سرورق مضمون

کورونا وائرس کی ممکنہ تیسری لہر
کیا ہما را طبی شعبہ مقابلہ کیلئے تیا ر ہے ؟

کورونا وائرس کی ممکنہ تیسری لہر<br>کیا ہما را طبی شعبہ مقابلہ کیلئے تیا ر ہے ؟

تجمل احمد
ایک ایسے وقت میں جبکہ جموں و کشمیر میں کورونا کے عالمی وبا ء کی دوسری لہر زور و شور سے جا ری ہے اور یو میہ بنیا دوں پر سینکڑوں لوگ اس وائرس سے متا ثر ہو رہے ہیں جبکہ درجنوں اپنی جا نوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں ،صحت ما ہرین کا خیا ل ہے کہ ہمیں کسی بھی وقت اس وبا ء کی تیسری لہر سے واسطہ پڑ سکتا ہے جس کے لئے ہمیں پیشگی تیا ری کر لینی چاہئے ۔طبی ما ہرین کا خیال ہے کہ اس لہر کو ٹالا بھی جا سکتا ہے بشرطیکہ حکو مت اور عوام دونوں اپنی ذمہ داریو ں کا احساس کر یں اور ہر سطح پر کو وڈ موافق طرز عمل اپنا یا جائے ۔سرینگر ٹوڈے نے اس مسئلہ کو لے کر کئی طبی ماہرین کے ساتھ با ت کی اور ان سے یہ جا ننے کی کوشش کی کہ آیاکورونا وائرس کی تیسری لہر سے ہمیں لازمی طو ر واسطہ پڑ نے والا ہے اور کیا اس لہر کو ٹالا جاسکتا ہے یا پھر اس سے ہو نے والا جا نی نقصان کم کیا جا سکتا ہے تاہم اس سے قبل کہ ہم اس مسئلہ پر بات کریں یہ با ت ضروری ہے کہ ہم اب تک کی صورتحال کی ایک تصویر اپنے قارئین کے سامنے رکھیں ۔دسمبر 2019ء میں چین کے شہر وُہا ن میں شروع ہو نے والے کو رونا وائر س نے اس وقت پورے عالم کے اندر ہا ہا کار مچائی ہو ئی ہے اور اب تک اس وائرس سے لا کھوں کی تعداد میں لو گ ہلا ک ہو چکے ہیں جبکہ کروڑوں ایسے ہیں جو اس وباء کی زد میں آکر مو ت و حیا ت کی کشمکش میں مبتلا ء ہیں ۔اس وائرس کے حوالے سے ایک تشویشناک با ت یہ ہے کہ اس نے گزشتہ ڑیڑ ھ سال کے اندر شر ق و غرب میں اپنی ہیت و ما ہیت میں لگا تار تبدیلی لا ئی ہو ئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب تک اس کا کوئی علا ج نہیں ڈھو نڈا جا سکا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے ابھی تک کوئی پیش رفت ہو ئی ہے ۔بھا رت کے اندر اس وقت بھی جبکہ کورونا وائرس کی دوسری لہر میں سر کا ری اعداد و شمار کے مطا بق ٹھہرا ئو سا درج کیا جا نے لگا ہے،اس وائرس کے کئی ویرینٹ (Variant) پائے جا تے ہیں جس کے نتیجہ میں ما ہر ین ِ صحت یہ بات بر ملا کہہ رہے ہیں کہ اس وائر س کے با رے میں یا اس کی حر کا ت و سکنا ت کے با رے میں کو ئی چیز پیشگی طور بتا نا با لکل ہی نا ممکن ہے اور طبی ما ہرین کی اس رائے کی وائرس پر اب تک ہو ئی ریسرچ سے بھی تصدیق ہو رہی ہے ۔
