مضامین

کیا اب مجھے جیل بھیجوگے؟/خواتین پرڈاکٹر فاروق عبداللہ کا متنازعہ بیان

کیا اب مجھے جیل بھیجوگے؟/خواتین پرڈاکٹر فاروق عبداللہ کا متنازعہ بیان

نیشنل کانفرنس کے صدراور مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو اْس وقت سر عام معافی مانگنی پڑی جب خواتین کے بارے میں مبینہ طور ان کے قابل اعتراض ریمارکس پر شدید تنقید کی گئی۔ ڈاکٹر عبداللہ کے فرزند اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹویٹر کے ذریعے اپنے والد کو معافی مانگنے کا مشورہ دیا جس کے بعد انہوں نے اپنے ریمارکس کے لئے باضابطہ طور معافی مانگی اور میڈیا پر برستے ہوئے انہیں پھنساکر جیل بھیجنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔ نئی و قابل تجدیدتوانائی کے مرکزی وزیر اور ریاستی حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر جارہے تھے کہ اس دوران کچھ نامہ نگاروں نے انہیں گھیر لیا اور مختلف سوالات پوچھے۔اس موقعہ پر سابق سپریم کورٹ جج اے کے گانگولی کے جنسی ہراسانی کیس کے سلسلے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ مرد حضرات اس وجہ سے خواتین کے ساتھ بات کرنے میں بھی ڈر محسوس کرتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں وہ جیل جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مرد وں کوخواتین کو اپنے ساتھ کام پر رکھنے میں بھی ڈر لگتا ہے۔ ڈاکٹر فاروق نے اپنے مخصوص انداز میں وضاحت کرتے ہوئے کہا’’آ ج کے دور میں مجھے خواتین کے ساتھ بات کرنے میں ڈر محسوس ہوتا ہے ، یہاں تک کہ میں خاتون سیکریٹری بھی نہیں رکھنا چاہتا ، خدا نخواستہ اگر میرے خلاف کوئی شکایت کی گئی تو مجھے جیل جانا پڑے گا، آج کل اس طرح کے حالات ہیں!‘‘۔انہوں نے خواتین پر جنسی تشدد کی وارداتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’میں مانتا ہوں کہ عصمت ریزی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے لیکن کہیں نہ کہیں یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے‘‘۔ڈاکٹر عبداللہ نے فوراً اپنے بیان کی وضاحت کی اور کہا’’جی نہیں! میں لڑکیوں کو قصور وار نہیں ٹھہراتا، میں سماج کو مورد الزام ٹھہرارہا ہوں ، سماج اْس نکتے پر پہنچ چکا ہے جہاں اب ایک سمت کے بعد یہ ہر ایک پر دباؤ ڈال رہا ہے‘‘۔اس بیان کو لیکر مرکزی وزیر مختلف سیاسی اور سماجی لیڈران کی طرف سے شدید تنقید کی زد میں آگئے اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کے ساتھ ساتھ نہ صرف سوشل میڈیا کے ذریعے غم و غصے کا اظہار کیا گیا بلکہ ٹیلی ویژن چینلوں نے اس معاملے کو بری طرح سے اْچھالا۔یہاں تک کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے فرزند وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی اس بیان پر اعتراض جتایااور اپنے والد کو معافی مانگنے کی صلاح دی۔بیان سامنے آنے کے بعد عمر عبداللہ نے سماجی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا’’مجھے یقین ہے کہ یہ خواتین کے تحفظ جیسے اہم مسئلے کو نظر انداز کرنے کی کوشش نہیں تھی، مجھے امید ہے کہ پاپا طنزیہ انداز میں کہی گئی اپنی بات کیلئے معافی مانگیں گے‘‘۔ ڈاکٹر عبداللہ کا بیان ابھی انٹرنیٹ اور ٹی وی کے ذریعے منظر عام پر آیا ہی تھا کہ ان کے سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ سماجی سطح پر سرگرم کئی سرکردہ کارکنوں نے ان کے بیان کو قابل اعتراض اور خواتین کی بے عزتی سے تعبیر کیا،البتہ کچھ لیڈران مرکزی وزیر کے دفاع میں بھی آگئے۔خواتین اور بچوں کی ترقی سے متعلق وزارت کے مرکزی وزیر مملکت کرشنا تیرتھ نے کہا کہ ان کے خیال میں ڈاکٹر عبداللہ کے خیالات مناسب نہیں ہیں۔