اداریہ

کون بنے اگلی حکومت کا حصہ؟

ریاست میںاسمبلی چنائو کااب چونکہ وقت قریب آرہاہے اور سیاسی پارٹیاں اس تگ دو میں ہے کہ وہ ووٹروں کو لبھانے کیلئے ہر وہ حربے آزما رہے ہیں جس سے ان پارٹیوں کو الیکشن میں کچھ نہ کچھ فائدہ ملنے کی اُمید ضرور ہے۔مرکز میں برسراقتدار جماعت بی جے پی آج کل ریاست میں کچھ زیادہ ہی تگ دو میں ہے۔ بی جے پی اس کوشش میں ہے ان کی جماعت کو جموں وکشمیر میں اسمبلی الیکشن کے دوران اکثریت حاصل ہوتاکہ ریاست میں کم از کم حکومت کے ساجھے دار بن جائے۔ اس سلسلے میں بی جے پی کے مقامی لیڈران کے علاوہ مرکز کے بڑے بڑے لیڈران اس کوشش میں ہے کہ وہ مقامی سطح پر کئی لیڈروں کو اپنے جھانسے میں لے کر ان کی خدمات حاصل کر کے پردیش بی جے پی کو فائدہ پہنچائیں۔ ایک طرف بی جے پی لیڈران کی محنت اور دوسری طرف حال ہی میں وادی سے پارلیمانی تینوںنشستوں پر کامیابی پانے والی پارٹی پی ڈی پی بھی اس طاق میں ہے کہ وہ بھی اپنے ورکروں کو اور زیادہ فعال بنا رہا ہے ان کا بھی یہی سوچ ہے کہ ریاست سے اسمبلی الیکشن میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کر کے اقتدار کے لئے راہ ہموار ہو ۔پی ڈی پی کی ساکھ اگر چہ کچھ حد تک دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں بہتر نظر آرہی ہے تاہم کانگریس لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے بھی اس بات کا اظہار کیا ہے کہ کانگریس ریاست میں ہر حال میں اگلی سرکار کا حصہ ہو گی۔ اس سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ کانگریس نے شاید من بنا لیا ہے کہ کانگریس الیکشن کے بعد پی ڈی پی کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے حکومت بنائے گی۔ابھی اگر چہ قبل از وقت کچھ کہنا درست نہیں ہے تاہم عوامی حلقوں کی رائے ہے کہ ریاست میں پرانی اور طاقتور جماعت نیشنل کانفرنس کی ساکھ دوسری جماعتوں کے مقابلے میں بہتر نہیں ہے ۔اس بلبوتے پر اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ آنے والے اسمبلی الیکشن میں نیشنل کانفرنس مضبوط پارٹی کے طور پر اُبھرنے میں ناکام ہو سکتی ہے ۔ کانگریس کا بھی کچھ زیادہ اثر نہیں ہے تاہم پی ڈی پی کی کچھ حد تک بہتری ضرور ہے مگر اب جبکہ بی جے پی بھی ریاست میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش میں ہے اور عندیہ ہے کہ بی جے پی بھی اپنی پوزیشن بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گی ۔ بی جے پی لگاتار اس کوشش میں ہے کہ کم از کم ان کی پارٹی بھی اگلی حکومت کا حصہ بنے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ڈی پی کے ساتھ بی جے پی حکومت کا حصہ بنے یا پی ڈی پی کے ساتھ کانگریس حکومت کا حصہ بنے ۔ عندیہ ہے کہ پی ڈی پی حکومت کا حصہ ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ کون پارٹی پی ڈی پی کے ساتھ حکومت کا حصہ بن سکے ۔