نقطہ نظر

کوہ نور ہیرے کی ملکیت!

کلدیپ نائر
ایک سیاسی پارٹی جو توقع کرتی ہے کہ ہر شخص وطن پرستی کا جھنڈا اٹھا کے چلے لیکن اس پارٹی نے ایک بیان دیا ہے جو وطن دشمنی کی ذیل میں آتا ہے۔ بی جے پی نے کہا ہے کہ کوہ نور ہیرا مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بیٹے دلیپ سنگھ نے خود لارڈ ڈلہوزی کو دیا تھا لہٰذا اب یہ برطانیہ کی ملکیت ہے۔ تاہم بی جے پی کے اس بیان کے بعد طیش اور غضب سے بھرے ہوئے جو ریمارکس بلند ہوئے اس سے پارٹی کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور اس نے فوراً ہی اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے کہہ دیا کہ کوہ نور بھارت کا ہے، جسے بات چیت کے ذریعے برطانیہ سے واپس لیا جائے گا۔ یہ بات بھی درست ہے کہ بی جے پی میں دو دھڑے بن چکے ہیں۔ ایک دھڑا کوہ نور کو واپس لانا چاہتا ہے جب کہ دوسرے دھڑے کا کہنا ہے کہ یہ ہیرا برطانیہ کا ہو چکا ہے۔
برطانوی حکومت کا وائسرائے لارڈ ڈلہوزی ہر قیمت پر اپنے مالکان کو خوش کرنا چاہتا تھا اور ان مالکوں میں ایک تو ایسٹ انڈیا کمپنی تھی اور دوسری ملکہ وکٹوریہ تھی۔ دلیپ سنگھ ایک کم عمر بچہ تھا جو کہ ڈلہوزی کی تحویل میں تھا کیونکہ جب برطانیہ نے سکھوں کو شکست دیکر پنجاب کو اپنی سلطنت میں شامل کیا تو ڈلہوزی کو وائسرائے مقرر کر دیا۔
لارڈ ڈلہوزی نے پہلے دلیپ سنگھ کا مذہب تبدیل کیا اور پھر اسے اپنے ساتھ برطانیہ لے گیا‘ ساتھ ہی کوہ نور بھی لیکن دنیا کے اس سب سے قیمتی ہیرے کی حفاظت کے سلسلے میں وہ اسقدر محتاط تھا کہ واپسی پر وہ نہر سویز کے معمول کے راستے کے بجائے دگنا فاصلہ طے کر کے جنوبی افریقہ کا چکر لگا کر انگلینڈ پہنچا۔ بے شک کوہ نور کی قیمت اس زمانے میں بھی ہزاروں کروڑ تھی جب کہ یہ انمول ہیرا نہ صرف بھارت کی شناخت تھا بلکہ اتھارٹی کی علامت بھی تھا۔ احمد شاہ ابدالی نے جو ہمارا حکمران تھا نادر شاہ کے ساتھ زبردستی پگڑی بدل بھائی بن گیا تھا کیونکہ اسے پتہ چل گیا تھا کہ نادر شاہ نے کوہ نور ہیرا اپنی پگڑی میں چھپا رکھا ہے۔
ان تمام حقائق سے آگاہ ہونے کے باوجود پہلے تو بی جے پی نے کوہ نور سے اپنے ہاتھ دھو لیے لیکن جب اس نے غیظ و غضب میں بھرے ہوئے ریمارکس سنے تو اپنا پہلا موقف تبدیل کر لیا۔ بالفرض کوہ نور خود بھارت کی طرف سے برطانیہ کو پیش کیا گیا تب بھی بی جے پی کو احساس ہونا چاہیے کہ ہمارا ملک تو برطانیہ کی نوآبادی (کالونی) تھا، تو اس صورت میں پیشکش کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔
یہ کسی منتخب حکومت کی طرف سے پیش نہیں کیا گیا تھا۔ غلام قوموں کا اپنا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔مجھے یہاں راجیہ سبھا (ایوان بالا) میں ہونے والی وہ بحث یاد آ رہی ہے جو میں نے 1990ء کی دہائی کے آخر میں خود شروع کروائی تھی جب میں راجیہ سبھا کا ممبر تھا۔ بعدازاں جب میں لندن میں بھارت کا ہائی کمشنر بن گیا تب بھی میں نے حکومت برطانیہ سے یہ معاملہ اٹھایا لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ابھی یہ بحث شروع ہی ہوئی تھی کہ وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے مجھ سے درخواست کی کہ میں اس معاملے پر زیادہ زور نہ دوں۔ مجھے یہ سن کر شدید دھچکا لگا انھوں نے کہا کہ کوہ نور کے معاملے پر برطانیہ کے ساتھ بھارت کے تعلقات خراب نہ ہو جائیں۔
