سرورق مضمون

کیایہی ہے وزیراعلیٰ کا عید تحفہ؟

کیایہی ہے وزیراعلیٰ کا عید تحفہ؟

ڈیسک رپورٹ
نا جانے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کس بنیاد پر آج یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ اگلی حکومت اُن کی ہی ہو گی اور حکومت کی سربراہی عمر عبداللہ ہی کریں گے ۔ اس کا جواب شاید سوائے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے کسی اور کے پاس ہوگا۔ جس کی بنا پر عمر عبداللہ نے آج اتنی بڑی بات کا انکشاف کیا ہے۔ حقیقی معنوں میں اگر دیکھا جائے تو قبل از وقت ہی کچھ کہنا مناسب نہیں ہے اور ابھی اگر چہ پارلیمانی انتخابات کو کچھ ہی مہینے ہو ئے اور لوک سبھا کے ریاست میں نتائج سب کے سامنے ہے۔ اس لحاظ سے بھی اگر دیکھا جائے تو یہ عمر عبداللہ کے بیان کے منافی ہی ہو سکتا ہے۔ مگر یہ کشمیر ہے یہاں کچھ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ حقیقی معنوں میں اگر دیکھا جائے تو آج کل کی اس نام نہاد جمہوریت سے شخصی راج یا قدیم ترین بادشاہی کازمانہ کئی درجہ بہتر اور فائدہ مند تھا واقعی کچھ خامیاں اور کمزوریاں ضرور تھی مگر انصاف کے تقاضے اور قانونی عمل داری کے ساتھ ساتھ حکومتی اہلکاروں سے جواب دہی کا خوف موجود تھا آج کل کے حکومتی نظام پر ہر ایرے گھیرے نتھو خیرے کی طرح حکومتی ایوانوں میں بے جا دخل اندازی من مانیاں نہیں تھے جس جمہوری نظام کا آج کل چرچا کیا جا رہا ہے حقیقت میں اس خود غرض نظام نے جمہوریت کی مٹی پلید کر کے رکھدی۔ رواں سال میں جو پارلیمانی انتخابات ہوئے اس کے جو نتائج سامنے آگئے اُسے تمام جمہوری حکومتیں اُنگشت بدندان اورکشمیر کے سیاست دان اور حکمران ٹولہ کو پریشان حال بھی کر دیا اگرچہ پارلیمانی الیکشن کا اتنا عرصہ گزر گیا ہے۔ مگر حکمران ٹولہ ابھی تک اپنے آپ کو سنبھل نہیں پا رہے ہیں چناوی شکست کو قبول کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزام اور بے وفائی کرنے کے بہانے تراش کر کے ایک ہی گھر میں رہتے کھاتے پیتے ہیں انا اور مفاد پرستی کا حال یہ ہے کہ ایک دوسرے کا گریبان پکڑتے بھی اقتدار کی کرسی سے چمٹے بیٹھے ہیں حالانکہ مخلوط سرکار کی اکائیوں نے دہلی سے کشمیر تک آئندہ سیاسی پیار سے توبہ تو کر لیا مگر عمل اس لئے نہیں کرتے ہیں کہ کئی وہ عوامی موڈ کو دیکھ کر ریاست میں سکریٹریٹ کی عمارت پر کئی اُن کے حریف مخلوط سرکار کا جھنڈا اُتار ناپھینکے اور قلم دوات والا جھنڈا سرنا نکالے تجزیہ نگاروں کی رائے تھی کہ مخلوط سرکار عوام کے ہاتھوں اپنا حشر دیکھ کر اس بات پر توجہ اور دھیان دے کر اپنا محاسبہ کرے اور دیکھیں کہ دوران بادشاہی کمزوریاں اور لاپرواہی کہاں پر ہوئی جو لوگ مخلوط سرکار سے بدظن ہو گئے اور آئندہ کبھی ان پر بھروسہ نہ کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں۔سرکار کے سربراہ اور ریاست کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے عوام سے رائے معلوم کرنے کے لئے اعلان بھی کیا تھا بہت سارے مدبر اور غیر جانب لوگوں نے ایک ماہ تک اُن خامیوں سے سرکار کو آگاہ کیا مگر کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہاں البتہ ماہ رمضان المبارک کے آخری ہفتے میں وزیراعلیٰ نے عوام کو عید پر کچھ رعایتی اعلان کا تحفہ دینا چاہا تھا جس میں بجلی فیس کی کمی ، غریب بقایاداروں کو رعایت اور سرکاری محکموں میں تعینات عارضی ملازموں کو مستقل کرنا وغیرہ شامل تھا عید بھی چلی گئی مگر اُس تحفے کو کیا ہوا۔ آج جب وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک قسم کا شوشا ضرور چھوڑ دیا کہ اگلی حکومت اُن کی ہی ہو گی اور اگلا وزیراعلیٰ عمر عبداللہ ہی ہوں گے ۔ یہ بات اگر چہ عوام کو ہضم نہیں ہو ئی ہو گی کیونکہ عمر عبداللہ نے آج تک بہت سارے اعلان کئے ہیں جن کے نتائج معنی خیز نہیں رہے۔ اس سلسلے میں عمر عبداللہ نے کچھ برس پہلے بڑے زور و شور سے کہا کہ ریاست میں نافذ افسپا بہت جلد ہٹایا جائے گا اور تاحال افسپا ہٹایا نہیں گیا اور ایسے بہت سارے اعلان ہوئے جو خالی اعلان ہی رہے۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اگر چہ ماہ صیام کے ایام میں ان باتوں کا ضرور اعلان کیاکہ وہ ریاست کے عوام کو عید تحفہ کے طور پر بجلی فیس میں کمی کے علاوہ راشن کوٹے میں اضافے کا اعلان بھی کرے گا۔ مگر اب جبکہ عید بھی گذر گئی اور تا حال ایسا کوئی خاص اعلان بھی نہیں ہوا۔ اب جبکہ 15 اگست کے موقعے پر وزیراعلیٰ نے بجلی فیس کے محصول پر بارہ فیصد کی کمی اعلان کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا سوال ہے کیا یہی ہے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا عید تحفہ؟ ہاں اگر یہ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کی طرف سے ریاست کے عوام کیلئے تحفہ کا اعلان ہے مگر یہ ریاست کے غریب عوام کو کو ئی خاص راحت پہنچانے والا اعلان نہیں ہے۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بارہ فیصد کی کمی کا اعلان کب نافذ ہوگا۔ ہوگا بھی کہ نہیں ۔ کیونکہ عوام کو تلخ تجربے ہیں کہ جب جب ریاست میں الیکشن ہونے والے ہوتے ہیں اور تب تب ریاست کے رہنما اور لیڈران عوام سے وعدے ضرور کرتے ہیں اور یہ وعدے پھر پورے ہوں یا نہیں ان سے ان لیڈروں کی لینا دینا نہیں ۔ البتہ موقعے کا فائدہ اٹھانے کے لئے عوام کو خوش ضرور کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں 2008ء کے اسمبلی انتخابات کے دوران خود وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کامیابی کی صورت میں ریاست کے عوام کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ اگر کامیاب ہوئے تو ہر گھر میں ایک فرد کو سرکاری نوکری فراہم کرے گا۔ وزیراعلیٰ کامیاب بھی ہوئے اور اب چھ سال گذرنے بھی والے ہیں آج تک وہ وعدہ پورا نہیں کیا۔ ہاں کامیاب ہونے کے فوراً بعد وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے عوام سے مخاطب ہو کر کہا کہ اُن کے پاس جادو کی چھڑی نہیں کہ ہر ایک کو نوکری فراہم کریں گے۔ اتناہی نہیں وزیراعلیٰ نے اقتدار میں رہ کر افسپا ہٹانے کی لگاتار وکالت کی لیکن نتیجہ عوام کے سامنے ہے۔ عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے اُن کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لئے سیاسی لیڈران عوام سے کہا کرتے ہیں کہ ہم بنیادی عوامی ضروریات خاص کر سڑک، پانی، بجلی، تعلیم اور صحت خدمات میسر کریں گے لیکن نتیجہ پھر اس کے برعکس رہتا ہے۔ یہی ہے سیاسی لیڈران کا اصل پہچان اور اسی لئے ایک حلقے کا خیال ہے کہ آج کی اس حکمرانی سے کئی درجہ بہتر ہے بادشاہی کا زمانہ۔