اداریہ

کون جیتے اور کون ہارے؟

اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ ملک میں اب پارلیمانی چناؤ ہونے ہی والے ہیں ا ور مختلف پارٹیاں خاص طور پر کانگریس، بی جے پی اور عام آدمی پارٹیوں چناؤ ریلیوں میں ووٹروں کو اپنی اپنی پارٹیوں کی طرف لبھانے کی جے توڑ کوششیں کر رہی ہیں۔ جموں وکشمیر ریاست میں پارلیمانی چناؤ پر خاصا چرچاہو رہا ہے۔ ریاست میں اگر چہ پارلیمانی چناؤ کیلئے مخلوط سرکار نے سبھی نشستوں کیلئے مخلوط امیدوار یعنی کانگریس کے لئے تین اور نیشنل کانفرنس کے تین نشستیں رکھی ہے تاہم عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر مخلوط سرکار ان سبھی سیٹوں پر اپنے مشترکہ امیدواروں کا اعلان نہیں کرتا اور اگر ان نشستوں پر دونوں پارٹیاں الگ الگ امیدواروں کو کھڑے کرتے تو بلا شبہ وہ دونوں پارٹیاں پیپلز دیموکریٹک پارٹی کے مقابلے میں کمزور ثابت ہوں گی۔
کانگریس نے اپنے امیدواروں میں منجے ہوئے سیاست دان غلام نبی آزاد کو ادھمپور سے بطور کانگریس کے امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اتارا۔ انہوں نے باضابطہ طور پر ادھمپور کی نشست پر اپنی کاغذات نامزدگی داخل بھی کی ہے، کہا جاتا ہے کہ غلام نبی آزاد کانگریس پارٹی میں ایک مضبوط امیدوار کی حیثیت سے ادھمپور کے نشست سے چناؤ لڑیں گے ۔ اوریہ بھی رائے دی جاتی ہے کہ غلام نبی آزاد کی ساکھ اچھی ہے جس کے بدولت یہ کہا جاتا ہے کہ ادھمپور کی نشست ایک طرح سے کانگریس کے کھاتے میں جانے کی صد فیصد چانس ہے۔ باقی سبھی سیٹوں خاص کر جموں، سرینگر،اننت ناگ اور بارہمولہ میں پی ڈی پی بھی مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔ ریاست کے سبھی نشستوں پرمخلوط امیدواروں اور پی ڈی پی کے امیدواروں میں خاصا مقابلہ ہونے والا ہے تاہم قبل از وقت یہ نہیں کہاجا سکتا کہ کون پارٹی میدان مارے گی۔ سبھی کی نظریں چناؤ اختتام ہونے کے بعد نتائج پر ہیں۔ یعنی پہلے چناؤ ہوں گے اور بعد میں نتائج سامنے آئیں گے تب یقین ہوگا کون جیتا اور کون ہارا؟