سرورق مضمون

کورونا وبا کا قہرجاری :
راحت کاری کے بجائے سیاست کاری عروج پر

کورونا وبا کا قہرجاری :<br>راحت کاری کے بجائے سیاست کاری عروج پر

یــوسف ندیم
سپریم کورٹ نے اس بات پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا کہ میڈیا کو کورونا کے حوالے رپورٹنگ سے روکا جارہاہے ۔ عدالت عظمیٰ نے جمعرات کو بھارتی الیکشن کمیشن کو اس بات پر آڑے ہاتھوں لیا کہ وہ میڈیا کو اصل رپورٹنگ سے روک رہاہے ۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ پریس کی آزادی اظہار رائے کے لئے ایک قیمتی سیکورٹی ہے ۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے دائر کی گئی ایک عرضی کے حوالے سے کہا گیا کہ اس میں کوئی بھی حقیقت نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ عدالتی کاروائی کے دوران کسی بھی جج کی طرف سے زبانی بیان کو میڈیا میں آنے سے نہیں روکا جاسکتا ہے ۔ بلکہ ایسا کرنا ضروری ہے ۔ عدالت میں یہ معاملہ اس وقت پیش آیا جبکہ ہندوستان کے الیکشن کمیشن پر اس وجہ سے سخت تنقید کی جارہی کہ اس نے کووڈ بحران کے دوران پانچ ریاستوں میں ہورہی الیکشن سرگرمیوں پر کسی قسم کی روک نہیں لگائی ۔ اس وجہ سے پورے ملک میں کورونا وائرس کا بڑے پیمانے پر پھیلائو ہوا ۔ کئی حلقے موجودہ کورونا لہر کے لئے وزیراعظم کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے پانچ ریاستوں کے لئے ہورہے انتخابات خاص کر مغربی بنگال میں بی جے پی کی جیت یقینی بنانے کے لئے ریاست میں کئی الیکشن ریلیاں کیں ۔ ان ریلیوں میں عوام کی بھاری شرکت کے دوران کسی قسم کے احتیاطی اقدامات نہیں کئے گئے تھے ۔ بہت سے حلقے الزام لگارہے ہیں کہ ملک میں کورونا کی جو لہر چل رہی ہے اس کا اصل وجہ وزیراعلیٰ اور بی جے پی کے دوسرے لیڈروں کی الیکشن سرگرمیاں ہیں ۔ یادرہے کہ مغربی بنگال میں ہوئے انتخابات میں وزیراعظم نے بڑی دلچسپی دکھائی اور انہوں نے وہاں اس قدر دورے کئے کہ اس سے پہلے انہوں نے کسی بھی ریاستی الیکشن میں اس قدر دلچسپی نہیں دکھائی ہے ۔ وزیراعظم کے علاوہ مغربی بنگال میں وزیرداخلہ اور یوپی کے وزیراعلیٰ نے کئی جلسوں سے خطاب کیا۔ ان الیکشن ریلیوں میں بی جے پی لیڈروں نے مبینہ طور ہندوتوا کارڈ کھل کر کھیلا اور لوگوں سے بی جے پی کو ووٹ دینے کی اپیل کی ۔ بنگال میں ہوئے ان انتخابات کو سخت اہمیت دی گئی اور بی جے پی کے خلاف ایک ریفرنڈم سمجھا گیا ۔ اتنی بڑے پیمانے کی سرگرمیوں کے باوجود بی جے پی یہ انتخابات جیتنے اور مد مقابل جماعت ترنمول کانگریس کو ناکام کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ۔ بی جے پی کو وہاںاسمبلی کے لئے 292 سیٹوں پر ہوئے انتخابات میں صرف 74 سیٹیں ملیں ۔ دو سیٹوں پر دوسرے لوگ کامیاب ہوئے ۔ باقی سب سیٹیں ترنمول کانگریس نے جیت لیں ۔ اس طرح سے بنگال کی دیدی ممتا بنرجی ایک بار پھر بنگال کی شیرنی ثابت ہوئی ۔ ممتا کی یہ تیسری بڑی کامیابی ہے ۔ انتخابات میں اس قدر کامیابی کو انہوں نے جمہوریت اور سیکولر ازم کی کامیابی قرار دیا ۔ ممتا بنرجی اپنی سیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہیں ۔ اس کے لئے انہوں نے مرکزی سرکار اور الیکشن کمیشن کو ذمہ دار قرار دیا ۔ تاہم انہیں پارٹی کی طرف سے ایک بار پھر اسمبلی میں لیڈر منتخب کیا گیا ۔ اس طرح سے انہوں نے تیسری بار مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ سے اپنے عہدے کا حلف لیا ۔ یہ ملک کی پہلی خاتون ہیں جو تیسری بار وزیراعلیٰ بننے میں کامیاب ہوئی ۔ ممتا بنرجی نے وزیراعلیٰ کا حلف لینے کے فوراََ بعد انتظامیہ میں کئی تبدیلیاں کیں اور کہا کہ ریاست میں امن وامان کوخراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ممتا نے الزام لگایا کہ بی جے پی ریاست کا امن و امان خراب کرنے کی کوششوں میں لگی ۔ تاہم ایسا کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی ۔ اپوزیشن پارٹیاں مجموعی طور حکومت پر الزام لگارہی ہیں کہ کورونا بحران کے دوران وزیراعظم بنگال کے انتخابات میں مصروف رہے اور مریضوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔ اس دوران مرکزی وزیر راجناتھ سنگھ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان کی حکومت کورونا وائرس کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہے اور جلد ہی اس صورتحال پر قابو پانے میں کامیاب ہوگی ۔ مرکزی وزیردفاع کا کہنا ہے کہ ملک کی تمام افواج اس جدوجہد میں شامل ہیں اور فوج کے تمام شعبے عوام کی تکلیف دور کرنے میں لگے ہیں ۔ راجناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس نے جو تباہی پھیلائی ہے سرکار اس کے خلاف جنگ میں مصروف ہے ۔ اس دوران فوج نے عوام کو راحت پہنچانے کے لئے بڑے پیمانے پر کام کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج ایک بڑے منصوبے کے تحت اس کام میں مشغول ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال پچھلی ایک صدی کے دوران پیش آیا خطرناک ترین واقعہ ہے ۔ اس طرح کی ہنگامی صورتحال کے اندر پوری سرکاری مشنری متحرک کی گئی اور اور بڑے پیمانے پر کام جاری ہے ۔ سنگھ نے سرکار اور عوام کے درمیان رابطہ قائم رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس وائرس کے خلاف جنگ مشترکہ کوششوں سے ہی جیتی جاسکتی ہے ۔ ادھر کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو ہندوستان میں رہنے پر خبردار کیا ہے ۔ ان ملکوں نے ہندوستان کے ساتھ ہوئی سروس کو معطل کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو فوری طور واپس اپنے گھر پہنچنے کا مشورہ دیا ہے ۔ تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ کئی مغربی ممالک کے علاوہ خلیجی ریاستوں سے امداد ہندوستان پہنچادی گئی ہے ۔ بنگلہ دیش کی طرف سے بھی طبی امدادی قافلے مبینہ طور ملک کے اندر پہنچ چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ کئی دوسرے ملکوں کی کوشش ہے کہ ہندوستان کے اندر پھیلی وبا کو روکنے میں رضاکارانہ کاموں میں شامل ہوجائیں ۔
ہندوستان اس وقت کورونا وائرس کی دوسری لہر کی زد میں ہے۔ روزانہ کیسوں کی تعداد ساڑھے چار لاکھ کی حد پار کرچکی ہے ۔ اس دوران کئی ریاستوں میں آکسیجن اسلنڈروں کی سخت کمی محسوس کی گئی ۔ بڑے پیمانے پر لوگ موت کا شکار ہوگئے ۔ اس حوالے سے کہا گیا کہ لوگوں کو بروقت طبی امداد دی گئی نہ آکسیجن اسلنڈر ضرورت کے مطابق موجود تھے ۔ کئی بیرونی ملکوں کی طرف سے امداد کی پیش کش کی گئی ۔ اس طرح سے آکسیجن کی کمی کے بحران کو کم کرنے میں مدد ملی ۔ تاہم ابھی تک دہلی ، ممبئی اور کرناٹک سے اطلاعات ہیں کہ وہاں لوگ اس وجہ سے مررہے ہیں کہ انہیں بروقت آکسیجن نہیں پہنچائی جارہی ہے ۔ جموں کے ایک ہسپتال کے بارے میں کہا گیا کہ وہاں اٹھ مریض آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے فوت ہوگئے۔ ہسپتال انتظامیہ نے اس الزام کی تردید کی ۔ تاہم سرکار نے اس معاملے کی جانچ کرنے کے احکامات دئے ہیں ۔ جموں کشمیر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ضرورت سے زیادہ آکسیجن سلنڈر موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ آکسیجن تیار کرنے کے پلانٹ بھی ضرورت کے مطابق کام کررہے ہیں ۔ تاہم جموں سے کئی میڈیا کارکن برابر یہ اطلاعات دے رہے ہیں کہ وہاں مریضوں کو طبی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ہیں ۔ کئی سوشل میڈیا کارکنوں نے جموں کے ہسپتالوں کا دورہ کرکے یہ خبریں سامنے لائیں کہ ہسپتالوں میں جگہ کم پڑنے اور آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے بہت سے مریض موت کا شکار ہوگئے ۔