بلاگ

کووڈ کی ممکنہ تیسری لہر اور بدلتے خد و خال
کیا بھا رت کا طبی شعبہ ڈیلٹا ویرئنٹ کی تاب لا سکتا ہے ؟

تجمل احمد
بھارت ابھی کورونا وائرس کی دوسری لہر سے پوری طرح جانبر ہی نہ ہوا ہے کہ ملک کے کچھ حصوں میں اس مہلک عالمی وبائی وائر س کی تیسری لہر شرو ع ہو چکی ہے ۔اس دوران تشویش کے لا ئق با ت یہ ہے کہ عالمی صحت تنظیم (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) نے خبر دار کر دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں کووڈ19-کی مزید خطرنا ک شکلیں (Variants)سامنے آسکتی ہیں جنہیں کنٹرول یا قابو کر نا بہت مشکل امر ہوگا ۔بھارتی وزیر اعظم نر یندر مو دی نے دو روز قبل ہی مختلف ریا ستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ایک میٹنگ کی جس میں انہوں نے ان ریا ستوں پر زور دیاہے کہ وہ کووڈ کی تیسری لہر کی روکتھام کے لئے ہنگامی نو عیت پر مو ثر اقدامات کریں تاکہ وائرس کے پھیلائو کو قابو کیا جا سکے ۔ایسے میں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا بھا رت کورونا وائرس اور اس کی بدلتی ہوئی شکلوں کا مقابلہ کر نے کے لئے تیا ر ہے اور کیا ملک کے طبی شعبے میں اتنی سکت و صلا حیت ہے کہ وہ اس مہلک وائرس کی ممکنہ تیسری لہر کو قابو کر نے اور اس کے اثرات کو محدود کر نے میں کا میابی حاصل کرے گا ؟۔کو رونا وائرس کی دوسری لہر کے مہیب سائے ابھی تک بھا رت کے رہنے والے ہر ایک با شندے خاص طو ر سے سب سے زیا دہ متا ثرہ ریا ستوں مہاراشٹر،اتر پر دیش، کرناٹک، دہلی وغیرہ کے ذہنوں پر تا زہ ہیں ۔دوسری لہر کے دوران ان علا قوں میں جو وحشت نا ک مناظر دیکھنے کو ملے وہ بھا رتی عوام کے اجتما عی حافظے میں کا فی دیر تک نقش رہیں گے اور یہ مناظر تا دیر یہاں کے عوام کو مو ت کی ہیبت ناکیوں کی یا د دلا تے رہیں گے ۔حکو مت نے اس دوران اگر چہ حالات کا مقابلہ کر نے کے لئے ہر ممکن کو شش کی مگر پچھلے ستر سال سے ملک کے طبی شعبے کو مختلف حکو متوں کی جانب سے لگا تار نظر انداز کئے جا نے کے نتیجہ میں ہما رے پا س ہسپتالوں ،طبی و نیم طبی عملے اور پھر ضروری ساز وسامان اور بنیا دی ڈھا نچہ کی زبر دست کمی ہے اور اسی کمی کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو تڑپ تڑپ کراپنی جا ن گنوانا پڑ ی ۔طبی بنیا دی ڈھا نچے کی کمی کا حال یہ ہے کہ ملک میں ہسپتالوں کے اندر آکسیجن سپلائی کا انتظام برائے نام تھا اور یہی وجہ ہے کہ مذکو رہ بالا علا قوں کے اکثر و بیشتر ہسپتالوں یا طبی مرا کز میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہزاروں مر یض جا ں بحق ہوئے۔ہسپتا لوں کے اندر مر یضوں کے لئے گنجائش کی کمی کا بھی حال سب پر عیا ں تھا اور سوشل میڈیا پر ایسی سینکڑوں تصاویر وائرل ہوئیں جن میں لوگ اپنے مر یض رشتہ داروں کو کہیں ہسپتال کے کا ری ڈور کے اندر اور کہیں کسی پیڑ کے سائے میں یا آٹو رکشے و گاڑی کے اندر لٹائے بیٹھے ہیں ۔
