سرورق مضمون

کیا یہی عید ہے؟

کیا یہی عید ہے؟

ڈیسک رپورٹ
مسلمانوں کیلئے سال میں دو دن خوشی اور مسرت کے لئے مخصوص رکھے گئے ہیں۔ ایک عید الفطر اور دوسرا عید الاضحی کا دن۔ دونوں دن بڑے ہی جوش و خروش کے ساتھ منائے جاتے ہیں۔ عید الاضحی کی مناسبت حج اور مناسک حج کے ساتھ ہے۔ ساتھ ہی پورے عالم اسلام میں اس روز قربانی کی جاتی ہے۔ اس وجہ سے اس کو بڑی عید یا عید قربان بھی کہا جاتا ہے۔ عید کے موقعے پر تکبیرات ، عید نماز اور قربانی کا اہتمام ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر عید خریداری کی جاتی ہے ۔ نئے کپڑے زیب تن کئے جاتے ہیں اور میٹھے غذا کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ قربانی کا گوشت ہمسایوں اور رشتہ داروں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ اس وجہ سے اس موقعے پر کافی گہما گہمی نظر آتی ہے۔ بازاروں میں چہل پہل دیکھی جاتی ہے اور ہر جگہ لوگوں کا رش دیکھنے کو ملتا ہے ۔
عید منانے کے لئے لوگ کافی اہتمام کرتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسولؐنے عید کا اہتمام کرنے کے لئے کہا ہے۔ یہ سن کچھ اسی فرمان کے مطابق ہوتا ہے ۔ اس لئے مسلمانوں کا حق بنتا ہے کہ وہ اس موقعے پر خوشی منائیں ۔ اگرچہ مسلمان کہتے ہیں کہ ہماری عید دوسری قوموں سے مختلف ہے۔ یہ بات زور دے کر کہی جاتی ہے کہ اس موقعے پر فضول خرچی اور بے جا اخراجات کی اجازت نہیں ہے۔ رنگ رلیاں منانے کی اجازت نہیں ہے ۔ بلکہ نماز ادا کرکے سادگی اختیار کرنے کا حکم ہے۔ یہاں تک کہ مسلمان عید کو کوئی تہوار یا میلے ٹھیلے کی طرح منانے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی عید بھی مذہبی اور اسلامی شان سے منانی ضروری ہے۔ لیکن جب سے مغربی تہذیب کا رنگ دنیا پر غالب ہوگیا عید کا رنگ ڈھنگ بھی بدل گیا۔ اب عید کے موقعے پر بھی زرق برق لباس پہنے جاتے ہیں۔ فضول خرچی ہوتی ہے اورمیلے کی طرح تمام قسم کی خرافات نظر آتی ہیں ۔ خاص کر عورتیں جم کر شاپنگ کرتی ہیں ۔آرائشی سامان ، چوڑیاں ، ملبوسات وغیرہ اپنی طاقت سے بڑھ کر ادھار میں خریدے جاتے ہیں۔غریب طبقوں کے لئے عید منانا اب سخت مشکل ہوگیا ہے ۔ ادھر مہنگائی نے جو روپ اختیار کیا ہے اس نے لوگوں کے لئے عیدکی خوشیوں کی ساری اہمیت ختم کرکے رکھ دی ہے ۔ لوگوں کے لئے پیٹ بھرنا اور اپنے عیال کو پالنا ناممکن بن گیا ہے ۔ ایک طرف امیر لوگوں کی خریداری اور دوسری طرف غریب طبقوں کی مجبوریاں۔ اس نے عید کو غم کا میدان بنادیا ہے ۔کشمیر میں جو حالات پائے جاتے ہیں اس وجہ سے یہاں عید منانا عبث ہے۔ ایک طرف اکثر گھروں میں ماتم کا ماحول ہے ۔ جن لوگوں کے عزیز و اقارب جیل میں بند پڑے ہیں یا جن کی اولادیں غائب کردی گئی ہیں ان کے لواحقین کے لئے ایک ہی بات ہے عید آئے کہ نہ آئے۔بیواوں اور یتیموں سے پورا معاشرہ بھرا پڑا ہے ۔ ان کے نام پر بہت سے ادارے کام کررہے ہیں ۔ لیکن ان کی مشکلات کسی طور کم نہیں ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے کشمیر میں عید بڑی سادگی سے منانا ضروری تھا ۔ ان لوگوں کے معصوم نوجوان کسی ذاتی مقصد سے مارے یا گائب نہیں کئے گئے ہیں ۔ وہ تو اسلام کے نام پر اور آزادی کا نعرہ دے کر میدان میں آئے۔ اس لئے ان پر صرف ان کے رشتہ داروں کو ماتم نہیں کرنا تھا ۔ بلکہ ساری قوم کو ان کی یاد میں غم میں ڈوبا ہونا تھا ۔ لیکن ایسا نہیں ہورہاہے ۔اسی طرح 2008اور2010میں جو نوجوان مارے گئے۔ ان کے ہاتھوں میں بندوق نہیں تھے ۔ وہ کوئی جنگجو نہیں تھے اور نہ دہشت گرد قرار دئے جاسکتے ہیں ۔ لوگوں نے ان کو بھی بھلادیا ۔ ایک لاکھ لوگوں کی قربانیوں کو پس پشت ڈالا گیا ۔ اس وجہ سے یہاں عید کی خوشیاں ماتم کے برابر ہیں ۔ اسی طرح غربت اور مفلسی نے لوگوں کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے ۔ حکومتی سطح پر لوگوں کا کوئی پرسان نہیں ہے ۔ بے روزگاروں کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ گئی ہے ۔ نوجوان اس وجہ سے خود کشی کرنے لگے ہیں۔لوٹ کھسوٹ رشوت اور اقربا نوازی کا بازار گرم ہے ۔ ہر روز کسی نہ کسی منسٹر یا آفیسر کے سیاہ کارناموں کی خبر اخبارات کی زینت بنتی ہے ۔مسلکی منافرت عروج کو پہنچ گئی ہے ۔ اب مسلک کو لے کر لوگ جنگ و جدل کرتے ہیں ۔ اسی طرح پراپرٹی ہڑپ کرنے کے لئے لوگ ایک دوسرے کو قتل کررہے ہیں ۔ پچھلے کئی سالوں کے دوران یہاں اس طرح کے درجنوں واقعات پیش آئے۔ ان کی تفصیل سن کر آدمی کا سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔ عیدخاص کر بڑی عید سنت ابراہیمی ہے جس کو رسول ﷺ نے قیامت تک جاری کیا ہے ۔ ہم کو اس موقعہ پر ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ کی زندگی کا جائزہ لے کر اپنا احتساب کرنا چاہئے تھا ۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا ہے ۔ یہاں قربانی تو کی جاتی ہے لیکن کردار کو بدلنے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی ہے ۔ کیا یہی عید ہے ۔ یہ کوئی عید نہیں بلکہ ماتم کا سماں ہے ۔ جب لوگ ایک دوسرے کو لوٹنے یہاں تک کہ قتل کرنے سے نہیں ڈرتے ہیں تو ایسی عید منانے کا کیا فائدہ ؟ عید کے موقعے پر یہاں کے عوام کو راشن برابر ملتا ہے اور نہ کھانڈ ۔ لوڈ شیڈنگ بھی برابر جاری ہے۔ گوشت اور مرغوں کے کوئی ریٹ ہی نہیں ہیں ۔ جس کو جو من میں آتا ہے ریٹ لگاتا ہے ۔ حکومت کا کوئی نام و نشان نہیں ہے ۔ اس وجہ سے بھی ہمیں عید منانے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ ہمارے غم اور پریشانیاں کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی ہیں۔ اس ماحول میں عید منانا بے جا ہے۔ عیدکے موقعے پر اور عید مبارک کہہ کر ایک دوسرے کے لئے خوشی اور نیکی کا پیغام ہونا چاہئے تھا ۔ لیکن یہاں تو منہ میں رام رام کے ساتھ بغل میں چھری ہے ۔
ان سب باتوں کو دیکھ کر لگتا ہے یہاں کوئی عید نہیں بلکہ سوگ کا سماں ہے ۔