بھا رت جہاںکو رونا وائر س کی دوسری لہر نے پو رے طبی نظام کو زمین بو س کر تے ہو ئے ہرطرف ہاہا کا ر مچائی ہو ئی ہے کیلئے تیسر ی لہر اس سے بھی ہلا کت خیز ثابت ہو سکتی ہے۔دوسری لہر کے دوران بھا رت کے متعدد شہروں میں مر یضوں کی تعداد اس قدر بڑ ھ گئی کہ ہسپتالوں میں مر یضوں کو بیڈ دستیا ب نہیں ہو پا رہے تھے اور اگر کہیں کسی مر یض کو بیڈ مل بھی جا تا تھا تو اسے آکسیجن یا دیگر ضروری ادویات میسر نہیں ہو رہی تھیں ۔اس دوران چند سو روپے کی قیمت رکھنے والا Remedisvirانجکشن بیس بیس ، چالیس چالیس ہزار رو پے میں بیچا گیا جبکہ ہسپتالوں کے اندر بیڈ دلا نے کے لئے بھی غریب عوام سے ہزاروں روپے کی رشوت لئے جا نے کی خبریں بھی میڈیا اور سوشل میڈیا میں لگا تا ر گر دش کرتی رہیں ۔ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ کیا تیسری لہر کی صورت میں بھا رت میں مزید تبا ہی پھیل سکتی ہے اور کیا جموں و کشمیر کا کمزور طبی ڈھا نچہ کو رونا وائرس کی ممکنہ تیسری لہر کا مقابلہ کر نے کے لئے کا فی ہے ،یا پھر کو رونا وائرس کی تیسری لہر کو روکا جا سکتا ہے ؟ ہم نے انہی سوالوں کے جواب ڈھو نڈنے کی کو شش کی ہے ۔
ڈاکٹرس ایسو سی ایشن آف کشمیر کے صدر اور وبا ئی بیما ریوں کے ما ہر ڈاکٹر نثار الحسن کا کہنا تھا کہ پہلی لہر کے دوران اس وائر س نے سب سے زیا دہ متا ثر بزرگو ں اور عمر رسیدہ افراد کو کیا جبکہ نو جوانوں پر پہلی لہر کے دوران اس وائرس کا اثر زیا دہ سنگین نہیں رہا۔ان کا کہنا تھا کہ دوسری لہر کے دوران طبی ما ہرین کو یہ با ت دیکھنے میں آئی ہے کہ اب کی با ر نو جو انوں کی ایک بڑ ی تعداد کو بھی اس نے متا ثر کیا اور سینکڑوں کی تعداد میں نو جوان اپنی جا نوں سے ہا تھ دھو بیٹھے۔ان کا کہنا تھا کہ اب ہما رے پا س صرف نو عمر بچے ہی ہیں جن کو یہ وائرس متا ثر کر سکتا ہے ۔ڈاکٹر نثار الحسن کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے طبی ما ہرین اس وائرس کے علا ج و معالجہ یا پھر طریقہ ٔ علا ج و بچائو کے حوالے سے بھلے ہی ایک مختلف نکتہ ٔ نگا ہ رکھتے ہو ں مگر ہمیں یہ با ت یا د رکھنی چاہئے کہ سبھی طبی ما ہرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ وائرس ہر عمر کی لوگوں کو اور ہرایک فرد کو لگ جا ئے گا ۔انہو ں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ تیسری لہر کب آئے گی یا کب آئے گی تاہم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ دوسری لہر کی شدت کم ہو جا نے یا اس کے ختم ہو نے کے ساتھ وائرس ختم ہو گیا ہے ۔ڈاکٹر نثار الحسن کا کہنا تھا کہ اس وائر س کے حوالے سے یہ با ت سامنے آئی ہے کہ یہ وائر س کچھ مخصوص وقت کیلئے خامو ش رہتے ہو ئے بڑے ہی شاطر انداز میں ابھر آتا ہے اور دوسی لہر اس کی ہمارے سامنے ایک واضح مثال ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ بھا رت کے دیگر علا قوں کے مقابلہ میں جموں وکشمیر کے اندر کو رونا کی دوسری لہر ایک ہفتہ بعد میں شروع ہو ئی اور اگر بھا رت میں دوسری لہر کی شدت میں بتدریج کمی ہو رہی ہے تو جموں و کشمیر میں اس لہر کا زور ٹوٹنے میں مزید ایک ہفتہ لگ سکتا ہے ۔