سرورق مضمون

کورونا کی نئی لہر سے صورتحال تشویشناک
جموں کشمیر میں اسکول بند ، رات کا کرفیو نافذ

کورونا کی نئی لہر سے صورتحال تشویشناک<br>جموں کشمیر میں اسکول بند ، رات کا کرفیو نافذ

سرینگر ٹوڈےڈیسک
پورے ملک میں کورونا کی لہر نے سخت خوف وہراس پیدا کیا ہے ۔ متاثرین کی تعداد بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ ویکسین دینے کی مہم میں تیزی لائی جارہی ہے ۔ اس دوران ماہرین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کورونا کی لہر پر قابو پانا ممکن نہیں ہورہاہے ۔ کورونا وبا کی صورتحال سخت سنگین قرار دی جارہی ہے ۔ سرکار اس حوالے سے چپ سادھے ہوئے ہے ۔ طبی ماہرین نے بہت حد تک اپنی بے بسی کا اظہار کیا ہے ۔ ملک کے بڑے ہسپتالوں میں علاج معالجے کے نئے ضابطے اختیار کرنے پر زور دیا جارہاہے۔ کئی اہم شعبے بند کئے گئے ہیں ۔ آپریشن تھیٹروں میں روزمرہ کے کام انجام دینے کے حوالے سے بھی احتیاطی تدابیر اپنانے پر زور دیا جارہاہے ۔ ادھر عوام سے بار بار اپیل کی جارہی ہے کہ وہ احتیاط سے کام لے کرخود کو محفوظ رکھیں ۔ اپوزیشن پارٹیوں کا الزام ہے کہ سرکار دوسرے ممالک کو کورونا سے بچائو کے ٹیکے فراہم کررہی ہے ۔ لیکن اپنے عوام پر توجہ نہیں دیتی ہے ۔ اس وجہ سے کورونا متاثرین میں تشویشناک حد تک ا ضافہ ہورہاہے ۔ کئی حلقوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ایک بار پھر لاک ڈاون نافذ کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے ۔ لاک ڈاون کی صورت میں لوگوں کو مالی مسائل کا سامنا ہوگا ۔ اس دوران مزدور طبقے نے مبینہ طور اپنے آبائی علاقوں کی طرف منتقل ہونا شروع کیا ہے ۔ خاص طور سے مہاراشٹر اور دوسرے علاقوں سے مزدوروں کی منتقلی کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں ۔ کسان تحریک کے لیڈروں نے الزام لگایا ہے کہ حکومت کورونا کی نئی لہر کی آڑ میں ان کی ایجی ٹیشن ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ اس طرح کی صورتحال جہاں ایک بار پھر کورونا کی لہر بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے لوگوں میں سخت مایوسی پائی جاتی ہے ۔
سرکاری طور پیش گئے اعداد و شمار کے مطابق ایک دن میں ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو کورونا سے متاثر پایا گیا ۔ اس کے ساتھ کئی سو لوگوں کے مارے جانے کی بھی اطلاع ہے ۔ یہ صرف ہندوستان کی صورتحال نہیں بلکہ دوسرے ملکوں کے اندر بھی کورونا لہر نے ایک بار پھر لوگوں کو اپنی زد میں لایا ہے ۔ یہ بات اپنی جگہ کہ پچھلے سال کی طرح اس بار خوف وہراس کا ماحول نہیں ۔ تاہم لوگوں کو جس طرح سے فیس ماسک پہننے اور ایک دوسرے سے دوری اختیار کرنے پر زور دیا جارہاہے ۔ اس دوران مغربی بنگال میں الیکشن میں حصہ لینے والی بی جے پی اور ترنمول کانگریس پر تنقید کی جارہی ہے کہ وہاں الیکشن جلسوں کے دوران کوئی احتیاطی تدابیر نہیں اپنائی جارہی ہیں ۔ مرکزی سرکار کے لیڈروں کی طرف سے وہاں جلسے جلوس کئے جارہے ہیں ۔ کسی بھی جگہ لوگوں کے درمیان فاصلہ بنانے پر زور نہیں دیا گیا ۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ سنجیدہ کوششوں کے فقدان کی وجہ سے کورونا لہر بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ آئندہ دنوں کے اندر اس لہر میں مزید تیزی آنے کا اندیشہ ہے ۔
