اداریہ

کون کرے کس کے ساتھ ملاپ؟

بالآاخر سال کے آخر پر23 دسمبرکو اسمبلی انتخابات 2014 کے نتائج منظر عام پر آئے اور ریاستی عوام نے ایک مرتبہ پھر کسی ایک پارٹی کو واضح منڈیٹ نہیں دیا البتہ پی ڈی پی مجموعی طور 28 نشستوں پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ کر سب سے بڑی پارٹی کے بطور اُبھر کر سامنے آئی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا مشن 44+ ناکام ہو گیا ہے اور پارٹی وادی میں اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام ہو گئی ہے تاہم جموں خطے میں مودی لہر سے بی جے پی نے 25 نشستوں پر جیت درج کر کے دوسری بڑی پارٹی کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ حکمران نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو سال 2008 کے مقابلے میں شدید دھچکا لگا ہے اور دونوں پارٹیوں نے بالترتیب 15 اور 12 حلقوں پر قبضہ جما لیا ہے۔ اس کے علاوہ پیپلز کانفرنس نے دو اور سی پی آئی ایم نے ایک سیٹ پر جیت درج کی ہے جبکہ چار آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے ہیں جن میں انجینئر رشید اور حکیم محمد یٰسین کے نام قابل ذکر ہیں۔ اب کی بار کئی سینئر لیڈران کوشکست کا منہ دیکھنا پڑا جبکہ متعدد نئے چہرے پہلی بار منتخب ہوئے۔ کوئی بھی ایک سیاسی پارٹی ریاستی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ تاہم پیپلزڈیموکریٹک پارٹی سب سے بڑی واحد پارٹی کے بطور اُبھر کر سامنے آئی ہے جس نے وادی کی بیشتر نشستوں کے ساتھ ریاست میں مجموعی طور28 حلقوں پر جیت درج کی ہے۔ اس کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کا نمبر ہے، اس پارٹی کو خاص طور پر جموں خطے میں سب سے زیادہ اور مجموعی طور 25 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے بالترتیب تیسرا اور چوتھا مقام حاصل کیا ہے۔ این سی پندرہ جبکہ کانگریس بارہ سیٹوں پر کامیاب ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ پیپلز کانفرنس نے کپوارہ کی دو سیٹوں پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ محمد یوسف تاریگامی ، حکیم محمد یٰسین اور انجینئر رشید نے اپنے اپنے حلقوں پر بدستور جیت درج کی ہے۔ اب جبکہ 23 دسمبر 2014 کو سبھی پارٹیوں کی کارکردگیاں سامنے آہی گئی اور کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے تاہم ابھی تک بھی کوئی بھی پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ کئی حلقوں کا ماننا ہے کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان ملاپ کا کافی امکان ہے تاہم نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے بھی پی ڈی پی کو بلاکسی شرط کے حمایت دینے کا اعلان کیا ہے۔ مگر پی ڈی پی سرپرست مفتی محمد سعید کی خاموشی معنی خیز ہو سکتی ہے کیونکہ مفتی محمد سعید جانتے ہیں کہ پی ڈی پی ہی حکومت بنانے کے قابل ہو سکتی ہے اور اس لئے ان کو ہر کوئی دوسری پارٹی تعاون دینے کے لئے تیار ہو سکتی ہیں ۔ لہٰذا مفتی محمد سعید نے فی الحال چپ سادھ لینے میں ہی عافیت سمجھی، مگر اب دیکھنا یہ کہ حکومت بنائے گی کون؟ اگر چہ عوامی حلقوں میں ایک لہر سی چل رہی ہے کہ خفیہ طور پر مفتی محمد سعید نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے کا پلان رکھا تھا تاہم پارٹی صدر محبوبہ مفتی کا اشارہ کہ اُنہیں55 ممبران کی حمایت حاصل ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پی ڈی پی،نیشنل کانفرنس اور کانگریس کا بھی چانس ہے اور پی ڈی پی، بی جے پی اور پیپلز کانفرنس کا بھی چانس ہے ۔ مگر حقیقی معنوں میں اگر دیکھا جائے تو صاف طور سے خاص کر صوبہ کشمیر کے لوگوں نے بی جے پی کے خلاف ووٹ دئے اور جموں صوبے کے عوام نے بی جے پی کے حق میں ووٹ دئے۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو مفتی محمد سعید کو جموں صوبے کی نمائندگی کرنے والوں کو ساتھ لینے کی ضرورت ہے اور مفتی محمد سعید منجھے ہوئے سیاستدان ہیں وہ اس بات سے باخبر ہیں کہ کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے ساتھ ملاپ اُنہیں کوئی اچھا فائدہ نہیں دے سکتا ،ہاں اتنا ضرور ہے کہ مفتی محمد سعید وزیر اعلیٰ کے عہدے پر براجمان ہو سکتا ہے۔ البتہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے میں اُنہیں فائدہ ہی فائدہ نظر آتے ہیں کیونکہ مرکز میں بھی بی جے پی کی ہی حکومت ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ مرکز میں بی جے پی مفتی محمدسعید پر مہربان ہو کر ریاست کے لئے ایک اچھے پیکیج کا اعلان کرے جس سے اُن کے وقار اور بڑ جائے ،پی ڈی پی کو یہ بھی خدشہ ہوگا کہ اگر ریاست میں سب سے پرانی پارٹی یعنی این سی کو ساتھ لیا جائے تو ہو سکتا ہے این سی کی جڑیں پھر سے مضبوط ہونے لگیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے میں پارٹی سوچتی ہوگی کی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اگر آئندہ آنے والے سمبلی انتخابات میں پارٹی کو اس طرح کی پوزیشن بھی رہے تو ٹھیک ہے البتہ پارٹی کو یہ خدشہ ضرور ہوگا کہ اگر عوام کی بہتری کیلئے کچھ ہو سکتا ہے تو یقینی طور پر پارٹی آئندہ کشمیر صوبے میں اور زیادہ مضبوط نظر آئے گی البتہ پارٹی کو اتنا خدشہ ضرور ہوگا کہ جموں صوبے میں آئندہ کیلئے کسی ایک نشست پر کامیابی حاصل کرنے کی اُمید نہیں رکھنی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون پارٹی کس کے ساتھ ملاپ کرتی ہے۔