یونیسکو کی قرارداد کے مطابق یہ اصول طے ہو چکا تھا کہ غیرملکی حکمران جو بھی نوادرات کسی ملک سے حاصل کرتے ہیں وہ اصل مالکان کو لوٹانے ہونگے۔ جہاں تک بھارتی حکومت کا تعلق ہے مجھے علم نہیں کہ انھوں نے برطانیہ کو یونیسکو کی قرارداد کا حوالہ کیوں نہیں دیا۔ جو ملک دوسرے ملکوں میں نوآبادیاں قائم کرتا ہے‘ اس کا اس معاملے میں ہچکچانا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن ہم تو خود ایک نوآبادی تھے۔ ہماری حکومت کی ہچکچاہٹ ناقابل فہم ہے۔اس حوالے سے ایک اور بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ برطانوی حکومت سے کوہ نور کی ملکیت کے بارے میں سوال اٹھایا گیا تھا‘ جس کے جواب میں انھوں نے کہا تھا کہ قیام پاکستان کے بعد کوہ نور کی ملکیت صرف بھارت کے پاس نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے پاس آتی ہے۔
لندن میں دفتر خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر نے برطانیہ کے دفاع میں کہا تھا کہ کوہ نور بھارت کو نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اصل میں اس کی ملکیت پاکستان کے پاس ہے۔ تب میں نے کہا کہ ٹھیک ہے کوہ نور اسلام آباد حکومت کو واپس کر دیا جائے۔ اس طرح یہ قیمتی ہیرا کم از کم برصغیر میں تو واپس آ جائے گا۔ اس کے بعد پاکستان اور بھارت خود ہی آپس میں فیصلہ کر لیں گے۔ یہ بات واضح ہے کہ برطانیہ کا یہ ہیرا واپس کرنے کا کوئی ارادہ نہیں کیونکہ یہ ہیرا تو اکلوتی چیز ہے اس کے پاس کئی ٹن نوادرات موجود ہیں جو لندن کے وکٹوریہ البرٹ میوزیم کے تہہ خانے میں رکھے ہوئے ہیں۔
اگرچہ برطانیہ نے اس سلسلے میں کوئی جواب نہیں دیا البتہ فرانس نے یونیسکو کی قرار داد پر عمل کرتے ہوئے وہ تمام نوادرات واپس کر دیے ہیں جو اس نے اپنی نوآ بادیوں سے حاصل کیے تھے۔جب لندن میں نہرو کی یاد گار کے طور پر ایک کارنر قائم کیا گیا تو میں نے کیوریٹر سے پوچھا کہ انھوں نے تہہ خانے میں سے کتنا میٹریل نمائش کے لیے یہاں رکھا ہے۔ اس کا جواب تھا تقریباً 5 فیصد۔ حالانکہ اس کارنر کے قائم کرنے کے تمام اخراجات بھی بھارت نے ادا کیے تھے۔ تب میں نے خاتون کیوریٹر سے کہا کہ دوسری چیزیں بھی نمائش کے لیے رکھ دی جائیں ان کے اخراجات بھی بھارت برداشت کرے گا۔ لیکن اس نے بڑی بے رخی سے انکار کر دیا۔ اس تہ خانے میں جو نوادرات پڑے ہیں ان میں مخطوطے‘ قلمی کتابیں‘ نقشے‘ پوسٹر اور اس قسم کی دیگر قیمتی چیزیں شامل ہیں لیکن افسوس کہ بھارتی عوام اپنے یہ قیمتی اثاثے کبھی نہیں دیکھ سکیں گے کیونکہ بھارتی حکومت اس معاملے میں خود ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔
جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی برطانیہ کے سرکاری دورے پر گئے تھے تو لگتا ہے کہ برطانوی اسٹیبلشمنٹ نے ان پر دباؤ ڈالا ہو گا کہ کوہ نور کا ہر گز ذکر نہیں کرنا۔ بصورت دیگر یہ بات قابل فہم نہیں کہ آخر انھوں نے اس معاملے پر ایک بار بھی بلاواسطہ یا بالواسطہ کوئی بات ہی نہیں کی۔ مودی کی حکومت کو لندن میں برصغیر کے نوادرات کا سوال ضرور اٹھانا چاہیے۔
ہو سکتا ہے اس سے سابقہ کانگریس حکومت کو خجالت محسوس ہو کیونکہ وہ اپنے طویل اقتدار کے دوران یہ سوال نہیں اٹھا سکی۔ لیکن ملک کے مفاد کا تقاضا ہے کہ لندن میں جو نوادرات پڑے ہیں وہ ہماری تاریخ کا حصہ ہیں لہٰذا وہ ہمیں واپس ملنے چاہئیںخواہ برطانوی اسٹیبلشمنٹ اسے پسند کرے یا نہ کرے۔ برطانیہ نے ایک اچھی بات کی ہے کہ ہیروں جواہرات کی سالانہ نمائشوں میں کوہ نور کو شامل نہیں کیا۔ شاید ڈیوڈ کیمرون کی حکومت نے یہ محسوس کر لیا ہے کہ جب بھی کوہ نور کو نمائش کے لیے رکھا جاتا ہے بھارت کی طرف سے اس کی واپسی کا مطالبہ سر اٹھا لیتا ہے۔ میرا تاثر یہ ہے کہ برطانیہ ایک مغرور اور متکبر ملک ہے اور اپنے آپ کو ہر لحاظ سے درست خیال کرتا ہے۔ اس میں رواداری کا ذرا برابر بھی عنصر نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ نئی برطانوی نسل کو اپنا رویہ درست کر لینا چاہیے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)