نقطہ نظر

گاہے گاہے باز خواں…

گاہے گاہے باز خواں…

کلدیپ نائر

دی انڈین نیشنل آرمی (بھارت کی قومی فوج جسے آزاد ہند فوج کا نام بھی دیا جاتا تھا) وہ فورس تھی جسے نیتا جی کہلوانے والے سبھاس چندر بوس نے بھارت کی انگریز حکومت کے چْنگل سے فرار ہو کر سنگاپور میں اپنے قیام کے دوران قائم کیا تھا۔ اس کا مقصد ایک مسلح فوج تیار کرنا تھا جو قومی جدوجہد کا تحفظ کرے جس میں تمام طبقات کے لوگ جوق در جوق شامل ہو رہے تھے۔ نیتا جی کو مہاتما گاندھی کی عدم تشدد کی تحریک سے اتفاق نہیں تھا ان کو یقین تھا کہ عدم تشدد ایک نظریاتی تصور تو ہو سکتا ہے مگر زمینی حقائق کے تناظر میں قابل عمل نہیں۔
سبھاش چندر بوس کا بیرون ملک پراسرار حالات میں انتقال ہو گیا اور وہ اپنی زندگی میں غلام ملک میں واپس نہیں آئے۔ ان کے کاغذات سے نہ صرف یہ کہ مہاتما گاندھی کے ساتھ ان کے اختلافات کا پتہ چلا بلکہ اس پر تشدد گروہ کا بھی علم ہوا جو انھوں نے عدم تشدد کے فلسفے کے خلاف قائم کیا تھا۔ حکومت کو سبھاس چندر بوس کے بارے میں خفیہ دستاویزات جاری کرنے کا ایک مثالی موقع مل گیا جب ایک شہری نے چند روز قبل رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ (آر ٹی آئی) کے تحت اس کا مطالبہ کیا۔ بھارت کے عوام اس بات پر خاصے مایوس تھے کہ بی جے پی نے اپنی انتخابی مہم میں ان دستاویزات کو شایع کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر وہ اپنے وعدے سے مْکر گئی۔
وزیر داخلہ رجنیش سنگھ جنہوں نے کہ مذکورہ دستاویز کی اشاعت کا وعدہ کیا تھا انھوں نے اس ایشو پر یوٹرن لے لیا اور پارلیمنٹ کو اس بارے میں مطلع کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ وزیر داخلہ اپنا وعدہ نہ نبھائیں لیکن اس سے بھی زیادہ قابل افسوس بات نیتا جی اور مہاتما گاندھی کے اختلافات کے بارے میں مصدقہ اطلاعات دینے سے انکار ہے۔ بظاہر تو ایسے لگتا ہے جیسے ان دونوں کے نکتہ نظر میں اختلاف سے بڑھ کر کوئی اور چیز بھی تھی۔یہ بات ساری دنیا جانتی ہے کہ مہاتما جی نے کانگریس کے پارٹی انتخاب میں صدارت کے لیے نیتا جی کے خلاف جے بی کرپلانی کی حمایت کی تھی۔
درحقیقت یہ دو نظریات کے درمیان آویزش تھی جن میں سے ایک عدم تشدد کا نظریہ تھا جب کہ دوسرا نظریہ بوقت ضرورت ہتھیار استعمال کرنے کا عندیہ دیتا تھا۔ لیکن جب مہاتما گاندھی بذات خود اس میدان میں اتر آ ئے تو اختلاف عدم تشدد اور تشدد کے مابین نہیں رہا بلکہ یہ مہاتما کی اتھارٹی کے لیے ایک چیلنج بن گیا۔ نیتا جی قومی تحریک کو تقسیم نہیں کرنا چاہتے تھے لہٰذا انھوں نے پیچھے ہٹنے کو ترجیح دی۔ لیکن ان کے پیروکار پیچھے نہ ہٹے بلکہ انھوں نے نیتا جی کی پہلے سے بھی زیادہ تکریم شروع کر دی۔حقیقت یہ ہے کہ مہاتما کے نظریے کا ایک اخلاقی پہلو تھا جس پر تنقید بھی ہوتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ محبت کے ذریعے آپ سنگ دلی کو موم کر سکتے ہیں جو کہ بندوق سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے ذریعے آپ بہت زیادہ تعداد میں لوگوں کو قائل کر سکتے ہیں جس کے لیے آپ کو اپنے کردار کی مثال پیش کرنی ہو گی یعنی ٹھوکر کھا کر بھی جوابی ٹھوکر نہ ماری جائے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فلسفہ تھا کہ اگر کوئی آپ کے ایک گال پر تھپڑ مارے تو آپ اپنا دوسرا گال بھی پیش کر دیں۔ اس کی تلقین مہاتما گاندھی بھی شام کی عبادت کے موقع پر تقریباً روزانہ کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ عبادت کی ان تقریبات میں تینوں مقدس کتابوں گیتا‘ بائبل اور قرآن پاک کی تلاوت کی جاتی تھی۔ ایک دفعہ ایک غیر مسلم پنجابی ریفیوجی نے جو پاکستانی سے آیا تھا کہا کہ وہ قرآن سننا پسند نہیں کرتا کیونکہ یہ مسلمانوں کی کتاب ہے جنہوں نے اسے اور ہزاروں دوسروں کو پاکستان سے نکال دیا ہے۔ مہاتما گاندھی نے عبادت کی تقریب معطل کر دی اور یہ بیان دیا کہ اعتراض کرنے والا کوئی ایک شخص ایسے اجتماع کو ویٹو نہیں کر سکتا جس کا مقصد تمام لوگوں میں افہام و تفہیم پیدا کرنا ہے۔
