سرورق مضمون

کورونا کاقہر:ہسپتالوں میں آکسیجن کی کمی سے ہاہاکار
پانچ ریاستوں میں انتخابات کا عمل مکمل

کورونا کاقہر:ہسپتالوں میں آکسیجن کی کمی سے ہاہاکار<br>پانچ ریاستوں میں انتخابات کا عمل مکمل

کورونا وائرس کی لہر کا قہر جاری ہے ۔ روزانہ مریضوں کی تعداد چار لاکھ تک پہنچ گئی ۔ یہ تعداد تین لاکھ سے نیچے آنے کا نام ہی نہیں لیتا ہے ۔ اس وجہ سے عوام میں سخت خوف کا ماحول پایا جاتا ہے ۔ کئی ریاستوں میں ایک یا دو ہفتے کے لاک ڈاون کا نفاذ عمل میں لایا گیا ۔ اس کے باوجود کورونا کی قہرسامانیاں ہر طرف چھاگئی ہیں ۔ لوگ دھڑا دھڑ موت کی آغوش میں چلے جارہے ہیں ۔ بہت سے علاقوں میں مردوں کو جلانے میں مشکلات آرہی ہیں ۔ ایک تو جگہ کم پڑ رہی ہے دوسرا لکڑی وغیرہ کی شدید کمی بھی پائی جاتی ہے ۔ اس دوران یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہسپتالوں میں مریضوں کو داخل کرنے کے لئے جگہ نہیں رہ گئی ہے۔ ایک مشہور ہسپتال کے بارے میں کہا گیا کہ ایک اعلیٰ سابق سرکاری عہدے دار کی اس وقت موت واقع ہوئی جب وہ پانچ گھنٹے تک ہسپتال میں داخل ہونے کے لئے باہر انتظار کررہاتھا ۔ ہسپتال کا عملہ اس وجہ سے اسے اندر نہیں لاسکا کیونکہ وہاں اس کے لئے کوئی جگہ نہیں پائی جاتی تھی ۔ اس دوران اس کی حالت خراب ہوگئی اور وہیں دم توڑ بیٹھا ۔ اس صورتحال پر جس قدر بھی افسوس کیا جائے کم ہے ۔ کورونا قہر نے اس وقت سخت رخ اختیار کیا جب ہسپتالوں میں آکسیجن ختم ہونے کی خبر سامنے آئی ۔ مریضوں کے لئے آکسیجن فراہم نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے مریضوں نے دم توڑ دیا ۔ اس پر کئی طرف سے ہاہاکار مچ گئی ۔ سرکار نے شروع میں ان اطلاعات کو غلط قرار دیا ۔ لیکن وزیراعظم کی طرف سے بلائی گئی آن لائن میٹنگ میں دہلی کے وزیراعلیٰ کیجریوال نے ساری صورتحال کا پول کھول دیا ۔ میٹنگ میں انہوں نے گڑ گڑ اکر اور ہاتھ جوڑ کر وزیراعظم سے آکسیجن فراہم کرنے کی مانگ کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں آکسیجن سپلائی ختم ہوچکی ہے اور کوئی ایسا وزیرموجود نہیں جس کے پاس آکسیجن کمی کی مانگ کی جاسکی ۔ کیجریوال کی طرف سے کی گئی اپیل کا ویڈیو کئی روز تک سوشل میڈیا پر گشت کرتا رہا۔ کہا جاتا ہے کہ اس پر حکومت ان سے سخت ناراض ہوئی ہے ۔ تاہم مرکزی سرکار نے تگ و دو کے بعد سعودی عرب سے لیکوڈ آکسیجن کی ایک بڑی کھیپ منگائی ہے ۔ سعودی عرب سے آکسیجن پہنچنے کے بعد حکومت نے راحت کی سانس لی ۔ اس دوران کہا گیا کہ ممبئی کی ایک عدالت نے الیکشن کمیشن کو ملک میں کورونا وائرس پھیلانے کے الزام میں مقدمہ چلانے کے لئے کہا ہے ۔ عدالت نے کئی ریاستوں میں جاری الیکشن کے دوران حکومت کی طرف سے بڑے بڑے اجتماعات کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے کہا ہے کہ اس سے ملک میں کورونا پھیل گیا ۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے جتنے بھی لوگ مارے گئے ان کے قتل کا ذمہ دار الیکشن کمیشن ہے ۔ یاد رہے کہ مغربی بھارت کی پانچ ریاستوں میں پچھلے مہینے سے انتخابی مہم جاری ہے ۔ ان ریاستوں میں آٹھ مرحلوں میں ووٹ ڈالنے کا عمل مکمل ہوچکا ہے ۔ ملک کورونا لہر کے دوران کئی حلقوں نے الیکشن کمیشن کو یہ انتخابات منسوخ کرنے یا مختصر کرنے کا مشورہ دیا گیا ۔ لیکن الیکشن کمیشن نے کوئی ایسا مشورہ ماننے سے انکار کیا ۔ یہاں تک کہ پورے ملک میں انتخابی عمل مکمل کیا جاچکاہے ۔
