نقطہ نظر

کیا مودی کو چین کا دورہ کرنا چاہیے؟

کیا مودی کو چین کا دورہ کرنا چاہیے؟

کلدیپ نائر
چین کی نخوت کے لیے پورے کے پورے نمبر! اس نے بیجنگ میں بھارتی سفیر کو طلب کر کے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ ارونچل پردیش پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔ یہ علاقہ بھارت کا حصہ ہے اور اس پر چند سال پہلے تک چین نے کبھی اپنی ملکیت کا کوئی دعویٰ نہیں کیا تاآنکہ بھارت نے یہاں اپنی فوج تعینات کردی۔ بیجنگ نے ہمارے سفیر اشوک کنتھا سے کہا کہ مودی کے دورے سے چین کی علاقائی خود مختاری کے حق اور اس کے مفادات کو زک پہنچی ہے۔
زیادہ عرصہ نہیں ہوا کہ چین نے ارونچل سے چین جانے والے لوگوں کے لیے ویزے جاری کرنا شروع کر دیے جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ ارناچل پردیش ایک مختلف علاقہ ہے، گویا یہ بھارت کا علاقہ نہیں ہے۔ نئی دہلی نے یہ تضحیک خاموشی سے برداشت کر لی تھی اور اب بھی اس نے ایسا ہی کیا جب کہ اس کے وزیراعظم نے اپنے ہی ملک کے ایک علاقے کا دورہ کیا البتہ یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ چین نے اس معاملے پر برسرعام اپنی ناخوشی ظاہر کی ہے۔ ماضی میں اس نے کسی پس و پیش کے بغیر ان نقشوں کو قبول کر لیا تھا جن میں ارونچل پردیش کو بھارت کا علاقہ ظاہر کیا گیا تھا۔
اس وقت تک تنازعہ صرف ایک چھوٹے سے علاقے کے بارے میں تھا جو ارناچل پردیش اور چین کی سرحد کے درمیان واقع ہے۔ ارناچل پردیش کی حیثیت پر شاذ و نادر ہی سوال اٹھایا گیا ہے مزید برآں یہ بھی چین کی نخوت کا حصہ ہے جب ایک اہم پیغام چین کے نائب وزیر خارجہ لیو زہان من کے ذریعے بھیجا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’مودی کے دورے سے چین کی علاقائی خود مختاری اور اس کے مفادات متاثر ہوئے ہیں۔ بھارت کی طرف سے اس قسم کے اقدام نے سرحدی تنازعے پر دونوں ملکوں کے اختلافات کو بڑھا دیا ہے لہٰذا یہ اس افہام و تفہیم کے اصولوں کے منافی ہے جن کے تحت اس مسئلے کو مناسب طریقے سے حل کرنے پر فریقین کا اتفاق ہوا تھا۔
لیکن بھارتی حکومت نے اپنے موقف پر مضبوطی سے قائم رہ کر قوم کو ایک مثبت پیغام دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ وزیراعظم دوبارہ ارنانچل پردیش کا دورہ کریں گے۔ اگر نئی دہلی حکومت دورے کی تاریخ کا بھی اعلان کر دیتی تو یہ پیغام بہت واضح ہو جاتا۔ یہ درست ہے کہ وزیراعظم کی مصروفیات پہلے سے ہی طے کر دی جاتی ہیں لیکن چونکہ یہ مسئلہ بہت اہم ہے اس لیے روایت سے انحراف بھی کیا جاسکتا ہے۔ یہ پیغام بہت بلند آہنگ اور صاف طور پر جانا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر حکومت نہیں تو بی جے پی کو ضرور اس معاملے پر قومی بحث کروانی چاہیے کہ آیا وزیراعظم مئی کے مہینے میں طے کیا جانے والا چین کا دورہ کریں یا نہ کریں تا کہ قوم کی خفگی اور تشویش کا اظہار ہوسکے۔ اور چین کو یہ باور کروا دینا چاہیے کہ بھارت خواہ مخواہ کا دباؤ قبول نہیں کر سکتا۔ اگر وزیراعظم کا دورہ ارونچل منسوخ کرنے کے بجائے صرف موخر ہی کر دیا جائے تو شاید دہلی حکومت اس کے بارے میں ہونے والی تنقید برداشت نہ کر پائے۔ لیکن چین نے بھارت کو خاصا بھڑکا دیا ہے جس پر وہ اس دورے پر نظرثانی کرنے کے  لیے تیار ہو گئے۔
لیکن چین کی نخوت و تکبر کا مناسب جواب لازماً دیا جانا چاہیے۔ ملک کے کسی علاقے سے متعلقہ معاملات بھارت کی خود مختاری سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا اس معاملے کو سرسری انداز میں نہیں لینا چاہیے۔ وزیراعظم مودی کو جلد چین کو بتا دینا چاہیے کہ ہماری علاقائی یکجہتی کا بھارت چین تعلقات سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ بھارت چین تعلقات اسی صورت میں بہتر ہوسکتے ہیں جب علاقائی خود مختاری کے حساس معاملے پر ایک دوسرے کا مکمل اتفاق ہو۔ چین پہلے ہی شمال مشرق میں بھارت کے بہت بڑے علاقے پر قابض ہے۔ بھارت کو چین کی توسیع پسندی کا بہت زیادہ شبہ ہے کیونکہ چین کی طرف سے بھارت کے اعتماد کو پہلے ہی دھچکا لگ چکا ہے۔
