مضامین نقطہ نظر

کیا سرحدوں پر قیام امن کا خواب پھر ٹوٹنے لگا ہے ؟

تجمل احمد
25فروری کو بھا رت اور پا کستان کی حکو متوں کی جانب سے جاری کئے گئے الگ الگ بیانات میں پو ری دنیا کو بالعموم اور جنوب ایشیا ئی ممالک کے عوام کو با لخصوص اس وقت حیرت زدہ کر دیا جب انہوں نے اس با ت کا علان کیا کہ دونوں ممالک نے سال2003ء میں کئے گئے جنگ بندی معاہدے پر سختی اور سنجید گی کے ساتھ عمل پیرا ہو نے سے اتفاق کر لیا ہے ۔اس اچانک پیش رفت نے جہاں بھا رت اور پا کستان میں اکثر و بیشتر تجزیہ نگا روں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا وہیں دنیا بھر سے اس معاہدے کی تو سیع و تو ثیق پر مثبت ردِ عمل سامنے آیا اور کئی عالمی لیڈران نے بھا رت اور پا کستان کے درمیان امن اور خوشگوار تعلقات کو خطے کے استحکا م کے لئے ضروری قرار دینے کے روایتی بیا نا ت جاری کر دئے ۔اس دوران لا ئین آف کنٹرول اور بین الاقوامی سر حد کے دونوں اطراف آبا د لوگوں نے بھی اس اعلان کے بعد راحت کی سانس لی اور کا فی سال بعد انہیں ایسا لگا کہ ان کی زندگی میں امن و امان لو ٹ آئے گا اور انہیں روز روز کی شیلنگ اور گو لہ با ری سے نجا ت مل جا ئے گی جس کے بعد وہ بغیر کسی خلل کے اپنی معمول کی سرگر میاں شروع کر نے کے قابل ہو جا ئیں گے ۔جموں وکشمیر کے اندر بھی اس اعلان کے بعد ایک مثبت ردعمل سامنے آیا اور مختلف سیا سی جما عتوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تصفیہ معاملات کے لئے مذاکرات کی راہ اپنانے کی پُر زور وکا لت کی ۔
جنگ بندی معاہدے پر سرِ نو عمل پیرا ہو نے کے اس اعلان کے بعد دونوں ممالک کے سیاسی لیڈران نےحسب ِ روایت بیانا ت جاری کر نا شروع کر دیا تاہم ہر با ر کی طرح اس با ر بھی زیا دہ بیا نا ت پاکستان کی جا نب سے ہی آئے اورپاکستان کی ملٹری لیڈرشپ کے ساتھ ساتھ وہاں کی سیا سی قیا دت نے بھی بھا رت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لا نے کے حوالے سے بیا نا ت جا ری کر نا شروع کر دیا۔پاکستا ن کے فو جی سر براہ جنرل قمر جا وید با جوہ نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ ’’ دونوں ملکوں کے لئے تاریخ کو بُھلا کر اب آگے چلنے کا وقت آگیا ہے ‘‘حالانکہ اس بیا ن پر پا کستان کی کچھ با ئیں با زو کی جما عتوں نے سخت ردعمل ظاہر کر تے ہو ئے اسے ’’کشمیر مسئلہ کے سودا‘‘ قرار دیا ۔چند مبصرین کا خیال تھا کہ پا کستان نے جموں وکشمیر میں بھا رت کی مر کزی حکو مت کی جانب سے دفعہ370اور35Aکی منسوخی کے حوالے سے کئے گئے فیصلوں کو دل سے قبول کر نے کا من بنا لیا ہے اور وہ اپنے زیر قبضہ کشمیر ی علا قوں میں بھی اسی طرح کی تبدیلیاں کر نے کا منصوبہ رکھتا ہے۔پا کستان کی حکو مت کو اس اعتبار سے گھریلو طور پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا تھا ۔
دونوں ملکوں کے درمیان طے پا نے والے اس معاہدے کے حوالے سے طرح طرح کی قیا س آرائیاں کی جا رہی تھیں اور کچھ تجز یہ کا ر اسے بیک ڈور ڈپلو میسی کا کر شمہ قرار دے رہے تھے جبکہ کئی تجزیہ نگا ر وں کا ماننا تھا کہ اس اچانک اور غیر متو قع پیش رفت کے پیچھے امریکہ کی با ئیڈن انتظامیہ اور سعودی فرما ں روائوں کی کو ششیں ہیں ۔اس دوران اگر دونوں ممالک کی میڈیا کا تجزیہ کیا جا ئے تو دونوں ممالک کا میڈیا اسے اپنے بر سر اقتدار لوگوں کی جیت کے نظر یے سے دیکھ رہا تھا ۔ ان ساری سفارتی پیش رفتوں کے درمیان دونوں ممالک کے درمیان تجا رت کی بحالی اور کر کٹ کے تعلقات بحال ہو نے کے امکانا ت کا فی حد تک روشن دکھا ئی دے ر ہے تھے اور بھا رت میں پا کستان کے اعلیٰ سفارتکار آفتا ب حسن خان نے بھی حال ہی میں نئی دہلی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کہا تھا کہ دونوں پڑ وسی ممالک تجا رت اور کرکٹ تعلقات بحال کر نے کے حوالے سے مختلف معاہدوں اور طور طریقوں پر غور و خوض اور مشاورت کر رہے ہیں ۔