بلاگ

کورونا وائرس کا مو جودہ بحران
اور ہما ری غیر سر کا ری تنظیموں کا رول

جموں و کشمیر کے جس کسی غلی محلہ میں دیکھا جا ئے یا نظر دوڑائی جا ئے تو وہاں پر کسی نہ کسی این جی او یا غیر سر کاری تنظیم کا دفتر ضرور نظر آئے گا۔غیر سرکا ری تنظیمیں کسی بھی سماج یا ملک و قوم کا ایک لا زمی اور اہم حصہ ہو تی ہیں کیو نکہ یہ حالتِ امن ،حالتِ جنگ اور قدرتی آفا ت کے دوران بھی اپنا کر دار ادا کر کے لوگوں کی مشکلا ت کو کم کرنے ،غریبوں ،مسکینوں اور مفلو ک الحال لوگوں کی امداد کر کے اور بعض اوقات خطِ افلا س کے نیچے زندگی گزر بسر کر نے والے طبقے کے بچوں کی تعلیم و تر بیت میں ایک اہم رول ادا کر تی ہیں ۔کئی غیر سر کا ری تنظیموں اپنے بے لو ث انسانی جذبے اور خد ما ت کی خاطر سر حدیں عبور کی ہیں اور اپنی خد ما ت کا دائرہ بر اعظموں کے پار وسیع کر دیا ہے ۔مختلف مواقع پر مختلف ممالک کی حکو متوں نے بھی ان غیر سر کا ری تنظیموں کے رول کو سراہا ہے اور ان تنظیموں یا ان سے وابستہ افراد کو انعام و اکرام سے بھی نوازا گیا ہے ۔
ہما رے جموں وکشمیر کی بالعموم اور وادی ٔ کشمیر کی با لخصوص ایک خاصیت یہ رہی ہے کہ یہاں پر کئی فعال غیر سر کا ری تنظیموں کے ساتھ ساتھ ہر گلی اور محلہ میں وہاں کے مقامی لوگوں کی جانب سے ایک بیت الما ل قائم ہے اور یہ بیت الما ل ان علا قوں کے غریب اور نا دار افراد کی امداد کر نے کے ساتھ ساتھ مریضوں کے علاج و معالجہ میں بھی ایک اہم اور نما یا ں کر دار ادا کر رہے ہیں ۔اس کے علا وہ قدرتی آفا ت کے دوران بھی یہ بیت الما ل لوگوں کی امداد کے لئے اور انسانی زندگیوں کے اندر آسانیاں با نٹنے کے لئے میدان میں آجا تے ہیں اور یہی سماجی رواداری کی ایک بہترین مثال ہے۔جموں وکشمیر خاص کر وادی کے عوام نے پچھلے تیس سال کے نامساعد حالات کے دوران پورے عالم پر یہ بات واشگا ف کی ہے کہ جذبہ ٔ خیر سگا لی کے اعتبا ر سے ہم ایک زندہ وجا وید قوم ہیں اور ہم قدرتی آفات یا پھر انسانوں کے ذریعے سے انسانوں پر مسلط کئے گئے نامساعد حالات کے دوران اپنے آس پڑوس کے لوگوں کو تن تنہا چھو ڑ نہیں سکتے۔
اس وقت چونکہ پوری دنیا ایک وبا سے نبر د آزما ہے اور ہر روز دنیا بھر میں ہزاروں کی تعداد میں لو گ اپنی جا نوں سے ہا تھ دھو رہے ہیں جبکہ لا کھوں کی تعداد میں کو رونا وائرس کے نئے معاملات ہر روز سامنے آجا تے ہیں،لہٰذاء غیر سر کا ری تنظیموں یا مقامی سطح کے بیت الما ل کی اہمیت اور افادیت اور بڑھ جا تی ہے ۔بھا رت کی اگر با ت کر یں تو یہاں پر یو میہ سامنے آنے والے معاملات کی تعداد 4لاکھ سے بھی متجا وز ہو گئی ہے۔اس دوران ہر روز یہاں سینکڑوں کی تعداد میں لو گ ہلاک بھی ہو رہے ہیں اور تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ بھا رت کے کئی شہروں میں جاں بحق ہو جانے والے مر یضوں کے لواحقین کو شمشان گھاٹوں میں اپنے عزیز و اقارب کو نذرِ آتش کرنے کے لئے کہیں جگہ بھی نہیں مل پا رہی ہے۔