کورونا وائرس کو سائنسدان ایک چالاک اور شاطر وائرس کے نام سے بھی یا د کر تے ہیں کیونکہ یہ وائرس ہر آن اپنا رنگ و روپ بدل لیتا ہے اور خامو شی سے انتظار کر کے مو قعہ کی تلا ش میں رہتا ہے کہ کب کو ئی شکا ر اس کے ہا تھ لگ جائے ۔دوسری لہر کے دوران اس کے بدلتے رنگ روپ کے نتیجہ میں ہی بھا رت کے کچھ شہروں کے اندر تبا ہی کے منا ظر پیدا ہوئے۔ ایسے میں اگر عالمی صحت تنظیم ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جا نب سے ممکنہ تیسی لہر کے دوران وائر سکے بدلتے رنگ و روپ اور تیور کے رپو رٹ کو صحیح مانا جا ئے تو بھا رت کے لئے صورتحال یقینا حوصلہ افزاء نہیں ہو گی ۔اس با ت میں کسی شک و شبہ کی گنجا ئش نہیں ہے کہ بھا رت نے وائرس مخالف ٹیکے تیا ر کر نے کے حوالے سے دنیا کے بیشتر ممالک کو پیچھے چھو ڑ کر اس با ت کا واضح ثبو ت پیش کیا ہے کہ اس ملک میں وائرس کے خلاف لڑ نے میں سنجید گی پا ئی جا تی ہے تاہم یہاں یہ با ت بھی غور طلب ہے کہ ایک ارب تیس کروڑ سے زیا دہ آبادی رکھنے والے ملک میں ابھی نصف آبادی کو بھی کو وڈ مخالف ویکسین نہیں دیا گیا ہے اور ایسے میں اگر اس مہلک وائرس کی تیسر ی لہر آپ کے دروازے پر پہلے ہی دستک دے چکی ہے تو صورتحال کو تشویشناک رُخ اختیا ر کر نے میں پھر زیا دہ دیر نہیں لگتی ۔بھا رت کو جہاں ٹیکہ کاری کے عمل میں مزید سرعت لا نے کی ضرورت ہے وہیں حکو مت کو یہ با ت بھی یقینی بنانا ہو گی کہ تیسری لہر سے متا ثر ہو رہی ریا ستوں میں ایسی احتیا طی تدا بیر اپنائی جا ئیں کہ وائرس زیا دہ پھیلنے نہ پا ئے ۔بھا رت میں اس وقت دنیا کی سب سے بڑ ی ٹیکہ کا ری مہم جاری و ساری ہے اور روزانہ کی بنیا د پر لاکھوں لوگوں کو ٹیکے لگا ئے جا رہے ہیں مگر یہ با ت بھی سچ ہے کہ اب تک کو ئی پینتا لیس کروڑ لو گوں کو ہی ٹیکے لگا ئے جا چکے ہیں جو کہ ملک کی آبا دی کا نصف حصہ بھی نہیں ہے۔کووڈ کی دوسری لہر کے دوران اکثر مریضوں کی مو ت ہسپتالوں میں آکسیجن سپلا ئی نہ ملنے سے ہو ئی ۔ایسے میں مو قعہ پرست لوگوں نے حالا ت کا ناجائز فا ئدہ اٹھا تے ہو ئے آکسیجن سلنڈروں کو اس قدر مہنگے داموں فروخت کیا کہ بڑ ے سے بڑ ے امیر اور دنیا دار بھی ایک سلنڈر آکسیجن کی قیمت ادا نہیں کر پا رہے تھے ۔ حکومت کو ممکنہ تیسری لہر کے پیش نظر ہسپتالوں بلکہ پرائمری ہیلتھ سینٹروں کے اندر بھی آکسیجن سپلائی کے معقول انتظامات کر نا ہوں گے اور اس حوالے سے ملک کے طبی شعبے کو بھا ری اور فوری تبدیلیا ں لا نے کی ضرورت ہے ۔مر کزی حکومت نے اگر چہ ہسپتالوں میں آکسیجن سپلا ئی کا حجم بڑ ھا نے کے حوالے سے کا فی انتظامات کئے ہیں تاہم یہ با ت بھی اپنی جگہ سچ ہے کہ ابھی بھی کچھ علا قوں سے اس طرح کی شکایات مو صول ہو رہی ہیں کہ ہسپتالوں میں آکسیجن کم ہے ۔
جنیوا میں ورلڈ ہیلتھ آرگنا ئزیشن کی ایمر جنسی کمیٹی کی کورونا وائرس سے متعلق آٹھو یں میٹنگ کے بعد کمیٹی نے ایک بیا ن جاری کیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ کورونا وائرس ابھی بھی عالمی سطح پر ایک چلینج ہے اور ملکوں کو انتہا ئی احتیا ط اور چوکسی بر تنا ہو گی ۔کمیٹی نے کچھ ممالک میں کورونا وائر س کے ڈیلٹا ویر ئنٹ (Delta Variant)کے تیزی سے پھیلا ئو کو مدنظر رکھتے ہو ئے خبر دار کیا ہے کہ یہ وائرس ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے آپ کو تبدیل کر رہا ہے اور مستقبل قریب میں اس بات کے خدشات ہیں کہ یہ وائرس ایک ایسی شکل اور وطیرہ اختیا ر کر لے جس کو آسانی سے قابو کر نا بہت ہی مشکل ہو ۔کمیٹی نے کچھ ممالک میں ٹیکہ کا ری کی سست رفتار کو دیکھتے ہو ئے عالمی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کی امداد کر کے یہ با ت یقینی بنا ئیں کہ ہر ملک کی کم از کم دس فیصد آبا دی کو رواں ما ہ کے آخر تک ٹیکہ کا ری کے دائرے میں لا یا جا نا چاہئے ۔