اداریہ

کورونا وائرس کے پھیلائو میں اچھال
عام لوگوں کے ساتھ ساتھ حکو مت بھی ذمہ دار

بھا رت بھر کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر کے اندر بھی پچھلے کم و بیش ایک ما ہ سے کو رونا وائرس کے یو میہ سامنے آنے والے معاملات میں رفتہ رفتہ ہی سہی مگر اضافہ درج کیا جا رہا ہے اور اپریل کے اوائل تک اس مہلک وائر س کے پھیلائو میں تشویشناک اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔بھا رت میں سنیچر کو سامنے آنے والے معاملات نوے ہزار سے تجا وز کر گئے ہیں جبکہ جموں وکشمیر میں بھی سامنے آنے والے معاملات نے پانچ سو کا ہند سہ پا ر کر لیا ہے جو کہ ایک تشویشناک امر ہے ۔دوسال بعد وادی میں سیاحت کے شعبے میں کچھ سر گر میاں درج کی جا رہی تھیں اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ گزشتہ کئی برسوں سے مندی اور مالی مشکلات سے دورچار سیاحتی سیکٹر سے وابستہ لوگوں کو’ مشتِ از نمونے ‘ہی صحیح مگر راحت ضرور نصیب ہو گی ۔مگر جس اعتبا ر سے وادی کے اندر اور خاص طو ر سے سر ینگر شہر میں کو رونا وائرس کی وباء کے پھیلائو کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہو تا جا رہا ہے اس سے یہی محسوس ہو تا ہے کہ امیدوں کی یہ فصل بھی شائد ضائع ہی جا ئے گی ۔کورونا وائرس کے پھیلا ئو کی دوسری لہر جو بڑ ی تیزی کے ساتھ پیش قدمی کر رہی ہے کی وجوہات کا سبب جا ننے کی اگر کوشش کی جا ئے تویہ با ت روز روشن کی طرح عیاں و بیاں ہو جاتی ہے کہ جہاں عام لوگ اس وائرس کے پھیلائو کے لئے ذمہ دار ہیں وہیں حکو مت بھی اس کے پھیلائو سے بر ی الذمہ نہیں ہے۔پچھلے سال مر کزی حکو مت کی جانب سے عائد کئے گئے لاک ڈائون کے بعد جب بندشوں میں نر می کر نے کا سلسلہ شروع ہو گیا تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ لوگ انتہا ئی ڈسپلن کے ساتھ اب اپنی روز مر ہ کی سر گر میاں انجام دیں گے اور اس حوالے سے عدم سنجید گی کی کو ئی ایک مثال بھی سامنے نہیں آئے گی ۔مگر جو ں ہی لاک ڈائون ختم ہو ا تو عام لوگوں نے تمام تر احتیا طی تدابیر کو یکسر پس ِ پُشت ڈال دیا اور وہ سب کچھ کر نے لگے جو کورونا وائرس کے پھیلا ئو میں ممد و معاون ثابت ہو تا ہے ۔ابھی مو سم بہا ر نے وادی میں دستک بھی نہیں دی تھی کہ لوگ جو ق در جو ق گھروں سے نکل کر سیا حتی مقامات کی طرف جا نے لگے اور اس دوران احتیا طی تدابیر کا کو ئی پا س و لحاظ نہیں رکھا گیا ۔بازاروں ،تجا رتی مراکز اور دیگر مقامات پر بھی زبر دست بھیڑ اور جم ِ غفیر دیکھا جا نے لگا اور یہاں پر بھی حکو مت کی جا نب سے وقت وقت پر جا ری کئے جا نے والے رہنما خطوط پر کسی بھی درجے میں عمل در آمد کا خیال نہیں رکھا گیا ۔سرینگر شہر ہو یا وادی کا کو ئی دوسرا قصبہ کہیں پر بھی لوگوں کو فیس ماسک لگا ئے ہو ئے یا دیگر احتیا طی تدابیر اپنا تے ہو ئے دیکھا نہیں جا سکتا ۔کو رونا وائرس کے کیسز میں درج کئے جانے والے اضافے کے لئے حکو مت خاص طو ر سے مختلف اضلاع کی انتظامیہ بھی برابر کی ذمہ دار ہے کیو نکہ کسی بھی ضلع میں کو رونا وائرس کے حوالے سے جا ری کئے گئے ایس او پیز پر عمل نہ کر نے والے افراد کے خلاف آج تک بھی کو ئی کا روائی نہیں کی جا رہی ہے ۔انتظامیہ کے نر م وحریر صوفوں پر بیٹھے ہو ئے بیو روکریٹ محض حکمنا موں کے کا غذی گھوڑے دوڑاتے ہیں اور پھر کسی کو بھی اس بات کا خیال نہیں رہتا کہ آیا ان احکامات پر کو ئی عمل درآمد ہو تا ہے کہ نہیں ۔سرینگر کی ضلع انتظامیہ نے کئی ہفتے قبل ایک حکمنامہ جا ری کر تے ہوئے کہا تھا کہ بازاروں میں بغیر فیس ما سک گھو منے پھر نے والے افراد کا مو قعہ پر ہی کو رونا ٹیسٹ کیا جا ئے گا جبکہ ان پر جر ما نہ بھی عائد کیا جا ئے گا ۔یہ حکمنامہ ’حکم ِنواب تا درِنواب ‘ کے مصداق ڈی سی آفس کے کمروں تک ہی محدود رہا اور عمل آوری کا جا ئزہ لینے کی کسی کو پڑ ی بھی نہیں ہے ۔ایسی کئی مثالیں ہیں جن سے حکو مت کی اس وباء کو روکنے کے حوالے سے عدم تو جہی آشکا را ہو جا تی ہے اور یو ں عام لوگوں اور حکو مت کو اس وباء کے پھیلا ئو کیلئے برابر کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے اور اگر دونوں نے سنجید گی کا مظاہرہ نہیں کیا تو خدا کی خیر !۔