اداریہ

کورونا وائرس کی وجہ سے سیاحتی مندی
حکو مت مالی پیکیج کا اعلان کر ے تو با ت بنے

سیاحتی سیکٹر جموں وکشمیر کی معیشت کے لئے کچھ عرصہ قبل تک ایک انتہا ئی اہم رول ادا کر رہا تھا اور اب بھی اس سیکٹر میں یہ صلا حیت مو جو د ہے کہ اگر اس کے احیا ء کے لئے حکو متی سطح پر کوششیں کی جا ئیں تو یہ ہما ری معیشت کے فروغ کے لئے ایک اہم سہارا ثابت ہوسکتا ہے۔پچھلے چند سال کے نا مساعد حالات کے دوران اس سیکٹر کو کافی نقصانا ت جھیلنا پڑ ے ہیں ۔اگست دو 2019میں مرکزی حکو مت کی جا نب سے جموں وکشمیر کی خصوصی پو زیشن کو ختم کئے جا نے سے قبل ایک ایڈ وائزری جا ری کی گئی جس کے تحت سیاحوں کو فوری طور پر جموں وکشمیر سے چلے جا نے کے لئے کہاگیا اور حکو مت کے اس فیصلے نے یہاں کے سیاحتی سیکٹر کو کمر توڑ نقصانا ت سے دو چار کر دیا ۔رواں برس اگرچہ امید کی جا رہی تھی کہ شائد سیاحتی سیزن میں حالات تھوڑا بہتر رہیں گے تاہم کورونا وائرس کے پھیلائو اور بعد ازاں حکو مت کی جانب سے عائد کئے گئے لاک ڈائوں کی وجہ سے سیاحتی سیکٹر ایک مر تبہ پھر مفلوج ہو کر رہ گیا اور اس سیکٹر کے ساتھ وابستہ ہو ٹل ما لکان ،ہا ئو س بو ٹ اونرس ودیگر لوگوں کو شدید مالی خسارہ جھیلنا پڑا جسکی بھر پا ئی میں انہیں سالہا سال لگ جا ئینگے ۔ان دنوں اگر چہ مر کزی حکو مت نے لا ک ڈائون کے قواعد و ضوابط میں بڑی حد تک نر میاں کی ہیں تاہم یہاں کا سیا حتی سیکٹر ابھی بھی مفلوج ہے ۔لاک ڈائون کے دوران دنیا بھر میں تجا رت اور دیگر قسم کے کا روبا ر رُک جا نے کے نتیجہ میں دنیا بھر میں لوگوں کے معاشی حالات دگر گوں ہیں اور سیاحت کی مندی کے لئے یہ ایک بڑی وجہ گر دانی جا رہی ہے تاہم یہ با ت بھی قابل ذکر ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلائو میں آئی کمی اور پھر مختلف ممالک کی جانب سے اس مہلک وائرس کا ویکسین تیا ر کئے جا نے کے بعد دنیا بھر میں کرو ڑوں افراد کو یہ ویکسین لگا ئے جا نے سے مستقبل میں اس مہلک وائرس کے اثرات کم ہو جا نے کی ایک امید سی پیدا ہو گئی ہے کہ شائد مستقبل قریب میں کسی وقت دنیا بھر میں لو گ ایک جگہ سے دوسری جگہ بلا روک ٹوک اور بڑ ی آسانی سے آجا سکتے ہیں ۔بھا رت میں کو رونا وائرس کی دوسری لہر میں قدرے ٹھہرائو کے بیچ اگر چہ سیاحوں نے وادی کا رخ کر نا شروع کر دیا ہے تا ہم اب چونکہ ما ہرین اس مہلک وائرس کی تیسری لہر کے شروع ہو نے کے تخمینے لگا رہے ہیں لہٰذاء ایسے میں ہو سکتا ہے کہ ہما ری سیاحتی صنعت ایک مر تبہ پھر متا ثر ہو جائے۔رواں بر س کا گر ما ئی سیاحتی سیزن اگر چہ اختتام کو پہنچنے کے قریب ہے مگر اگر صورتحال ٹھیک رہتی ہے تو کشمیر کی وادی موسم ِسر ما کے دوران بھی ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لئے ایک پسندیدہ منزل رہتی ہے اور اس صنعت کے ساتھ جڑ ے لو گوں کو مو سم ِ سر ما کے دوران بھی اپنی روزی روٹی کما نے کا بہترین موقعہ ہا تھ آسکتا ہے ۔ ایسے میں ضرورت اس با ت کی ہے کہ حکو مت سیاحت کے شعبے میں ایک نئی جا ن ڈالنے اور اس سیکٹر کے ساتھ وابستہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے ایک تر قیاتی پیکیج کا اعلان کر ے ۔یہ پیکیج اس سیکٹر کے ساتھ وابستہ لوگوں کے لئے ایک راحتی پیکیج بھی ہو نا چاہئے کیونکہ پچھلے چند سال سے یہ لوگ سیاحوں کے یہاں نہ آنے سے دانے دانے کے محتاج ہو گئے ہیں اور سینکڑوں کی تعدادمیں لو گ جو اس سیکٹر کے ساتھ منسلک تھے اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔حکو مت کو چاہئے کہ وہ جموں و کشمیر کی معیشت کے اس اہم سیکٹر میں نئی روح پھو نکنے کے لئے ایک فعال اور مو ثر پا لیسی اپنا ئے تاکہ اس سیکٹر کا احیا ئے نو ممکن ہو اور اس شعبے کے ساتھ منسلک لوگوں کو روز گا ر مل سکے ۔