بلاگ

کورونا وائرس کی ممکنہ تیسری لہر
اکتوبر کے مہینے میں ’انتہا ‘ کو پہنچنے کا امکان

تجمل احمد
مر کزی وزارت داخلہ کی ہدایا ت پر نیشنل انسٹی چیو ٹ آف ڈزاسٹر منیجمنٹ کے تحت قائم کی گئی ما ہرین کی ایک کمیٹی نے خبر دار کیا ہے کہ بھارت میں کو رونا وائرس کی تیسری لہر اکتوبر کے مہینے میں انتہا کو پہنچ سکتی ہے اور طبی شعبے میں بنیادی ڈھا نچہ اور افرادی قوت کے ساتھ ساتھ دیگر سہولیات کی کمی کے نتیجہ میں یہ بچوں کو زیا دہ متا ثر کر سکتی ہے ،کمیٹی نے خبر دار کیا ہے کہ کو رونا وائرس لگا تا ر اپنی ہیئت بدل رہا ہے جس کے پیش نظر ایسے خد شات پیدا ہو ئے ہیں کہ یہ وائرس اب تک دستیاب ویکسینز کو یا تو نا کا رہ کر سکتا ہے یا ان کے اثرات کو کم کر سکتا ہے ۔ماہرین نے اس لہر کے اثرات سے بچنے کے لئے پیشگی تیا ری کی سفارش کی ہے اور کہا ہے کہ حکو مت کو طبی شعبے کے اندر بنیا دی ڈھا نچے کو جس قدر ہو سکے کم کر لینا چاہئے ۔ماہرین کی کمیٹی کی جانب سے وزیر اعظم ہند کے دفتر کو پیش کی گئی اس رپو رٹ کے تنا ظر میں اگر جموں وکشمیر کے طبی منظر نا مے پر نظر دوڑائی جا ئے تو صورتحال اور بھی ما یو س کُن ہے کیو نکہ ہما رے یہاں طبی شعبے میں افرادی قوت کے ساتھ ساتھ بنیا دی ڈھا نچے کی بھی سخت قلت اور کمی پا ئی جا رہی ہے اور ممکنہ تیسری لہر کے نتیجہ میں وادی میں ایک بحرانی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔
بھا رت کی مر کزی وزارت داخلہ نے کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران ہزاروں لوگوں (غیر سر کا ری اعداد و شمار کے مطابق لاکھوں) لو گوں کی جا نیں تلف ہو نے کے بعد صورتحال کا جا ئزہ لینے کی غرض سے نیشنل انسٹی چیوٹ آف ڈزاسٹر منیجمنٹ کے تحت ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں ملک کے نامی گرامی طبی اداروں کے ساتھ وابستہ ما ہرین شامل کئے گئے اور اس کمیٹی کو ملک کے اندر کو رونا وائرس کی صورتحال کا جا ئزہ لے کر اس حوالے سے ایک رپو رٹ وزیر اعظم دفتر کو پیش کر نے کے لئے کہا گیا ۔آل انڈ یا انسٹی چیو ٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈائر یکٹر کی سر براہی والی اس کمیٹی نے کئی ہفتوں تک بھا رت کے طبی شعبے میں پا ئی جا نے والی کمی پیشیوںکا جا ئزہ لینے کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر کو وڈ کی صورتحال کا بغور جا ئزہ لیا اور چند رو ز قبل اپنی رپورٹ وزیر اعظم نر یندر مو دی کے دفتر کو پیش کر دی ۔کمیٹی نے خبر دار کر دیا ہے کہ بھارت کے اندر کو رونا وائرس کی تیسری لہر شروع ہو چکی ہے اور خد شہ ظاہر کیا ہے کہ یہ لہر اکتو بر کے مہینے میں اپنی انتہا کو پہنچ سکتی ہے ۔کمیٹی نے اپنی رپو رٹ میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر بچوں کو زیا دہ متا ثر کر سکتی ہے کیو نکہ کو رونا وائرس لگا تا ر اپنی ہیئت اور سر گر میا ں تبدیل کر رہا ہے۔رپو رٹ میں اس با ت کا خد شہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ چو نکہ وائرس اپنی ہیئت تبدیل کر رہا ہے لہٰذاء اس کی وجہ سے وائرس اب تک دستیاب ویکسینز کو یا تو نا کا رہ بنا سکتا ہے یا پھر ان کے اثرات کو کم کر سکتا ہے جس کے نتیجہ میں ایک بار پھر بڑ ے پیما نے پر انسانی جا نوں کا زیا ں ہوسکتا ہے ۔