سابق خاتون آئی پی ایس آفیسرکرن بیدی نے ٹویٹر کے ذریعے ڈاکٹر فاروق کے بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کیا اور کہا کہ خود عدم تحفظ کے شکار لوگ ہی اس طرح کا خیال ظاہر کرسکتے ہیں۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی خاتون ممبر پارلیمنٹ سمرتی ایرانی نے بھی نیشنل کانفرنس صدر کے بیان پر غم و غصے کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا’’یہ ایک غیر مناسب بیان ہے، خاص طور پرجب یہ بیان پارلیمنٹ کی سیڑھیوں پردیا گیاہو‘‘۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس بات کا اشارہ دینے کی کوشش کی ہے کہ خواتین کو صرف کام پر رکھا جاسکتا ہے اور بعد میں انہیں غلط نیت کے ساتھ بلایا جاتا ہے۔سمرتی کا کہنا تھا ’’ایک سینئر سیاسی لیڈر کو کم سے کم یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ یہ ایک حساس ترین مسئلہ ہے ،انہیں یہ تاثر دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے کہ اگرخواتین اپنے کام کی جگہ پر اپنے حقوق کی بات کرتی ہیں تو یہ مردوں اور ان کے حقوق کے لئے خطرہ ہے‘‘۔خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والی سرکردہ کارکن کویتا کرشنن نے بتایا کہ اس طرح کے بیان کی شدید مذمت کی جانی چاہئے۔مختلف حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد ڈاکٹر فاروق عبداللہ اس معاملے کو لیکر معافی مانگنے پر مجبور ہوگئے اور انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت کے دوران اپنے ریمارکس کے لئے باضابطہ طور معذرت طلب کی۔انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا’’آج کل حالات ایسے ہیں کہ لوگ خوف محسوس کرتے ہیں، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہم سب عصمت ریزی اور خواتین کی عزت کے ساتھ کسی بھی قسم کے کھلواڑ کے خلاف ہیں، انہیں احترام ملنا چاہئے، یہی وجہ ہے کہ ہم خواتین کے لئے33فیصد ریزرویشن کے لئے جدوجہد کررہے ہیں جو انتہائی ضروری ہے اور یہ بل پاس ہونا چاہئے‘‘۔ڈاکٹر فاروق نے مزید بتایا’’اگر میں نے کوئی ایسی بات کی ہے جو مجھے نہیں کرنی چاہئے تھی تو میں معافی مانگتا ہوں، میرے کہنے کا وہ مطلب نہیں تھا،سوال یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات سے نمٹتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لیا جانا چاہئے‘‘۔جب ان کی توجہ خواتین کو کا م پر نہ رکھنے سے متعلق ان کے ریمارکس کی طرف مبذول کرائی گئی تو ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’’اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کسی کو ڈر محسوس ہوتا ہے ، اگر آپ کسی دفتر میں ایک خاتون کو دیکھتے ہیں تو آپ کے ساتھ ایک اور مرد بھی ہونا چاہئے تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ کچھ غلط ہوا ہے ‘‘۔ اس موقعہ پر مرکزی وزیر آگ بگولہ ہوگئے اور میڈیا پر برستے ہوئے ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا’’ارے یار!آپ مجھے پھنسانا کیوں چاہتے ہیں؟ آپ کا میڈیا کچھ بھی کرسکتا ہے! کبھی آپ مودی کو پھنساتے ہیں اور کبھی کسی اور کو ، کیا اب خواتین کو بھی پکڑنا چاہتے ہو؟ آپ تمام مردوں کو سیدھے جیل کیوں نہیں بھیجتے؟‘‘۔ انہو ں نے مزید بتایا ’’میرا ماننا ہے کہ جنسی بنیادوں پر جو کچھ ہو رہا ہے ، یہ ایک دہشت ناک بات ہے، ایسا نہیں ہونا چاہئے، اگر میری کسی بات کا غلط مطلب لیا گیا ہے تو میں اس کے لئے معافی مانگوں گا، اگر ایسا ہوا ہے تو میں معافی مانگتا ہوں‘‘۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے اپنے فرزندوزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے مشورے پر معافی مانگی ہے ؟ تو انہوں نے کہا ’’میں پارلیمنٹ کے اندر تھا ، عمر سے کیسے بات کرسکتا تھا ، کیا میری روح اْس کے ساتھ بات کرنے کے لئے گئی ؟ آپ کس طرح کا میڈیا ہو؟ آپ ایک آدمی کو برباد کرکے رکھ دیں گے‘‘۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ ان کے بیان کو غلط سمجھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’اور کتنا اس کو اچھالو گے، کیا اب مجھے جیل بھیجوگے‘‘؟۔