نقطہ نظر

کوہ نور ہیرے کی واپسی

کوہ نور ہیرے کی واپسی

کلدیپ نائر
یہ یقینی بات ہے کہ برطانوی اسٹیبلشمنٹ نے وزیر اعظم نریندر مودی پر زور ڈالا ہو گا کہ وہ برطانیہ کے اپنے سرکاری دورے کے دوران کوہ نور ہیرے کا قطعاً کوئی تذکرہ نہیں کریں گے، بصورت دیگر یہ بات قابل فہم نہیں کہ آخر انھوں نے کیوں اس موضوع پر ایک بار بھی براہ راست یا بالواسطہ طور پر کوئی ذکر ہی نہیں کیا۔ آخر مجھے اس معاملے میں حکومت کے ہاتھ کا کیوں شبہ ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے ذاتی طور پر اس کا تجربہ ہو چکا ہے۔
جب میں نے راجیہ سبھا (ایوان بالا) میں یہ سوال اٹھایا جب کہ میں لندن میں بھی اس حوالے سے مہم چلا چکا تھا تو اس وقت کے وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے مجھے کہا کہ میں برطانیہ عظمیٰ اور بھارت کے مابین تعلقات کو خراب کر رہا ہوں۔ وزیر خارجہ کی اس بات پر مجھے بڑی مایوسی ہوئی لیکن مجھے یہ بات واضح ہو گئی کہ کوہ نور کے معاملے میں نئی دہلی اور لندن دونوں ایک پیج پر ہیں حالانکہ دنیا کے سب سے قیمتی ہیرے کوہ نور کا اصل مالک برصغیر تھا۔ تقسیم کے بعد وہ علاقہ پاکستان کا حصہ بن چکا ہے۔
برطانوی حکومت کو کوہ نور ہیرے کی ملکیت کے بارے میں پوچھا بھی گیا تو اس کا کہنا ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے بعد یہ بھارت کی ملکیت نہیں رہا بلکہ 3 ملکوں پاکستان بنگلہ دیش اور بھارت کی مشترکہ ملکیت ہے۔ لندن میں دفتر خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر نے بھارت کو کوہ نور دینے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ یہ تو پاکستان کا ہے۔
تو میں نے کہا کہ چلو اس کو اسلام آباد بھیج دو۔ کم از کم اس طرح یہ برصغیر میں تو واپس آ جائے گا۔ یہ بات واضح ہے کہ برطانیہ کی نہ صرف یہ ہیرا واپس کرنے کی کوئی نیت نہیں بلکہ بھارت سے لوٹے ہوئے دیگر قیمتی خزانوں سے، جن کا وزن کئی ٹن ہو گا لندن کے وکٹوریہ اور البرٹ میوزیم کے تہہ خانے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ یونیسکو کی اس قرارداد کی صریح خلاف ورزی ہے جس میں کہ کہا گیا ہے کہ ساری قیمتی اشیاء جو دوسرے ممالک پر قبضے کے دوران لوٹی گئیں ان کو ان کے اصل ممالک میں واپس بھجوایا جائے۔
لیکن انگلینڈ کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہ دیا گیا البتہ فرانس نے قرارداد پر عمل کرتے ہوئے وہ قیمتی اثاثے جو اسے جنگ میں فتح کے نتیجے میں ملے تھے واپس کر دیے۔جب لندن کے عجائب گھر میں نہرو کا کونہ قائم کیا گیا تو میں نے کوریٹر سے پوچھا کہ اس میں آپ لوگوں کے کتنے جذبات شامل ہیں تو اس کا جواب تھا صرف 5 فی صد۔ اس کے باوجود کہ اس کونے کے قیام کے لیے سارے اخراجات ہم نے کیے تھے۔
میں نے اس خاتون سے درخواست کی کہ وہ بھارت سے تعلق رکھنے والی دیگر چیزیں بھی یہاں ڈسپلے کرے۔ ان کے لیے بھی سارا خرچہ بھارتی حکومت ادا کرے گی لیکن اس نے بڑی سرد مہری سے انکار کر دیا۔ پھر میں نے یہ تجویز پیش کی کہ وہ چیزیں ہمیں بھارت کے کسی عجائب گھر میں ڈسپلے کرنے کی اجازت دے دیں جو کہ واپس کر دی جائیں گی۔ ان کے تہہ خانوں میں جو میٹریل پڑا ہے اس میں مخطوطے‘ کتب‘ نقشے‘ پوسٹرز اور اسی طرح کا دوسرا سامان شامل ہے۔ بھارت کے عوام ممکن ہے کہ یہ اپنے تاریخی اثاثے کبھی نہ دیکھ سکیں کیونکہ بھارتی حکومت خود اس معاملے کو اٹھانے سے ہچکچاتی ہے۔
