مضامین

کیا آپ کو اپنے دل کے نمبرات معلوم ہیں؟

کیا آپ کو اپنے دل کے نمبرات معلوم ہیں؟

ڈاکٹر نثار احمد بٹ ترالی
ڈاکٹر ایشان ایک دن اپنے دوست غلام نبی کے گھر گیا۔ جہاں اس نے اپنے دوست کو ٹیلیفون ڈائری میں کسی نمبر کو ڈھونڈتے ہوئے دیکھا۔ کچھ وقفہ گذرنے کے بعد غلام نبی کو اس شخص کا ایڈرس ، پن کوڈ اور ٹیلفون نمبر مل گیا جس کے ساتھ وہ بات کرنا چاہتا تھا۔ فون پر بات مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر ایشان نے دوست سے پوچھا کہ آدھ گھنٹہ کی مشقت کے بعد آپ کو ٹیلیفون نمبرات تو مل گئے لیکن کیا آپ کو اپنے دل کے نمبرات کی جانکاری ہے؟ غلام نبی نے حیرانی کے عالم میں کہا کہ کیا دل کے نمبرات بھی ہوتے ہیں؟ یہ تو بالکل نئی اور نرالی بات ہے۔ اس پر ڈاکٹر ایشان بولے کہ اگر آپ کو بلڈ پریشر ، بلڈ شوگر، کولسٹرال ، جسمانی چربی اور سی آر پی (CRP)یعنی C-Reactive Protein کے نمبرات معلوم ہوں گے تو آپ امراض قلب (جو دنیائی وجوہات موت میں سر فہرست ہے) سے بچ سکتے ہیں۔ اگر آپ کے نمبرات زیادہ ہیں تو آپ امراض قلب ، فالج، ڈائی بٹیزکا شکار ہو سکتے ہیں۔ گو کہ بعض خطرات میں موروثیت کا اہم رول ہے۔ لیکن زیادہ تر انحصار ان باتوں پر ہے جن کو آپ بدل بھی سکتے ہیں۔ مثلاً خراب غذا ، سگریٹ نوشی ، بے حس طرز زندگی ۔ ڈاکٹر ایشان بولے چلئے اب میں تمہیں آج ان چار ٹیسٹوں کے نمبرات بتا ئوں جو کہ دل کے لئے انتہائی ضروری ہیں۔
(۱) C-Reactive Protein
یہ ایک قسم کا پروٹین ہے جسے ہم امراض قلب اور فالج کے لئے مار کر (marker) کے طور استعمال کرتے ہیں۔ اسکی مقدار خون کی رگوں میں سوجھن (inflammation) کی وجہ سے بڑھتی ہے گوکہ عمومی طور ڈاکٹرس ٹیست کا استعمال نہیں کرتے ہیں لیکن آج کل زیادہ تعداد میں ڈاکٹر اس ٹیست کو کرواتے ہیں تاکہ ان افراد کی نشاندہی ہوجائے جن کو فالج اور امراض قلب کا زیادہ خطرہ ہو۔
اسکے نمبرات مندرجہ ذیل ہیں:
=<1.0 mg/dl اگر مقدار ایک یا ایک سے کم ہو تو یہ نارمل ہے۔
=1.0 to 3.0 mg/dl یہ نمبرات خطرے کی گھنٹی بجاتے ہیں۔
=3.0 mg/dl اگر مقدار ۳ یا ۳ سے زیادہ ہو تو خطرہ بہت زیادہ ہے۔ اگر آپ کے خاندان میں امراض قلب کا شکار کوئی فرد ہے تو اس صورت میں آپ کو اس ٹیسٹ کے نمبرات زیادہ ہو سکتے ہیں۔
(۲) بلڈ پریشر
کسی شخص کا بلڈ پریشر ریکارڈ کرتے وقت آپ بلڈ پریشر کے نمبرات کو سن سکتے ہیں لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ان کا مطلب کیا ہے۔
(i) نارمل بلڈ پریشر کے نمبرات = 119/79 یا اس سے کم
(ii) پری ہائیپر ٹینشن کے نمبرات
(Pre-Hypertension) = 120-139/80-89
یاد رکھیں کہ لکیر کے اوپر نمبرات کو سسٹالک بلڈ پریشر (Systolic BP)کہتے ہیں اور لکیر سے نیچے ڈائی اسٹالک بلڈ پریشر (Diastolic BP)۔ بلڈ پریشر کے متعلق جو عمومی نمبرات آپ کو یا د ہیں شاید یہ آپ کو ان سے کم لگے ہوں گے۔ یہاں یہ بتانا آپ کو ضروری سمجھتا ہوں کہ بلڈ پریشر کے متعلق نئی درجہ بندی سال ۲۰۰۳ء میں وجود میں آئی اور ایک نئی درجہ بندی میں پری ہائیپر ٹینشن (یعنی ہائی بلڈ پریشر سے قبل یا پہلے) وجود میں آیا۔ ماہرین کے مطابق اس زمرے میں ۴۵ ملین مرد و خواتین یعنی چار کروڑ پچاس لاکھ لوگوں کو ہائی بلڈ پریشر ، امراض قلب ، فالج اور گردوں کی بیماری سے بچنے کے لئے اپنی طرز زندگی کو بدلبنا ہوگا یعنی سگریٹ چھوڑنا ہوگا، وزن کم کرنا ہوگا، ورزش کرنا ہوگی اور اسادہ مقوی غزا استعمال میں لانا ہوگی۔