ملک میں حکومتی دعوئوں کے با لکل بر عکس صحت کا شعبہ دھڑام سے زمین بو س ہو تا ہوا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ دہلی ،ممبئی ،کر نا ٹکہ ،اُتر پر دیش اور دیگر شہروں کے ہسپتالوں میں مریضوں کو نہ ہی ضروری ادویات اور نہ آکسیجن مہیا ہو رہی ہے اور بیشتر مر یضوں کی مو ت آکسیجن نہ ملنے سے ہو رہی ہے جو کہ ایک تشویشناک امر ہو نے کے ساتھ ساتھ حکو مت کی کا رکر دگی پر ایک سوالیہ نشان بھی ہے ۔
جموں و کشمیر میں اگر چہ صورتحال ابھی قابو میں ہے تاہم جس انداز سے ہر روز سامنے آنے والے مر یضوں کی تعداد بڑ ھ رہی ہے اور جس طرح سے یہاں بھی اموات کی شرح میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ،ہمیں کسی بھی صورتحال کا سامنا کر نے کے لئے حکو متی سطح پر بھی اور سماجی سطح پر بھی تیا ر رہنا ہو گا ۔اس سلسلے میں ہما ری محلہ کمیٹیاں اور غیر سر کا ری تنظیمیں کا فی اہم رول ادا کر سکتی ہیں ۔ہما رے گائوں دیہات اور شہروں کے اندر قائم بیوت المال میں لوگ کا فی تعداد میں نظر و نیا ز اور عشر و زکواۃ کا پیسہ جمع کرا تے ہیں اور یہ ہما رے کشمیری سماج کا ایک خاصہ بھی ہے۔غیر سرکا ری تنظیموں جن میں اتھء روٹ، یتیم فائونڈیشن ،کورونا وائرس واچ اور ہیلپ پُور والنٹری ٹرسٹ وغیرہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں پر بھی یہاں کے عوام کو اعتقاد بھی ہے اور اعتماد بھی ۔ان تنظیموں نے ما ضی میں بھی سماجی سطح پر ایک خوشنما تبدیلی لا نے کی غرض سے انتہا ئی قابل قدر کا م کیا ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ یہاں کے عوام ان تنظیموں کی ما لی معاونت کر نے میں ذرا بھی تحمل سے کا م نہیں لیتے ۔ان تنظیموں کو اس مشکل وقت میں بھی میدان میں آکر ایک پیشہ ورانہ انداز میں کورونا وائرس کا مقابلہ کر نے میں اپنا کردار ادا کر نا چاہئے جس میں آکسیجن سلینڈروں کی زیا دہ سے زیا دہ فراہمی ،Remedisvirدوا کی دستیا بی اور پھر کورونا وائرس سے متا ثر ہ لوگوں کو گھروں سے ہسپتال اور ہسپتال سے گھر لے جا نے کی خدما ت شامل ہیں۔اس با ت میں کو ئی شک نہیں کہ ان تنظیموں نے پہلے ہی یہ کا م شروع کر دیا ہو گا مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کا م کو دیگر تمام طرح کی مصروفیات ترک کر کے مذید وسعت دینی ہے تبھی تو ہم کو رونا وائرس کی وبا ئی صورتحال سے پیدا شدہ بحران کا مر دانہ وار مقابلہ کر سکتے ہیں ۔
یہ با ت بھی ضروری ہے کہ ما ہِ مقدس کے ان ایام میں لوگ چونکہ صدقات و خیرات کی کثرت کر تے ہیں اور ما لدار و صاحب ِنصاب لوگ اپنے ما ل اور جا ئیداد کی زکواۃ ادا کر تے ہیں،لہٰذاء اب کی با ر انہی غیر سر کا ری تنظیموں کو یہ رقوما ت ادا کئے جا نے چاہئیں تاکہ ان کے ہا تھ مضبو ط ہوں اور وہ کورونا وائرس کے خلا ف لڑ ی جا نے والی لڑائی میں زیا دہ موثر کر دار ادا کر سکیں اور اس حوالے سے انہیں رقوما ت کی کمی کا سامنا نہ ہو ۔