مضامین

کیامودی صرف نام کے وزیر اعظم ہیں؟

کیامودی صرف نام کے وزیر اعظم ہیں؟

سہیل انجم
نریندر مودی کی قیادت اور بی جے پی کی سربراہی میں این ڈی اے حکومت کا ایک سال مکمل ہو گیا۔ اس ایک سال کا جائزہ مختلف امور کی روشنی میں لیا جا رہا ہے۔ اس ایک سالہ مدت میں کافی ہنگامے ہوئے۔ سب سے زیادہ ہنگامہ حکومت کی جانب سے کیا گیا اور اب بھی کیا جا رہا ہے۔ کوئی بھی حکومت ایک سال میں نہ تو بہت کچھ کر سکتی ہے اور نہ ہی ایک سال کے کاموں کی روشنی میں اس کا احتساب کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود نہ جانے کیوں حکومت یہ دکھانا چاہتی ہے کہ اس نے بہت کام کیے ہیں، بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اس کی جھولی میں بہت سی حصولیابیاں آگئی ہیں۔ اسی لیے حکومت کی نام نہاد کامیابیوں کا ڈنکا بجانے کے لیے ڈھائی سو ریلیوں کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی مرکزی وزیر پریس کانفرنس بھی کر رہا ہے۔مودی بھی ایک بڑی ریلی کرکے اپنی حکومت کا رپورٹ کارڈ پیش کر چکے ہیں۔ عام طور پر حکومتوں کو اپنے کارناموں کا ڈنکا بجانے کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب وہ احساس کمتری میں مبتلا ہوں، لوگ ان کے کاموں پر تنقید کر رہے ہوں، انھیں ناکام ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہوں اور واقعی اس حکومت نے کوئی کام نہ کیا ہو۔ ورنہ اگر کوئی حکومت واقعی بہت زیادہ کام کر رہی ہو، بہت زیادہ کامیاب ہو اور بہت زیادہ حصولیابیاں اس کی جھولی میں آگئی ہوں تو اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی، عوام خود سمجھتے اور محسوس کرتے ہیں اور اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ یا پھر کسی سیاسی پارٹی یا حکومت کو ایسا کرنا اس وقت ضروری ہو جاتا ہے جب وہ انتخابات میں جا رہی ہو۔ تاکہ اپنی کارکردگی کا ڈھنڈھورا پیٹ کر رائے دہنگان کو اپنے حق میں کر سکے۔ لیکن اس وقت نہ تو الیکشن ہے اور نہ ہی چار سال سے پہلے آنے والا ہے۔ اس کے باوجود بہت زیادہ شور و ہنگامہ برپا کیا جا رہا ہے۔ آخر کیوں؟ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ حکومت یا تو اس کے تعلق سے عوام کے اندر پائے جانے والے رجحانات و خیالات جو کہ اس کے حق میں نہیں ہیں، پریشان ہے یا پھر واقعی اس نے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا ہے لیکن یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اس نے بہت کام کیے ہیں اور ملک کو بہت آگے لے جانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
ایک سالہ مدت پر جو یہ سب کچھ ہو رہا ہے وہ تو اپنی جگہ پر ہے۔ اس کے علاوہ بھی یہ حکومت پروپیگنڈہ اور ہنگامہ کرنے میں زیادہ یقین رکھتی ہے۔ خاص طور پر جب وزیر اعظم نریند رمودی غیر ملکی دوسرے پر جاتے ہیں تو یہاں سے لے کر اس ملک تک ڈھنڈھورا پیٹنے کا ایک سلسلہ چل پڑتا ہے۔ انھوں نے یہ روایت بھی شروع کی ہے کہ جس ملک میں جاتے ہیں وہاں کے ہندوستانی تارکین وطن یا این آر آئیز سے ملاقات بھی کرتے ہیں اور ان کے سامنے تقریر بھی کرتے ہیں۔ یہ کام آسان نہیں ہوتا۔ کون کہاں ہے۔ کس کام میں مصروف ہے۔ اس کے پاس جلسہ میں آنے کا وقت ہے یا نہیں۔ بہت سارے مسائل ہوتے ہیں۔ لیکن ان مسائل کو بحسن و خوبی حل کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے مہینوں سے تیاری کی جاتی ہے۔ کافی سرمایہ خرچ کیا جاتا ہے اور لوگوں کو پکڑ پکڑ کر لایا جاتا ہے اور ان کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ وہ مودی کی تقریر کے دوران تالیاں بجاکر اپنی خوشی کا اظہار کریں اور مودی کو داد و تحسین سے نوازیں۔ لہٰذا کبھی کبھی تو سامعین و حاضرین ایسی باتوں پر بھی تالی بجانے لگتے ہیں جہاں کوئی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔
بہر حال اس ایک سال کے دوران مودی حکومت نے وہ وہ تماشے کیے ہیں جو کانگریس کی حکومت نے کبھی نہیں کیا ہوگا یا واجپئی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے بھی نہیں کیا تھا۔ در اصل ان حکومتوں کو اس کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کا خیال تھا کہ اگر وہ کام کر رہے ہیں تو ڈھنڈھورا پیٹنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ عوام بڑے سمجھدار ہیں۔ ان کی آنکھیں کھلی رہتی ہیں۔ وہ انتخابات کے مواقع پر اپنے عمل سے یہ بتاتے ہیں کہ حکومت نے کام کیا یا نہیں۔ اگر اس نے کام کیا ہے تو اسے پھر اقتدار کی باگ ڈور دوبارہ سونپ دیتے ہیں اور اگر نہیں کیا ہے تو اس سے چھین کر کسی اور کو دے دیتے ہیں۔ لیکن پارلیمانی انتخابات کے دوران زوردار پروپیگنڈہ اور بڑے بڑے وعدے کرنے کی صورت میں یہ حکومت اقتدار میں آئی ہے۔ وہ پروپیگنڈہ کی اہمیت کو سمجھتی ہے۔ اس لیے اس وقت بھی اسی سے کام نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس نے وعدے بہت زیادہ کر رکھے ہیں۔ مودی نے جہاں بھی تقریر کی وعدوں کی جھڑی لگا دی۔ بالکل عام آدمی پارٹی کی مانند۔ اب جبکہ ان وعدوں کو پورا کرنا آسان نہیں ہے اور حکومت وعدوں کے محاذ پر بری طرح ناکام ہے تو اس نے سوچا کہ پرچار کیا جائے اور خود لوگوں کو بتایا جائے کہ ہم نے یہ یہ کام کیے ہیں۔ کیے ہو ںیا نہ کیے ہوں کم از کم عوام کو بیوقوف تو بنا ہی سکتے ہیں۔
ا س حکومت کے دوران فرقہ وارانہ ہنگامے بھی خوب ہوئے ہیں۔ لاتعداد چھوٹے چھوٹے فسادات کروائے گئے ہیں۔ کچھ بڑے بھی ہوئے ہیں۔ جن میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ملک بھر میں فرقہ وارایت کی آندھی چلانے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ کوشش اب بھی جاری ہے۔ وزیر اعظم یا تو ان واقعات پر خاموش رہتے ہیں یا پھر جب ان پر طنز و تشنیع کی بارش ہونے لگتی ہے تو وہ کوئی بیان دے دیتے ہیں۔ عام طور پر وہ کہتے ہیں کہ ان کی حکومت میں سب برابر ہیں۔ سب کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اگر کوئی مذہب کی بنیاد پر کسی کے خلاف کچھ کرے گا تو اسے بخشا نہیں جائے گا۔ اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ وہ سوا سو کروڑ ہندوستانیوں کے وزیر اعظم ہیں۔ وہ سب کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتے ہیں۔ وہ اکثریت اور اقلیت کی سیاست نہیں کرتے۔ کیونکہ اس سے ملک کو نقصان پہنچتا ہے۔ انھوں نے حال ہی میں مسلمانوں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران یہاں تک کہا کہ اگر وہ آدھی رات کو بھی ان کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے تو انھیں حاضر پائیں گے۔ لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو کچھ نظر نہیں آتا۔ مودی صرف بیان بازی کی حد تک کام کرتے ہیں۔ اس ملاقات میں بھی ان کو بتایا گیا کہ ہریانہ کہ بلبھ گڑھ ضلع کے اٹالی گائوں میں مسلمانوں کے خلاف فساد کیا گیا ہے لیکن کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس پر انھوں نے کہا کہ ہاں انھیں خبر ہے۔ وہ اس واقعہ سے واقف ہیں۔ لیکن اس کے باوجود انھوں نے قصوراروں کے خلاف کارروائی کا کوئی حکم نہ تو ہریانہ حکومت کو دیا اور نہ ہی مسلمانوں سے کہا کہ وہ وہاں کی حکومت سے اس بارے میں پوچھیں گے۔ یہ محض ایک معاملہ ہے۔ اسی روز بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ونے کٹیار نے دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ اگر اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر میں تاخیر ہوئی تو رام سیوکوں کا غصہ جوالہ مکھی کی مانند پھٹ پڑے گا۔ لیکن کسی نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ ونے کٹیار تمھارے منہ میں کتنے دانت ہیں۔ خود مودی نے خاموشی اختیار کر لی۔ ایسی بہت سی مثالیں اس ایک سال کے اندر سے دی جا سکتی ہیں۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مودی جی بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن کر نہیں پا رہے ہیں۔ مودی نے خود مسلمانوں کے وفد سے کہا کہ وہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور میل جول کا ماحول پیدا کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانا چاہتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ ان کے کام میں رخنہ اندازی کر رہے ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے، اور درست لگتی بھی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ مودی صرف نام کے وزیر اعظم ہیں۔ وہ ایک نقلی پی ایم ہیں۔ وہ صرف ایک مکھوٹہ ہیں۔ اصل حکومت آر ایس ایس کر رہا ہے۔ اس نے حکومت کی کرسی پر مودی کوسجا دیا ہے اور سرکار خود چلا رہا ہے۔ یہ ہم اس لیے کہہ رہے ہیں کہ کم از کم مسلمانوں اور دوسرے اقلیتوں کے بارے میں مودی جو بھی وعدہ کرتے ہیں وہ پورے نہیں ہوتے۔ وہ محض وعدے ثابت ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب تو یہی ہوا نا کہ کچھ طاقتیں ہیں جو ان وعدوں کو پورا ہونے نہیں دینا چاہتیں۔ اور وہ طاقتیں ناگپور میں بیٹھی ہوئی ہیں۔ جو ناگ کی مانند اس ملک کی فرقہ وارانہ فضا کو ڈس رہی ہیں۔ ان حالات میں یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ نرندر مودی نقلی وزیر اعظم ہیں۔ ملک کا اصل وزیر اعظم کوئی اور ہے۔