اس دوران اگر چہ بھارت نے محتا ط انداز میں بیا نا ت جا ری کئے تاہم یہ با ت بھی روز روشن کی طرح عیا ں ہے کہ کئی بھا رتی سیا ستدانوں نے جن میں بھا رتیہ جنتا پا رٹی کے کچھ لیڈران بھی شامل ہیں نے بھی اس سلسلے میں کئی بیا نات دئے اور مجمو عی طو ر پر ایسا تصور کیا جا رہا تھا کہ دونوں ملکو ں کے درمیان سرد مہری اور مخاصمت کم ہو رہی۔بھا رتی وزیر اعظم نر یندر مو دی کی جانب سے یو م پا کستان کے موقعہ پر اپنے پا کستانی ہم منصب عمران خان کے نا م ارسال کئے گئے اُس خیر سگا لی خط نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں استحکا م پیدا ہو نے کی امید جتا ئی تھی جس میں انہوں نے پا کستان کے عوام کو ’یو م پا کستان ‘ کی مبا رکبا د پیش کر تے ہو ئے کو رونا وائرس کی وبا ء کے خلا ف جنگ میں اُس ملک کو فتح کی دعائیں دی تھیں ۔اس کے بعد ایک اور امید افزاء با ت یہ ہو ئی کہ پا کستان کے وزیر خزانہ حما د اظہر کی سر براہی میں ہو نے والی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلا س میں اس با ت پر اتفاق پیدا ہو گیا تھا کہ پاکستان بھا رت سے 5لا کھ ٹن چینی اور کپا س کے علا وہ داغا بھی در آمد کر لے گا جبکہ پا کستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھی نر یندر مو دی کے خط کے جواب میں ایک خط انہیں ارسال کر کے ان کا شکر یہ ادا کیا تھا اور اس با ت کی یقین دہا نی کرا ئی تھی کہ پا کستان اور وہاں کے عوام بھا رت کے ساتھ خوشگوار تعلقات کے حق میں ہیں اور اس حوالے سے آگے چلنے کے متمنی بھی ہیں ۔ان سبھی اعلانات ،خطوط اور جوابی خطوط کے نتیجہ میں پو رے جنو بی ایشیا ء میں ایک امید پیدا ہو گئی تھی کہ پچھلے ستر سال سے بھی زیا دہ عرصے کے دوران کشمیر کے مسئلہ پر کم و بیش تین جنگیں لڑنے والے یہ دونوں پڑ وسی ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو خو شگوار بنا کر قیا م امن کے حوالے سے کئے گئے اعلا نا ت کو عملی جا مہ بھی پہنا ئیں گے ۔
امید اور مثبت سوچ و اپروچ کے اسی فضا میں کل اچانک ایک منفی پیش رفت ہوئی اور پا کستان کی وفاقی کا بینہ نے اپنے ایک اجلاس میں جس کی صدارت وہاں کے وزیر اعظم عمران خان نے کی بھا رت سے کپا س اور چینی در آمد کر نے کے فیصلے کو مو خر کر دیا۔پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمو د قریشی نے اس حوالے سے ایک ویڈیو پیغام میں تفصیلا ت دیتے ہو ئے کہا کہ وفاقی کا بینہ نے بھا رت کے ساتھ تجارتی تعلقات کو لیتہ پورہ پلوامہ حملے سے قبل کی سطح پر لا نے کے فیصلہ کو فی الحال مو خر کر دیا ہے ۔انہوں نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ بھا رت اور پا کستان کے اندر ایک تا ثر ابھر نے لگا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آگئے ہیں اور تجارت بھی بحال ہو گئی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس تا ثر پر پاکستان کے وزیر اعظم اور ان کی کا بینہ کے ساتھیو ں کی یہ متفقہ رائے تھی کہ جب تک بھا رت کشمیر کے اندر 5اگست کو کی گئی آئینی تبدیلیوں پر نظر ثانی نہیں کر تا ہے تب تک بھا رت کے ساتھ تعلقات اور تجا رت کو معمول پر لانا ممکن نہیں ہے ۔پا کستان کی جانب سے کئے جا نے والے اس یکطرفہ اعلان کے نتیجہ میں جہاں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی کے امکانات کو ایک با ر پھر ٹھیس پہنچی ہے وہیں سرحدی علا قوں میں رہنے والے عوام پر بھی یہ پیش رفت ایک بجلی بن کر گری ہے کیونکہ یہ لو گ پچھلے کئی سال کے نا مساعد حالات کے بعد پہلی با ر یہ آس لاگ ئے بیٹھے تھے کہ شائد ان کے مسئلہ کا کوئی مستقل حل نکل آئے ۔