ان کا تاہم کہنا تھا کہ نہ ہی عوام اور نا ہی حکو مت کو کسی بھی طرح کی سہل انگا ری سے کا م لینا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ تمام تر مسائل اور تنقید کے با وجو د یہ با ت سچ ہے کہ لا ک ڈائوں کے نتیجہ میں ہم اس مہلک وائرس کے پھیلا ئو کو روکنے میں کا فی حد تک کا میاب ہو ئے ہیں اور آئندہ ایک دو دن میں بھلے ہی تا زہ معاملا ت کی تعداد میں کمی آئے مگر حکو مت کو لا ک ڈائون میں نرمی نہیں لانی چاہئے اور نہ ہی عام لوگوں کو احتیا ط برتنے سے با ز آنا چاہئے ۔ان کا کہنا تھا کہ دوسری لہر کی شدت میں کمی کے معنی ہر گز بھی یہ نہیں ہیں کہ ہم اس پر مکمل قابو پا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سب سے بہتر چیز یہ ہو گی کہ ہم بڑ ی سرعت کے ساتھ ٹیکہ کاری کے عمل کو آگے لے جا ئیں تاکہ اگر وائرس کی تیسری لہر آ بھی جا ئے تو اس کے زیا دہ سنگین اثرات مر تب نہ ہو ں ۔ڈاکٹر نثار الحسن کا کہنا تھا کہ ٹیکہ کا ری کا عمل اگرچہ پو رے ملک کے اندر سست پڑ گیا ہے تاہم جموں و کشمیر خاص کر وادی کے اندر اس کی رفتا ر تشویشناک حد تک کم ہے اور حکو مت پر لا زم ہے کہ اس مسئلہ پر غور کیا جا ئے۔ان کا کہنا تھا کہ وبا ئی امراض کا ما ہر ہو نے کے ناطے وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حکو مت کو بچوں کو بھی ویکسین لگا نے کا عمل شروع کردینا چاہئے تاکہ انہیں ممکنہ تیسری لہر کے اثرات سے بچایا جاسکے اور کم سے کم جا نی نقصان ہو ۔جموں و کشمیر خاص کر وادی کے طبی اداروں کے اندر کووڈ موافق بنیا دی ڈھا نچہ کے کمزور ہو نے سے متعلق پوچھے جا نے پر ڈاکٹر نثار الحسن کا کہنا تھا کہ جب کو ئی وبا ء مجموعی سطح پر لوگوں کو متا ثر کر رہی ہو تو اس میں دنیا کا بہترین سے بہترین طبی نظام بھی کچھ کر نے کی پوزیشن میں نہیں ہو تا ہے لہذاء ہمیں اس وقت اس مسئلہ پر با ت نہیں کر نی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے دیر سے ہی صحیح مگر طبی شعبے کے بنیا دی ڈھا نچے میں کا فی مثبت تبدیلیا ں لا ئی ہو ئی ہیں ۔
تیسری لہر کے دوران بچوں کے زیا دہ متا ثر ہو نے کے حوالے سے سامنے آنے والی آراء کے سلسلے میں وادی کے ایک نا مور ما ہر امراض اطفال اور گو رنمنٹ میڈیکل کا لج اننت نا گ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شوکت شفا ء نے ڈاکٹر نثار الحسن کی با ت سے اتفا ق کر تے ہو ئے کہا کہ وہ بھی ما نتے ہیں کہ ہمیں بچوں کو بھی ٹیکہ کا ری کے دائر ے میں لا نا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر کے آنے یا نہ آنے کے حوالے سے اگر چہ وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے تاہم ہمیں احتیا طی تدابیر پر عمل کر نے میں لیت و لعل سے کا م نہیں لینا چاہئے۔ان کا تاہم یہ بھی کہنا تھا کہ ضروری نہیں ہے کہ تیسری لہر کے دوران بچوں کے اندر اموات کی شرح انتہا ئی زیا دہ ہو گی کیونکہ پہلی اور دوسری لہر کے دوران بچوں کے اندر شر ح اموات کا فی کم رہی ہے ۔