اداریہ

کون ہوگا کامیاب…؟

اب جبکہ ریاست میں چنائو کے تاریخ قریب آرہے ہیں اور سبھی سیاسی پارٹیاں اقتدار پر براجمان ہونے کیلئے طرح طرح کے حربے آزما رہے ہیں۔ مرکز میں بر سر اقتدار جماعت  بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ وہ ریاست میں اکثریت حاصل کر کے حکومت بنانے کے اہل ہوں گے۔ اس طرح سے بی جے پی اس امید میں ہے کہ وہ ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیںاس کی خاص وجہ یہ ہے کہ مرکز میں ان کی اپنی حکومت ہے۔ اس کا بھی کافی اثر اس پر پڑ سکتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بی جے پی ریاست میں گجر ،بکروال اور پہاڑی انجمنوں کے سربراہوں کو بھی منڈیٹ دے رہا ہے۔ مگراس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ جموں صوبے میں بی جے پی کے موجودہ ممبران اسمبلی کو منڈیٹ نہ دینے سے پارٹی کو جموں صوبے میں طرح طرح کے پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر یہ کہا جائے کہ جموں صوبے میں بھی گذشتہ اسمبلی نشستوں کے مقابلے میں بی جے پی کو کم سیٹیں مل سکتے ہیں ہرگز غلط نہیں ہوگا۔ کیونکہ پارٹی کے موجودہ اسمبلی ممبران منڈیٹ نہ ملنے کی وجہ سے ادھر اُدھر جانے کے صلاح سمجھوتے میں نظر آرہے ہیں۔ اور یہ بھی خدشہ ہے کہ ناراض ممبران پارٹی کے خلاف  ووٹروں کو لبھانے کی کوشش کریں گے۔
ادھر بر سر اقتدار جماعت نیشنل کانفرنس کی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور اس پارٹی کو آئندہ اقتدار آنے کی توقع نہیں ہے۔ پارٹی کے کار گذار صدر اور وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے گاندربل کو چھوڑ کر سوناوار اور بیروہ میں الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب جبکہ الیکشن مہموں میں تیزی لائی جائے گی تاہم سبھی پارٹیاں اس مہم میں عوام کے مفاد کی باتیں کریں گے اور عوام کو سبز باغ دکھانے کی جی توڑ کوششیں کریں گے مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ کون یہ سبز باغ دکھانے میں کامیاب ہوں گے۔ تجربہ تو یہی ہے کہ سبھی پارٹیاں سبز باغ دکھانے میں ماہر ہیں ۔ عملی جامہ پہنانے میں نہ کوئی پارٹی یقین رکھتی ہے اور نہ ان پارٹیوں کی نیت ہوتی ہے۔ اس مہم میں بر سراقتدار جماعت نیشنل کانفرنس بار بار عوام کے سامنے اس بات کا اعادہ کریں گے کہ وہ اگر دوبارہ اقتدار میں آئی تو افسپا کا خاتمہ ضرور کرے گی اور تو اور ہر گھر کے کنبے کو نوکری فراہم کرے گی۔ اس مہم میں ہر سیاسی پارٹی دوسری پارٹیوں پر کیچڑ اچھالے گی ۔ دوسری پارٹیوں کو اس بات کیلئے ذمہ دار ٹھہرائی جائے گی کہ ہماری پارٹی وہ فلاح کام کرتے، افسپا کا خاتمہ کرتے مگر اپوزیشن نے ہمارا ساتھ نہیں دیا ۔ اس بار اگر ہم اقتدار میں آگئے تو ہم فلاح فلاح کام کریں گے اس طرح سے وعدے پروعدے کریں گے اور جب اقتدار حاصل کریں گے اور بلا جھجک یہ کہنے میں عار نہیں کریں گے کہ ہمارے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ ہر گھر کے فرد کو نرکری فراہم کریں گے اور ہر کوئی معاملہ نپٹائے گئے۔