(۳) کولسٹرال (Cholestrol)
کولسٹرال ایک قسم کی چربی ہے جو کہ آپ کے جسم کے لئے بے حد ضروری ہے اور اس کو امراض قلب کے لئے سب سے طاقتور خطراتی عنصر مانا جاتا ہے۔ اسکی مقدار زیادہ ہونے اور اچھے کولسٹرال کی کمی سے دل کی رگیں سخت ہوجاتی ہئیں، جن سے ہارٹ اٹیک ، دل کی دیگر بیماریوںاور فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔
کولسٹرال کے نمبرات
(i) ٹوٹل کولسٹرال= (High) >=200 mg/dl
(ii) ایچ ڈی ایل (HDL)
یعنی اچھا کولسٹرال= <=200ml/dl(High)
(iii) ایل ڈی ایل (LDL)
یعنی خراب کولسٹرال= (High)>=160 mg/dl(i)
(ii) (Very high)>190mg/dl
(iii) (Optimal) <= 100 mg/dl
(iv) (near optimal) 100-129 mg/dl
(v) (Border line high) 130-159 mg/dl
بہتری اسی میں ہے کہ نارمل انسان کا ٹوٹل کولسٹرال 200ملی گرام سے کم ، HDL 40ملیگرام سے زیادہ اور LDL 100-129ملی گرام رہے۔ البتہ امراض قلب والے افراد میں LDLکے نمبرات 100ملی گرام سے کم ہونے چاہیں۔
(۴) (BMI) Body Mass Index
یعنی بی ایم آئی۔ اس ٹیسٹ سے آپ کے جسم کی چربی کا پتہ چلتا ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ آپ موٹے ہیں، پتلے ہیں یا نارمل ہیں۔ بی ایم آئی کے لئے انسان کا قد اور وزن دیکھنا پڑتا ہے۔
بی ایم آئی کے نمبرات
ideal =24 or less (i) (صحیح)
over weight=25-30 (ii) (وزن زیادہ ہے)
morbid obesity=40 (شدید ترین موٹاپن)
نمبر (iv) سے مرنے کا خطرہ 50 سے 150 فیصد بڑھتا ہے۔
(۵) ٹائیپ ٹو ڈائی بٹیز (Type 2 Diabetes)
موٹاپن اور کم ورزش سے ڈائی بٹیز کا خطرہ بڑھتا ہے اس سے امراض قلب، فالج، گردوں کی بیماریاں اور اندھے پن کا خطرہ بڑھتا ہے۔
بلڈشوگر کے نمبرات
(i)=<100 mg/dl نارمل (Fastingحالت میں)
(ii) Pre-diabetes = 100-125 mgh/dl
(ڈائی بٹیز سے قبل یا پہلے)
(iii) =>126 mg/dlاس کا مطلب ہے کہ فرد ڈائی بٹیز کا شکار ہے۔
ڈاکٹر ایشان کی بات سن کر اور سمجھ کر غلام نبی نے فیصلہ کیا کہ وہ اگلے روز فاقہ کی حالت میں بلڈ شوگر ، Lipid profile، CRP ٹیسٹ کرے گا اور وزن ، قد اور بلڈ پریشر بھی ریکارڈ کرائے گا تاکہ دل کے نمبرات کا پتہ چلایا جاسکے۔ غلام نبی نے اپنے دوست ڈاکٹر ایشان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ رپورٹس ملتے ہی میں آپ کے کلینک میں حاضر ہو جائوں گا۔ ڈاکٹر ایشان خوش ہوئے کہ اس کے دوست نے اس کو بات مان لی کیونکہ ان کے دل میں یہ بات کھٹکتی تھی کہ ان کے دوست غلام نبی کا وزن بڑھ رہا ہے اور وہ ورزش بھی نہیں کر رہا ہے۔
دیگر علاقہ جات کے لوگ دل کی بیماریوں کے متعلق کتابیں اخلاص ویلفیئر سوسائٹی ترال کشمیر سے حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ کتابیں ہیں (۱)ہائی بلڈ پریشر (۲)اینجینا پیکٹوورس اور ہارٹ اٹیک (۳)امراض قلب۔ یہ کتابچے اخلاص ویلفیئر سوسائٹی (سابقہ نام اخلاص بلڈ بنک ترال) نے شائع کئے ہیں۔