نقطہ نظر

کورونا کر فیو کے نفسیات پر اثرات
کیا ہم ایک اور سنگین مسئلہ کی طرف بڑ ھ رہے ہیں ؟

تجمل احمد
اپریل 2021ء میں بھا رت کے مختلف حصوں کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر کے اندر بھی کورونا وائرس کے روزانہ سامنے آنے والے معاملات میں اُچھا ل کے پیش نظر جموں و کشمیر کی حکو مت نے اس مہلک وائر س کے پھیلا ئو کو روکنے اور صورتحال کو قابو سے با ہر ہو نے سے بچانے کے لئے’’ کورونا کر فیو ‘‘ کا نفاذ عمل میں لایا جس کے تحت با زار بند کر دئے گئے ،سر کا ری دفاتر میں ملازمین کی حاضری کو محدود کر دیا گیا جبکہ ٹرانسپورٹ کو بھی سڑکو ں سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ۔سکول ،کا لج اور یو نیورسٹیاں پہلے ہی بند ہیں اور اس طرح سے زندگی کا پہیہ جیسے تھم سا گیا ہو ۔لاک ڈائون کے نفا ذ کے پیچھے اگر چہ واحد مقصد یہ ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلا ئو کو روک دیا جا ئے یا اس کے سائیکل کو تو ڑ دیا جا ئے تاہم اس سے قطعہ نظر یہ با ت بھی ’’عیاں راچہ بیاں ‘‘ ہے کہ کو رونا کر فیو اپنے ساتھ پچھلی با ر کی طرح اب کی با ر بھی کئی سماجی مسائل ساتھ لے کر آیا ہے ۔ان مسائل میں بے روز گا ر ی سب سے بڑا مسئلہ ہے اور اسی بے روز گا ری کے نتیجہ میں پھر کچھ ذیلی مگر سنگین مسائل پیدا ہو جا تے ہیں۔لا ک ڈائون کے نتیجہ میں جموں وکشمیر کا تجارتی سیکٹر کمر توڑ حد تک متا ثر ہو رہا ہے۔ شہروگام کے اندر ہزاروں کی تعداد میں لو گ ایسے ہیں جو با زاروں کے اندر سارا دن چھا پڑی لگا کر یا ریڑہ لگا کر طرح طرح کی چیز یں ،جن میں سبزی ،میو ے ،پُرانے ملبو سات اور دیگر گھریلو ساز و سامان شامل ہے ،بیچ کر اپنے اور اپنے با ل بچوں یا اہل و عیال کے لئے دو وقت کی روٹی کا بند و بست کر لیتے ہیں ۔یہ لوگ کو رونا کرفیو کی وجہ سے اپنا روز گا ر کھو بیٹھے ہیں جس کے نتیجہ میں ان افراد کے اندر ذہنی تنا ئو کا ہو نا ایک عام سی با ت ہے ۔لا ک ڈائون کے دوران عام انسان کا گھر کی چار دیواری تک ہی محدود رہنے بذات ِخود ایک ایسا مسئلہ ہے جو اپنے اثرات کے طور پر سماج کے اندر ایک خامو ش تباہی مچا سکتا ہے ۔
طبی ما ہرین کاکہنا ہے کہ لمبے عرصے تک گھروں کی چا ر دیواری میں قید رہنے سے انسان کے اندر طرح طرح کے مسائل پیدا ہو جا تے ہیں جن میں سب سے سنگین مسئلہ انسان کی نفسیات کا ہے کیو نکہ سارا دن گھر سے باہر تلا ش رزق میں محو رہنے والا شخص جب بیک وقت گھر کے اندر قید ہو کر رہ جا تا ہے تو اس کے لئے ذہنی مسائل پیدا ہو جا تے ہیں ۔ما ہر ین کا کہنا ہے کہ گھرو ں کے اندر لوگوں کا رہنا اگر چہ اس وقت ایک مجبو ری ہے تاہم اس دوران یہ بات بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ گھروں کے اندر رہتے ہو ئے لوگ تنہا ئی میں نہ بیٹھیں اور نہ ہی بے کا ر بیٹھے رہیں بلکہ اپنے آپ کو کسی نہ کسی شغل کے ساتھ مشغول رکھیں۔