نقطہ نظر

کیانی کی ریٹائرمنٹ

کیانی کی ریٹائرمنٹ

کلدیپ نائر
پاکستانی آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی طرف سے 29 نومبر کو ریٹائر ہونے کا اعلان ملک کے میڈیا میں سب سے بڑی خبر کے طور پر شہ سرخیوں کے ساتھ شایع ہوا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں بھی اس بیان پر اطمینان ظاہر کیا گیا ہے۔ غالباً اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کیانی کو بعض حلقوں میں جاہ طلب سمجھا جاتا ہو۔ اور ایسا خدشہ بھی محسوس کیا جارہا تھا کہ ممکن ہے ماضی میں تواتر کے ساتھ ہونے والی فوجی بغاوتوں میں سے ایک اور بھی ظہور پذیر ہو جائے۔ لیکن خوش قسمتی سے کیانی نے برسرعام آ کر اپنے ادارے کا اظہار کر دیا ہے۔ انھوں نے سیاسی قیادت اور قوم کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے تاریخ کے اس اہم موقع پر ان پر اور پاک آرمی پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ خود بھی اس عمومی رائے کو تسلیم کرتے ہیں کہ ادارے اور روائتیں افراد سے زیادہ مضبوط و مستحکم ہوتی ہیں اور انھی کو فوقیت دی جانی چاہیے۔
پاکستان کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ آرمی جب چاہے ایوان اقتدار میں داخل ہو سکتی ہے۔ فوجی بغاوتوں کی ابتدا جنرل ایوب سے ہوئی پھر جنرل ضیا اور پھر جنرل پرویز مشرف آئے اس سے یہ تاثر ابھرا کہ اگرچہ فوج بیرکوں میں واپس چلی جاتی ہے لیکن اس کی اثر پذیری میں کوئی کمی نہیں آتی۔ اس امر میں صداقت ہے کیونکہ نواز شریف بھی، جنہوں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم ’’باس‘‘ ہے، بہت محتاط ہیں کہ ان کا کوئی بھی اقدام فوج کو نیچا دکھانے کے زمرے میں نہ آئے۔ اگرچہ وزیر اعظم جو کہ جمہوری عمل کے ذریعے باقاعدہ انتخاب کے بعد برسر اقتدار آئے تھے انھیں جنرل مشرف نے نکال باہر کیا تھا لہٰذا نوازشریف محتاط ہیں۔ خبریں ہیں کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کی اس حوالے سے بات چیت جاری ہے کہ کیانی کا جانشیں کس کو بنایا جائے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ اخبارات میں شایع ہونے والی زیادہ تر تصاویر میں کیانی‘ نوازشریف کے پہلو بہ پہلو ہیں۔
اس لیے ISPR کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز حیران کن ہونے کے ساتھ ساتھ باعث اطمینان بھی تھی کہ آرمی چیف 29 نومبر کو اپنے عہدے کی توسیع شدہ میعاد ختم ہونے پر ریٹائر ہو جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جنرل کیانی کو تین سال کی توسیع دی تو کچھ حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں کہ گیلانی کے پاس ایسا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ان سے زبردستی توسیع لی گئی ہو لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔ گیلانی چاہتے تھے کہ آ رمی کا سربراہ فوج کو سیاست میں مداخلت سے دور رکھے‘ جس میں مشرف ساڑھے آٹھ سال اقتدار میں رہنے کے باوجود کامیاب نہ ہو سکے تھے۔
جنرل کیانی کی باضابطہ ریٹائرمنٹ سے ہرگز یہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں فوج دوبارہ حکومت میں نہیں آسکتی لیکن بہر حال اس کا امکان ضرور بتدریج کم ہوتا جائے گا کیونکہ عوام الیکشن کے عمل میں اپنا زیادہ ذاتی فائدہ دیکھتے ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو بھی میں نے کہتے سنا ہے کہ اب اگر غیر آئینی اقدام ہوا تو عوام سڑکوں پرنکل آئیں گے۔
میری تمنا ہے کہ یہ سچ ہو لیکن میرا تجربہ اس کے برعکس ہے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو سقوط ڈھاکہ کے بعد اقتدار میں آئے تو انھوں نے مجھ سے کہا تھا ’’ہم نے ماضی سے سبق سیکھ لیا ہے‘‘ اور یہ کہ اب اگر کبھی فوج نے ایسا اقدام کیا تو عوام احتجاج کریں گے اور ان کے ٹینکوں کا راستہ روکیں گے۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا کچھ کبھی دیکھنے میں نہیں آیا بالخصوص جب مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا۔
پاکستانی عوام بھی‘ بھارتی عوام کی طرح یہی چاہتے ہیں کہ وہ خود پر حکومت کریں لیکن آزادی کے سڑسٹھ سال گزر جانے کے باوجود‘ جن میں سے پچاس سال فوج کی حکمرانی میں گزرے ہیں، پاکستان میں حقیقی جمہوریت پنپ ہی نہیں سکی۔ لوگ اب بہت خوفزدہ ہیں اور آج جب کہ ملکی صورتحال تباہی کے دہانے پر ہے‘ صرف فوج ہی میں اتنی طاقت ہے کہ طالبان کا مقابلہ کر سکے اور یہ مسئلہ مزید کٹھن ہوجائے گا جب اگلے سال مغربی طاقتوں کا افغانستان سے انخلا ہو گا۔
مجھے جنرل کیانی کے الوداعی بیان میں ایک عجیب اتفاق کا احساس ہوا۔یہ بیان 12 اکتوبر کو جاری کیا گیا‘ ٹھیک اسی تاریخ کو جب ماضی میں جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم نواز شریف کو مشرف نے حکومت سے ہٹایا تھا۔
جنرل کیانی نے کشمیر پر اپنی توجہ مرکوز رکھی ہے۔ مجھے وہ وقت یاد ہے، جب جنرل ضیاء نے اپنے آمرانہ دور میں مجھے کہا کہ فوج کو مکمل حق حاصل ہے کہ وہ ملک کے سیاسی امور میں مداخلت کرے، علی الخصوص اگر صورت حال خراب ہو۔ میں نے ضیاء سے کہا کہ آپ تو کبھی بھی ملکی معاملات میں مداخلت کر سکتے تھے، پھر ایسے میں یہ سوال کیسے پیدا ہوتا ہے کہ ملکی صورتحال بگڑ گئی ہے‘ یہ جواز کیسے تلاش کیا جاتا ہے؟
اصولی طور پر منتخب حکومت کے ہاتھ میں ہی ملک کی مکمل باگ ڈور ہونی چاہیے۔ پاکستان کے زیادہ تر مسائل کی ذمے داری ملکی معاملات میں فوج کی مداخلت ہے۔ جن طالبان کا پاکستان کی فوج قلع قمع کرنا چاہتی ہے، وہی طالبان بھارت کو اپنی اوقات میں رہنے پر مجبور کرنے کے لیے ضروری بھی ہیں۔ آج تحریک طالبان پاکستان ایک ایسی قوت بن چکی ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف بھی ان سے مذاکرات کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔
سب کو احساس ہونا چاہیے کہ جمہوریت کوئی تحفہ نہیں ہے اور خاص طور پر فوج کی جانب سے نہیں دیا گیا ہوتا۔ پاکستان ایک اور فوجی اقتدار کا متحمل ہر گز نہیں ہوسکتا۔ مشرف کی ناکامی کے بعد عوام کا فوجی اقتدار پراعتماد بالکل اٹھ گیا ہے اور یقیناًیہ امر جمہوریت کی تقویت کے لیے خوش آیند ہے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)