اداریہ

کہنے اور کرنے کی باتیں!

گذشتہ مہینے کی بات ہے کہ مسلم لیگ چیرمین حریت رہنما مسرت عالم بٹ کی رہائی اچانک عمل میں لائی گئی، تو اس سلسلے میں چاروں اطراف یہ خبر گشت ہی کر رہی تھی کہ سینئر حریت لیڈر مسرت عالم کی رہائی نئی حکومت نے عمل میں لائی۔ ابھی یہ خبر گشت ہی کر رہی تھی کہ اس کافائدہ برسراقتدار جماعت پی ڈی پی نے لینے کی کوشش کی، تاہم جب مسرت عالم کی رہائی کے معاملے پر پورے ملک میں ایک طرح کا ہنگامہ ہوا تو اس دوران ملک کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے مسرت عالم کو دوبارہ جیل بھیجنے کا اشارہ دیا۔
سرکار میں شامل جماعت پی ڈی پی نے اپنے انتخابی منشور میں بھی اس بات کا اعلان کیا کہ وہ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کے علاوہ بیرون ریاست میں مقید ریاست کے قیدوں کو واپس اپنی ریاست میں لا نے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ایک طرف پی ڈی پی کے یہ اعلانات اور دوسری طرف اب یہ ممکن ہی نہیں دکھائی دیتی ہے کہ پی ڈی پی کو کہیں ایسے خیالات بھی تھے، ہونے کا تو بالکل اندازہ ہی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔
پی ڈی پی بی جے پی حکومت بننے کے بعد ابتدائی دنوں میں اگر چہ پی ڈی پی سرپرست اور وزیراعلیٰ مفتی محمدسعید کی طرف سے ایسے بیانات آئے جن کے بناء پر عام آدمی کی سمجھ اس حد تک جاتی ہے کہ شاید یہ جماعت ریاستی عوام کی غمخوار ہو سکتی ہے۔ ابتدائی اپنے بیانوں میں اگر چہ مفتی محمد سعید نے پارٹی کے ساتھ ساتھ اپنے تئیں عوام میں ہمدردیاں جتانے کی بھر پور کوشش کی تاہم اب جبکہ ابھی مخلوط حکومت کو بنے ہوئے دو مہینے بھی پورے نہیں ہوئے دھیرے دھیرے ان کے تیور میں بھی تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اب پارٹی سرپرست اور وزیراعلیٰ کے بیانوں میں وہ وزن نہیں جو پہلے نظر آرہے تھے، ہاں آئے گا بھی کیوں؟ اقتدار کا سوال ہے! ریاستی حکومت میں شامل حکمران اگر غیرت اور ضمیر کا مظاہرہ کرے گا تو اقتدار جانے کا خطرہ لاحق ہوگا۔ اسی لئے اقتدار بچانے کے لئے جی حضوری ان کیلئے ضروری ہے جو کہ یہاں کے حکمران کرتے آئے ہیں، رہی بات وزیراعلیٰ کے غیرت کی تو اس کا اندازہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب مرکز اور بی جے پی کے اسرار پر مسرت عالم کو کوٹ بلوال جیل منتقل کروایا گیا۔پی ڈی پی بی جے پی کے سامنے کمزور ہے اس لئے بی جے پی جو بھی ہدایت دے گی پی ڈی پی کو عمل کرنا لازمی ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے صاف نظر آرہی ہے کہ پی ڈی پی سرپرست مفتی محمد سعید نے قیدیوں کی رہائی کی بات کی تو بی جے پی نے اس کی مخالفت کی۔ مخالفت کرنے میں بی جے پی اپنے مقصدوں میں کامیاب نظر آرہی ہے۔ اسی کو کہتے ہیں کہنے اور کرنے کی باتیں۔