بھارت کے اولین وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے تمام ریاستی وزرائے اعلیٰ کے نام ایک خط میں کہا تھا ’’اگر ہم اقوام عالم میں حقیقی امن اور تعاون کو فروغ نہ بھی دے سکیں تب بھی ہمیں بڑے پیمانے پر جنگ کرنے سے بچنا ہو گا۔ تا کہ دنیا کو بعد میں پرامن تصفیوں تک پہنچنے میں دشواری نہ ہو۔ اس کے باوجود بھی اگر جنگ پھوٹ پڑے تو ہمیں ہر صورت میں جنگ سے الگ ہی رہنا چاہیے۔ اگر دنیا کا کچھ حصہ بڑی طاقتوں کی جنگ سے باہر رہے تو یہ ایک مفید بات ہو گی۔
یہی وجہ ہے کہ ہم نے دو بڑی طاقتوں میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی شامل ہونے سے انکار کر دیا اور نہ ہی ہم مشرق وسطیٰ کی دفاعی تنظیم یا جنوبی ایشیا کی تنظیم کے ساتھ شمولیت پر رضامند ہیں… ہم اب جنگ زدہ ماحول میں رہ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ زیادہ اقوام کی توانائیاں جنگ کے  بجائے مصنوعات کی پیداوار پر صرف ہوں‘‘۔
گویا اس وقت نہرو وہ واحد شخصیت تھے جو کسی عالمی تنازعے کو روک سکتے تھے اور انھوں نے ایسا کر کے دکھایا۔ مودی کی دنیا میں وہ حیثیت نہیں جو نہرو کی تھی اور نہ ہی ان میں ویسی ہی بصیرت ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنے نئے دوست صدر بارک اوباما کے ساتھ مل کر کسی تنازعے کو روک سکتے ہیں۔ چین عالمی معاملات پر بالادستی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ وہ ہمیشہ سے دنیا کا سلطان بننا چاہتا ہے اور دنیا سے اپنے دربار کی طرح سلوک کرنا چاہتا ہے۔
مجھے یاد ہے کہ ہمارے آرمی کے جرنیل کس قدر سیخ پا ہوئے تھے جب ایک تقریب میں میں نے کہا تھا کہ چین کا اب بھی بھارت کے بہت سے علاقے پر قبضہ ہے۔ نہرو نے تبت کو چین کا علاقہ تسلیم کر کے غلطی کی۔ درحقیقت نہرو یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ تبت کو چین کا علاقہ تسلیم کر کے بیجنگ کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کر سکیں گے لیکن چین کے اس وقت کے وزیراعظم چو این لائی نہرو کے دنیا میں وسیع تر تعلقات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے جب ان کا مقصد پورا ہو گیا تو چو این لائی نے 1962 میں بھارت پر حملہ کر کے اپنا اصل چہرہ دکھا دیا۔
ہم ہر لحاظ سے چین کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنا علاقہ دینے کی قیمت پر نہیں۔ آخر مودی کے مجوزہ دورہ چین سے کیا مقصد حاصل ہو گا جب کہ چین ارونچل پردیش کو  ہمارا علاقہ ماننے کو تیار ہی نہیں۔ ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی کہ چین کو باور کرا دیا جائے کہ چین بھارت کی توہین کر کے آسانی کے ساتھ بچ نہیں سکتا اور یہ توہین اس نے ارونچل پردیش کو ہمارا علاقہ تسلیم نہ کر کے کی ہے جو کہ ہمارے ملک کا اٹوٹ انگ ہے۔
خطے میں امن کے لیے بھارت اور چین کے تعلقات بہت اہم ہیں لیکن اس کیلئے چین کو اتنا ہی مخلص ہونا پڑے گا جتنا کہ بھارت ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چین بھارت کے ساتھ طاقتور کے طور پر بات کرنا چاہتا ہے اور وہ بھارت کو گھیرے میں لینے کی کوشش کر رہا ہے اس نے نیپال کو بہت فراخدلی سے امداد دی ہے اور اب سری لنکا میں ایک بندر گاہ قائم کرنے کے عمل میں ہے۔
علاوہ ازیں میانمار کو بھی رام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت اپنے پڑوسیوں سے اچھے تعلقات پر اعتراض کرنے والا آخری ملک ہو گا لیکن اگر ان پڑوسیوں کو بھارت کے خلاف استعمال کرنے کی کسی کی نیت ہے تو نئی دہلی حکومت اسے قبول نہیں کر سکتی۔ اس سے دوستی کا اظہار نہیں ہوتا جو بھارت کا مطمع نظر ہے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)