ملک کی جن پانچ ریاستوں میں ووٹ ڈالنے کا عمل مکمل ہوا ان میں تامل ناڈو، کیرالہ،پڈی چری اور آسام کے علاوہ مغربی بنگال شامل ہے ۔ بنگال کی الیکشن مہم کو سب سے زیادہ اہم قرار دیا جارہاہے ۔ یہاں بھاجپا کا ترنمول کانگریس کی ممتا بنرجی سے براہ راست اور سخت ترین مقابلہ ہے ۔ مغربی بنگال میں الیکشن مہم چلانے کے لئے وزیرداخلہ امیت شاہ کے علاوہ وزیراعظم نے بھی وہاں جاکر کئی بڑے بڑے جلسے کئے ۔ دونوں لیڈروں نے سخت زورڈالا کہ بھاجپا بنگال کے یہ انتخابات جیت جائے ۔ ادھر ممتا کی بھی کوششیں اپنے زوروں پر رہیں ۔ ممتا بنرجی کو ایک الیکشن جلسے کے دوران کچھ غنڈوں نے تشدد کا نشانہ بناکر زخمی کیا جس کے بعد انہیں ہسپتال میں داخل ہونا پڑا ۔ لیکن ہسپتال سے چھٹی ملتے ہی انہوں نے زخمی حالت میں اپنی الیکشن مہم جاری رکھی ۔ مرکزی سرکار کے لئے بنگال کے انتخابی نتائج عزت کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے ۔ ووٹنگ کے فوراََ بعد انتخابی نتایج کی جو پیش گوئی کی گئی ان سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی دو ریاستوں میں آگے جارہی ہے ۔ تاہم بنگال کے بارے میں ایگزٹ پول سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں ایک بار پھر ممتا بنرجی کامیاب ہوکر ابھریں گی ۔ یہ انتخابی پیشن گوئیاں صحیح ثابت ہوئیں تو مغربی بنگال میں ممتا کی یہ کامیابی کی ہیٹ ٹرک ہوگی ۔ اب تک یہی کہا جاتا ہے کہ ممتا جسے عرف عام میں دیدی کہا جاتا ہے ایک بار پھر وہاں کی وزیراعلیٰ بننے میں کامیاب ہونگی ۔ دیدی کا انتخابات جیت کر ابھر آنا بی جے پی کے لئے بڑا سیاسی دھچکہ خیال کیا جاتا ہے ۔ کیرالہ اور تامل ناڈو سے بھی کچھ اسی طرح کا خیال ظاہر کیا جارہاہے کہ کانگریس اتحاد بڑے پیمانے پر انتخابات جیت سکتا ہے ۔اس دوران آسام میں بی جے پی کے جیت کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں ۔ کورونا کے پھیلائو نے ان انتخابات کی حیثیت کوکمزور کیا ہے ۔ کئی حلقے الزام لگارہے ہیں کہ ان انتخابات کی وجہ سے ملک میں کورونا لہر کا قہر جاری ہے ۔ یہ حلقے الزام لگارہے ہیں کہ مغربی بنگال میں ہوئی بڑے پیمانے کی انتخابی سرگرمیوں کے نتیجے میں پورے ملک میں کورونا پھیل گیا ۔ اس حوالے سے وزیراعظم کو براہ راست ذمہ دار قرار دیا جارہاہے۔ ایسے حلقوں کا کہنا ہے کہ انتخابی جلسوں میں کسی طرح کے کووڈ ایس او پیز کا سرے سے کوئی خیال نہیں رکھا گیا ۔ لوگ بڑے پیمانے پر الیکشن جلسوں میںشریک ہوئے ۔ لیکن کسی بھی جگہ سوشل ڈسٹنس اور ماسک کا خیال نہیں رکھا گیا ۔ اسکول تو بند کئے گئے ۔ پڑھائی لکھائی پر پابندی لگائی گئی ۔ اسکول اور تجارتی مرکز بند کئے گئے ۔ لیکن انتخابی عمل جمعرات تک جاری رکھا گیا ۔ اس ذریعے سے ملک میں کورونا کا قہر مبینہ طور جاری ہوگیا ۔ جموں کشمیر میں بھی کورونا لہر کا شدید اثر ہے ۔ جمعرات کو ایک ہی دن میں تیس کووڈ مریض اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ اس کے بعد ایل جی انتظامیہ نے پہلے 36 گھنٹے کا اور پھر 84 گھنٹے کا لاک ڈاون نافذ کیا گیا ۔ تاہم ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں کورونا سے متاثر ہورہے ہیں جن میں کئی درجن موت کا شکار ہوگئے ۔ ہر طرف سخت مایوسی اور خوف وہراس پایا جاتا ہے ۔