سرینگر کے گورنمنٹ میڈیکل کا لج سر ینگر کے شعبہ ٔ امراض ِ نفسیات (Psychiatry) کے سر برا ہ ڈاکٹر مقبول نے اس حوالے سے بتا یا کہ ایک طرف لوگ کو رونا وائرس کی وجہ سے ایک اضطرابی صورتحال سے دوچا ر ہیں اور دوسری جانب کئی کئی روز تک گھروں کے اندر قید ہو کر رہ جا نے سے ایک صحتمند انسان کے لئے بھی کئی طرح کے طبی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ وادی میں پچھلے تیس سال کے دوران حالات چو نکہ پر تنائو رہے ہیں لہٰذاء یہاں ویسے بھی نفسیا تی مریضوں کی ایک بڑ ی تعداد پا ئی جا تی ہے۔انہوں نے خبر دار کیا کہ کو رونا کر فیو کے دوران گھروں کے اندر پڑ ے رہنے کے دوران اگر لوگوں نے ضروری احتیا ط نہیں بر تی تو لاک ڈائون کے ختم ہو جا نے کے بعد ہمیں ایک اور سنگین مسئلہ سے دوچا ر ہو نا پڑ ے گا اور وہ مسئلہ کورونا وائرس سے بھی زیا دہ خطر نا ک ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کورونا وائرس کے نمودار ہو نے اور پھر لا ک ڈائون کا نفا ذ عمل میں لا ئے جا نے کے نتیجہ میں جموں وکشمیر خاص کر وادی کے اندر نفسیا تی بیما ریوں میں پہلے ہی کافی اضافہ ہو چکا ہے اور اس میں مذید اضافے کے خد شات ہیں لہٰذاء لوگوں کو گھریلو سطح پر اس چیز کا خیال رکھنا ہو گا ۔
گزشتہ سال سے اب تک لوگوں کے اندر پا ئی گئی مختلف نفسیاتی بیما ریوں کے حوالے سے ڈاکٹر محمد مقبول ڈار کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں نے نفسیاتی مریضوں کے اندر پانچ طرح کے تکا لیف کی نشاندہی کی ہے جن میں ڈپریشن (Depression)،بے چینی (Anxiety)،Disociative and Panic Disordersوغیر ہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈپریشن کے مریضوں میں مایوسی ، نیند نہ آنا ایک عام علامت ہے جبکہ کئی لو گوں کے اندر خود کُشی جیسے خیالات بھی آجا تے ہیں ۔
اس طرح کی نفسیاتی بیما ریوں سے بچائو کے حوالے سے ڈاکٹر محمد مقبول کا کہنا تھا کہ گھروں کے اندر بے کا ر بیٹھے رہنے کے دوران لو گوں کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو کسی نہ کسی کام میں مشغول رکھیں ۔انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ انڈور گیمز (درونِ خانہ کھیلوں ) ،میں وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ تو اتر کے ساتھ ورزش کر تے رہیں۔اس کے علا وہ لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ انہیں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا چاہئے اور طرح طرح کے خوش کُن موضوعات پر ایک دوسرے کے ساتھ با ت چیت کریں ۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ وادی پچھلے تین سال سے لگا تا ر گر میوں کے ایام کے اندر لا ک ڈائون سے گزر رہی ہے جس کے نتیجہ میں یہاں ہزاروں کی تعداد میں لو گ بے کا ر و بے روز گا ر ہو چکے ہیں ۔اس مدت کے دوران نفسیاتی مر یضوں کی تعداد میں 22فیصد اضافہ بھی در ج کیا گیا ہے جو کہ ایک تشویشنا ک امر ہے ۔منشیا ت کے استعمال اور اس کی خرید و فروخت میں بھی اس عرصے کے دوران ہو ش ربا ء اضا فہ در ج کیا گیا ہے اور رواں بر س جہاں وادی میں کروڑوں روپے ما لیت کی منشیات ضبط کی گئی ہیں وہیں درجنوں افراد کو اس سلسلے میں گرفتا ر کر کے پا بند سلاسل بھی کر دیا گیا ہے ۔