اجتماع میں شامل بہت سے لوگوں نے اعتراض کرنیوالے سے اپنا اعتراض واپس لینے کا مطالبہ کیا لیکن اس نے انکار کر دیا چنانچہ تقریب جاری نہ رکھی گئی۔ چند دن کے بعد وہی آدمی مہاتما گاندھی کے پاس حاضر ہوا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس نے پورے اجتماع پر اپنی سوچ مسلط کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس تقریب کو دوبارہ بحال کیا گیا اور اس شخص نے جمع ہونے والے دیگر لوگوں کو بتایا کہ اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے کہ اس نے سب پر اپنا نقطہ نظر ٹھوسنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے بعد عبادت کے اجتماعات میں کبھی کوئی مداخلت نہیں ہوئی۔ اس میں شک نہیں کہ نیتا جی بہت مقبول لیڈر تھے اور ان کے پیروکاروں کی تعداد بھی بڑی تھی جس کو فارورڈ بلاک کا نام دیا جاتا تھا جو کہ ہر مشکل وقت میں اور کٹھن حالات ان کی پیروی کرتے تھے لیکن مہاتما کی وسیع تر عوامی اپیل کے سامنے نیتا جی کے مقبولیت دب گئی تھی۔
لیکن آج کے بھارت کو آئی این اے جیسی ایک فورس کی ضرورت ہے کیونکہ بی جے پی کی متبادل جماعت کانگریس رو بہ انحطاط ہے۔ آئی این اے کا پیغام تھا کہ ہندو‘ مسلم‘ سکھ‘ عیسائی سب ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جائیں۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ملک کی تمام تر توجہ تعمیر و ترقی پر ہونی چاہیے جس کی کہ سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یہ درست ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی تعمیر و ترقی کی بات کرتے ہیں لیکن جب آنکھیں کھول کر جائزہ لیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ صرف اوپر والے آدھے لوگوں کی تعمیر و ترقی کی بات ہے نیچے والے آدھے لوگوں کی تعمیر و ترقی کی بات نہیں۔ نریندر مودی کی چھ ماہ کی حکومت میں نہ تو غریبوں کی تعداد میں کوئی کمی آئی ہے اور نہ ہی ان کی کوئی بہتری ہوئی ہے۔ اس کی وجہ بنیادی طور پر یہ ہے کہ بی جے پی نے مودی کو وزیر اعظم تو بنوا دیا ہے لیکن نہ اس پارٹی کے پاس کوئی اقتصادی پروگرام ہے اور نہ ہی وہ غریبوں کو خط غربت سے باہر نکالنا چاہتی ہے۔
ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں تقابلی جائزے بھی لیے جاتے ہیں مثلاً چین اپنے انقلاب کے بعد دو کروڑ لوگوں کو غربت کے گڑھے سے نکالنے کے قابل ہو گیا جہاں وہ صدیوں سے پھنسے ہوئے تھے۔ یہ بھی درست ہے کہ چین کا نظام بھارت کے جمہوری نظام سے مختلف ہے لیکن بھارت کو اس جمہوری نظام کی نمایاں کامیابی تو دکھانی چاہیے۔ سیاسی لیڈروں کی تقاریر میں غریبوں کی حالت بہتر بنانے کے جو دعوے کیے جاتے ہیں وہ حقیقت میں نظر نہیں آتے۔ الیکشن پر الیکشن ہوتے ہیں جن میں قوم کو تعمیر و ترقی کے خواب دکھا کر خرید لیا جاتا ہے لیکن ان خوابوں کی تعبیر کبھی نہیں ملتی کیونکہ بڑی سیاسی پارٹیاں اپنی تمام طاقت دولت اکٹھی کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں اور عوام کی بہتری کے لیے ان کا کوئی منصوبہ نہیں ہوتا۔
یہ اچھی بات ہے کہ ہم پیچھے مْڑ کر قومی تحریک کے دنوں پر نظر ڈالیں جب روٹی‘ کپڑا اور مکان کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن ہمیں آج اور آنے والے کل کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔ لوگوں کو سیاسی پارٹیوں پر کوئی اعتماد نہیں رہا لیکن ان بے چاروں کے پاس آخر اور متبادل کیا ہے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)