کمیٹی نے کہا ہے کہ بھا رت کے اندر طبی شعبے میں بنیا دی ڈھا نچہ اور افرادی قوت ’معقول ‘ سے کا فی دور ہے اور حکو مت کو اپنی تمام تر تو جہ طبی شعبے کے اندر بنیا دی ڈھا نچے کو مضبو ط بنا نے پر صرف کر لینی چاہئے ۔رپو رٹ میں کہا گیا ہے کہ حکو مت خاص کر متعلقہ مر کزی وزارت کو پیشگی طور انتظامات اور تیا ری میں جُٹ جا نا چاہئے تاکہ انسانی زندگیوں کو جس قدر بھی ہو سکے بچایا جا سکے ۔کمیٹی نے کہا ہے کہ ملک کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں ،نیم طبی عملے ،سازو سامان ،وینٹی لیٹرس ،ایمبولنسوں وغیرہ کی کا فی کمی ہے جس پر فو ری طور تو جہ دئے جا نے کی ضرورت ہے ۔رپو رٹ میں بتا یا گیا ہے کہ بچوں کے لئے چونکہ ما رکیٹ میں اس وقت کو ئی ویکسین دستیا ب نہیں ہے لہٰذاء ممکنہ تیسری لہر سے بچے زیا دہ تر متاثر ہو سکتے ہیں اور حکو مت کو چاہئے کہ وہ بچوں کے لئے کو ئی ویکسین تیا ر کر نے کے عمل میں جُٹ جا ئے ۔مر کزی وزارت داخلہ کی ہدایا ت پر قائم کی گئی اس کمیٹی کی جانب سے پیش کی گئی رپو رٹ کے تنا ظر میں اگر جموںو کشمیر خاص کر وادی کے ہسپتالوں یا یہاں کے طبی منظر نا مے کا جا ئزہ لیا جائے تو صورتحال انتہا ئی نا گفتہ بہ ہے ۔ہما رے سر کا ری ہسپتالوں میں طبی اور نیم طبی عملے کی پہلے ہی کا فی کمی پا ئی جا رہی ہے اور بنیا دی ڈھا نچہ بھی اس قدر نا معقول ہے کہ اگر دہلی ،بنگلور یا ممبئی جیسی صورتحال یہاں پیدا ہو جا تی ہے تو یہاں پر لا کھوں لوگوں کی جانیں جا سکتی ہیں ۔ایس ایم ایچ ایس (شری مہا راجا ہر ی سنگھ ) ہسپتال سرینگر جو کہ وادی کا دوسرا بڑا طبی ادارہ ہے اور گورنمنٹ میڈیکل کا لج سر ینگر کے ساتھ براہ ِ راست منسلک ہے میں طبی ساز و سامان کی اس قدر کمی ہے کہ پو رے ہسپتا ل کے اندر محض بارہ(12) وینٹی لیٹر مو جو د ہیں اور اکثر و بیشتر مریض اس وجہ سے اپنی جانوں سے ہا تھ دھو بیٹھتے ہیں کہ انہیں وینٹی لیٹر دستیا ب نہیں ہو رہا ہے ۔وادی کے اندر ویسے بھی کورونا وائر س کے حوالے سے صورتحال میں اس قدر زیا دہ پیش رفت نہیں ہو ئی ہے اور سرینگر ضلع میں روزانہ درجنوں نئے معاملا ت سامنے آرہے ہیں۔پرسوں بھی جموں وکشمیر میں ایک سو سٹھ افراد کو رونا مثبت پا ئے گئے جن میں محض سر ینگر ضلع سے سٹھ کے قریب نئے معاملا ت کی نشاندہی ہو ئی ہے ۔وادی میں اکتو بر کے مہینے سے ہی سردیاں شروع ہو جا تی ہیں اور سر دیوں کے دوران عام صورتحال میں بھی لوگ نزلہ ،زکام اور کھا نسی کا شکار ہو جا تے ہیں اورایسے میں اگر کورونا وائرس کی تیسری لہر شروع ہو کر وادی کا بھی رُخ کر تی ہے تو اس کے بھیا نک نتا ئج سامنے آسکتے ہیں ۔حکو مت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ طبی شعبے کے اندر بنیا دی ڈھا نچے کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ ممکنہ تیسری لہر سے نمٹنے میں بھی جُٹ جا ئے تاکہ اکتوبر ہمارے لئے کسی بھی طرح سے تشویش کا با عث نہ ہو ۔صورہ میڈیکل انسٹی چیو ٹ ،ایس ایم ایچ ایس اور جہلم ویلی میڈیکل کا لج کے ساتھ ساتھ دیگر سر کا ری ہسپتالوں اور میڈیکل کا لجو ں کا ایسی صورتحال میں ایک اہم رول بنتا ہے اور حکو مت کو چاہئے کہ وہ ان اداروں کو معقول رقوما ت دستیا ب کرا ئے تا کہ یہ طبی ادارے معقول ساز و سامان حاصل کر کے تیاریوں میں جٹ جا ئیں ۔