جموں کشمیر میں بھی کورونا لہر میں شدت پائی جاتی ہے ۔ یہاں روزانہ کورونا کیسوں کی تعداد آٹھ سو تک پہنچ گئی ہے ۔ انتظامیہ نے اسکول بند کئے ہیں ۔ پہلی جماعت سے لے کر نویں جماعت تک کے تمام تعلیمی ادارے دو ہفتوں کے لئے جبکہ بارھویں جماعت تک کے اسکول دو ہفتوں کے لئے بند کرنے کے احکامات دئے گئے ۔ اساتذہ کو آں لائن کلاس شروع کرنے کے لئے کہا گیا ہے ۔ اسکول بند کرنے اور باقی تمام سرگرمیاں جاری رکھنے پر حیرانگی کا اظہار کیا جارہاہے ۔ کئی حلقے حکومت کے اس فیصلے پر ناراضگی بھی ظاہر کررہے ہیں ۔ٹولپ گارڈن کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ سیر کو آتے ہیں اور ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملاکر چلتے ہیں ۔ اس بات کو کئی حلقوں نے بہت ہی تشویشناک قرار دیا ہے ۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ سیاحوں پر کوئی احتیاط لازم نہیں ہے ۔ اس کے بجائے تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کئی اضلاع میں رات کا کرفیو نافذ کرنے کے احکامات دئے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ جو اضلاع کورونا سے زیادہ متاثر ہیں وہاں رات کا کرفیو نافذ کیا جائے گا تاکہ لوگوں کو ایک دوسرے سے دور رکھا جائے ۔ جموں ، اودھم پور اور کٹھوعہ کے علاوہ کشمیر کے کئی اضلاع میں شبینہ کرفیو لگانے کے احکامات دئے گئے ہیں ۔ ان اضلاع میں بارھمولہ ، بڈگام ، اننت ناگ اور کپوارہ شامل ہیں ۔ سرینگر میں بہت زیادہ کورونا کیسز سامنے آئے ہیں ۔ لیکن اس بار یہاں سیاح بڑی تعداد میں موجود پائے جاتے ہیں ۔ اس وجہ سے سرینگر کے لئے ابھی بندشوں کا اعلان نہیں کیا گیا ۔ اس کے ساتھ سرینگر کے ہوٹل مالکوں سے مبینہ طور ضلع مجسٹریٹ نے کچھ کمرے کورونا متاثرین کے لئے مخصوص رکھنے کے لئے کہا ہے ۔ محکمہ صحت سے کہا گیا ہے کہ کورونا مخالف ٹیکے لگانے میں سرعت لائی جائے تاکہ وبا کو کنٹرول کیا جاسکے ۔ حالانہ کچھ لوگوں کے حوالے سے کہا گیا کہ ٹیکہ لگانے کے باوجود ان پر وائرس کا حملہ ہوا ہے ۔ اس حوالے سے سابق وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ کا نام لیا جارہے ۔ فاروق عبداللہ کو کئی روز ہسپتال میں زیرعلاج رکھنے کے بعد فارغ کیا گیا ۔ ان کا کورونا کا ٹیسٹ کچھ روز پہلے پازٹیو آیا تھا ۔ اس وجہ سے ان کی صحت بگڑنے لگی تھی ۔ اس حوالے سےکہا گیا کہ انہیں احتیاطی طور ہسپتال منتقل کیا گیا ۔ ڈاکٹروں نے ان کی حالت خطرے سے دور قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کورونا متاثر ہونے کے باوجود روبہ صحت ہورہے ہیں ۔ بعد میں ہسپتال سے ان کی چھٹی دی گئی ۔ ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے دوران جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر نے ہسپتال جاکر ان کی صحت کے بارے میں معلوم کیا ۔ ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ تشویش کی کوئی بات نہیں ۔ اس موقعے پر ایل جی نے عمر عبداللہ سے فاروق عبداللہ کی صحت پر اپنی فکر و تشویش کا اظہار کیا۔ جمعرات کو فاروق عبداللہ کو ہسپتال سے گھر بھیجا گیا ۔ گھر میں انہیں الگ رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ اس دوران کئی نمایاں شخصیات جن میں سیاست دان ، بالی ووڈ ایکٹر اور عالمی شہرت کے کھلاڑی شامل ہیں کورونا سے متاثر قرار دئے گئے ۔