اداریہ

کیا انسانیت دم تور رہی ہے؟

آئے روز کہیں نہ کہیں سے ایسے خبریں موصول ہو رہی ہیں جن سے باضمیر انسان کا ضمیر مجروح ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ذی حس انسان کا ہوش اڑ جاتا ہے ۔اگر چہ باضمیر انسان کا ضمیر مجروح بھی ہوتا ہے اور ہوش بھی اڑ جاتا ہے لیکن سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں کر پاتا۔ کبھی خبر موصول ہو رہی ہے کہ معصوم کلی یعنی چھ سال کی بچی کو 22 سالہ درندہ نے عصمت تار تار کی اور کبھی ایسے دل ہلانے والے واقعات خبروں میں آتے ہیں جن سے ذی حس انسان کا کلیجہ پھٹنے کو آتا ہے۔
گذشتہ روز بمنہ سرینگر میں دل دہلادینے والی واردات میں ایک امام مسجد کے دومعصوم بچوں کا سفاکانہ اندازمیں ذبح کیا گیااوردونوں بچے ابدی نیند سوگئے جبکہ انکی جواں سال ماں شدید زخمی ہوکر موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہوگئی ۔بدھ کی صبح بمنہ میں لوگ اس وقت سہم گئے جب اقبال آباد میں مسجد نور کے امام کی بیوی اور اس کے ڈیڑھ سالہ بیٹے اوراڑھائی برس کی بیٹی کا گلہ کاٹ دیا گیا۔قاتلوں نے تیز دھار والے ہتھیاروں سے یہ انسانیت سوز واقعہ انجام دیا۔
ادھر بڈگام میں کہا جاتا ہے کہ دو اشخاص کا باہمی تنازع کو بنیا د بناکر تناؤ پیدا کیا گیا جو آس پاس کے کئی دیہاتوں تک پھیل گیا ۔اس پر پولیس نے ابتدائی کاروائی کرکے دباؤ بنانے کی کوشش کی ۔ لیکن اس میں زیادہ کامیابی نہ ہوئی تو فوج کی مدد سے حساس جگہوں پر کرفیو لگایا گیا۔ اس سے اگر چہ بڑے پیمانے پر تشدد کو روکا گیا البتہ تشدد کے چھوٹے بڑے کچھ واقعات پھر بھی سامنے آئے۔
بڈگام میں مسلکی فسادات کا رونما ہونا قابل مذمت ہی نہیں بلکہ شرمناک ہونے کے ساتھ ساتھ یہ واقعات کشمیریت کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ مہذب ،اقوام اور مہذب سماج میں ایسے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ ایسے واقعات مختلف قوموں کیلئے تباہی اور بربادی کا سامان ہے۔
یہ دو واقعات جو بمنہ اور بڈگام میں پیش آئے، ایک ذی حس انسان کیلئے باعث تشویش ہے ۔ سوچنے اور فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر اس سرزمین پر ایسے ہی واقعات اور سانحات رونما ہوتے رہے تو کشمیریوں کے لئے بھی سوالات اُبھرنے لگے گے کہ کیا انسانیت دم توڑ رہی ہے؟ کشمیر کی سرزمین رواداری اور یگانگت کے لیے پوری دنیا میں مشہور ہے اور ہمیں ہر قیمت پر اس شناخت کی حفاظت کرنی چاہیے۔