اب بھارت پر ایک مختلف سیاسی جماعت کی حکمرانی ہے لہٰذا نوادرات کے معاملے کو دوبارہ اٹھایا جانا چاہیے۔ ممکن ہے کہ اس سے کانگریس کی سابقہ حکومت کو خجالت محسوس ہو کیونکہ وہ اپنے دور حکومت میں ایسا نہیں کر سکی لیکن ملک کے مفادات کا تقاضا ہے کہ جو تاریخی اہمیت کی اشیاء اس کی ہیں وہ اسے واپس ملنی چاہئیں۔
برطانیہ نے ہیرے جواہرات کی سالانہ نمائش میں اس مرتبہ کوہ نور کو ڈسپلے نہیں کیا۔ شاید کیمرون حکومت کو یہ پتہ چل گیا تھا کہ جب بھی کوہ نور ہیرے کو نمائش میں رکھا گیا تو بھارت کی طرف سے اس کی واپسی کا مطالبہ ہوا۔ اب یہ حقیقت ثابت ہو چکی ہے کہ لارڈ ڈلہوزی نے فراڈ کے ذریعے کوہ نور کا ہیرا مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بیٹے دلیپ سنگھ سے، جو کہ کم سن تھا، ہتھیا لیا۔ ان ساری باتوں کے باوجود برصغیر کے ساتھ برطانیہ کی ایک عجیب قسم کی جذباتی وابستگی بھی ہے جو وقت گزرنے کے باوجود مدھم نہیں ہوئی۔برطانیہ میں آج بھی بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے برصغیر پر برطانوی حکومت کے دوران یہاں خدمات سر انجام دیں۔
بہت سے برطانوی گھروں میں بھارتی نوادرات موجود ہیں جن کی انھوں نے بڑی خوبصورتی سے نمائش کی ہوتی ہے۔ ان میں پینٹنگز‘ ہاتھی دانت کے مجسمے یا کانسی کی بنی ہوئی دیوی دیوتاوں کی مورتیاں وغیرہ شامل ہیں۔لندن میں بھارت کے ہائی کمشنر کے طور پر میں نے محسوس کیا کہ برٹش راج کے دوران بھارت میں خدمات انجام دینے والے فوجی اور سول افسروں سے ملاقات کروں۔ انھوں نے ہمارے ملک میں اپنی زندگی کا بہترین وقت گزارا لیکن انھیں اس سے پہلے کسی بھارتی ہائی کمشنر نے اپنی رہائش گاہ پر مدعو نہیں کیا تھا۔ ان کے نام حاصل کرنا مشکل نہیں تھا۔
انڈین سول سروس (ICS) کے وہ ارکان جو ابھی زندہ تھے ان کی تعداد 97 تک تھی جب کہ سابقہ فوجی افسروں کی تعداد سیکڑوں میں تھی جس کے لیے ہمیں بڑے غور و خوض سے چناؤ کرنا پڑا اور اس مقصد کے لیے ہائی کمشنر کے ساتھ کام کرنے والے فوجی‘ فضائیہ اور بحریہ کے مشیروں نے خاصی مدد کی۔ سب سے پہلے ICS افسروں کے لیے استقبالیہ تقریب ہوئی جس میں 57 افسروں نے شرکت کی۔ بعض افسران اپنے بال بچوں سمیت آئے بلکہ کئی ایک کے تو پوتے پوتیاں بھی ساتھ تھے۔ میں نے انڈین لیگ کو بھی دعوت میں بلا لیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے تحریک آزادی میں حصہ لیا تھا۔
لیبر پارٹی کے سابق لیڈر مائیکل فٹ جنہوں نے ہماری تحریک آزادی کی حمایت کی تھی لیکن بدقسمتی سے اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کی بھی حمایت کی‘ وہ بھی تقریب میں شامل ہوئے اور میں نے ان کا خوش دلی سے استقبال کیا۔میرا تاثر یہ ہے کہ برطانوی لوگوں کو برصغیر پر حاکمیت کرنے کا بہت فخر ہے اور اس حوالے سے وہ ’’ناسٹلجیا‘‘ کا بھی شکار رہتے ہیں۔ یہاں ’’انڈیا اینڈ دی گریٹ بریٹن (1600-1947)‘‘ کے عنوان سے ہونے والی نمائش میں سارا زور برطانوی حکمرانی کی خصوصیات پر تھا‘ برصغیر کی تحریک آزادی کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
حال ہی میں بی بی سی نے بھارت پر ایک پروگرام نشر کیا ہے جس میں صرف بھارت کی غریبی اور بدحالی دکھائی گئی ہے حالانکہ یہ صحیح تصویر نہیں۔ برطانوی میڈیا نے جان بوجھ کر ہماری اچھی چیزوں کو نظرانداز کیا۔ مجھے یاد آتا ہے کہ ہماری تحریک آزادی کے دوران ایک برطانوی خاتون صحافی ’’مایو کیتھرائن‘‘ (Mayo Katheraine) یہاں آئیں اور جنہوں نے انتہائی بری کتاب (nasty book) لکھی جس کے بارے میں مہاتما گاندھی کا تبصرہ تھا کہ اس خاتون کی ساری توجہ ہماری گندی نالیوں پر رہی جو کہ واقعی گندی ہوتی ہیں۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)