کے لئے وقت پر دوسرا ڈوز نہیں مل رہاہے ۔ اس وجہ سے ویکسین دینے کے شیڈول میں تبدیلی کی گئی ۔ اس دوران اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ویکسین دینے کی ہدایت کی گئی ۔ لیکن ویکسین موجود نہیں ہیں ۔ حکومت نے بہت جلد ویکسین فراہم کرنے کی یقین دہانی کی ہے ۔
کورونا لہر کے قہر کے بیچ جموں کشمیر میں اسلحہ برداروں نے ایک بینک شاخ پر حملہ کرکے دو لاکھ اسی ہزار روپے اڑا لئے ۔ اس حوالے سے جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق مسلح نوجوان کھور پٹن میں قائم جموں کشمیر بینک برانچ میں داخل ہوئے ۔ اسلحہ برداروں نے کووڈ عملے کی وردیاں پہنی ہوئی تھیں ۔ اس وجہ سے ان کو پہچاننے میں غلطی کی گئی ۔ بینک میں داخل ہوکر انہوں نے پہلے وہاں تعینات حفاظت کے لئے اہلکار کی دوبور بندوق چھین لی ۔ بینک ملازموں نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے گولیوں کے کچھ رائونڈ چلائے جس سے بینک میں موجود افراد پر دہشت پھیل گئی ۔ اس کے بعد انہوں وہاں جمع کیش ہتھیا لی اور باہر آگئے ۔ باہر آکر انہوں نے ایک شخص کی گاڑی چھین لی اور سوار ہوکر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے ۔ پولیس نے فوری کاروائی کرکے اگلے دن گاڑی اور وہ وردیاں برآمد کیں جو پہن کر اسلحہ بردار بینک میں داخل ہوئے تھے ۔ اس طرح سے ترنت کاروائی کرتے ہوئے پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کی ۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ حملہ آوروں نے کووڈ وردیاں پہن کر بینک پر حملہ کیا ۔ جموں کشمیر میں اس وقت کووڈ کے حوالے سے سخت تشویش پائی جاتی ہے ۔ ہر روز نئے مریضوں کی شناخت کی جاتی ہے ۔ سرکار نے کئی علاقوں کو ریڈ زون قراردیتے ہوئے وہاں نقل وحمل بند کردی۔ اس دوران مسافر گاڑیوں سے کہا گیا کہ وہ نصف سواریاں لے کر ہی چلیں ۔ اس کے خلاف جموں میں ٹرانسپورٹروں نے احتجاج کرتے ہوئے گاڑیاں نہ چلانے کا فیصلہ ۔ گاڑیوں کے بند ہونے سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ سرکار نے بازاروں کے لئے یہ طریقہ بنایا کہ نصف دکانیں بند اور نصف کھلی رہیں ۔ کشمیر ٹریڈرز یونین کی طرف سے اس پر احتجاج کیا گیا ۔ تاجر لیڈروں کا کہنا ہے کہ اس سے بھیڑ کم ہونے کے بجائے بڑجائے گی ۔ تاہم سرکار نے اپنا حکم واپس لینے سے انکار کیا ۔ اس وجہ سے سخت مایوسی کا عالم پایا جاتا ہے ۔