اداریہ

گورنر انتظامیہ کی عوام میں پذیرائی

ستمبر 2014ء میں وادی میں طوفانی سیلاب کیا آیا کہ آنا فاناً چاروں طرف تباہی ہی تباہی دیکھنے کو ملی۔ہر طرف طوفانی مناظر دیکھنے سے انسانی جانیں کانپ اٹھی تھی۔ نہ صرف مال و جائیداد کا اتلاف ہوا بلکہ بہت ساری انسانی جانیں بھی تلف ہوئیں۔2014 میں برسراقتدار حکمران جماعتیں نہ صرف اس سیلاب کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوئی بلکہ پھر سیلاب متاثرین کے لئے راحت رسانی کے اقدامات کرنے میں بھی مفلوج نظر آئی۔ پھر جبکہ 2014 کے آخر پر اسمبلی چنائو منعقد کرائے گئے اور پرانی سرکار کو سیلاب متاثرین کی بد دُعا لگ گئی جس سے این سی کانگریس سرکار اپنی انجام کو پہنچ گئی اور اس طرح سے نئی سرکار معرزوجود میں لائی گئی۔ 2014ء کے اسمبلی انتخابات میں اگر چہ پی ڈی پی ریاست میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر اُبھر آئی تاہم پی ڈی پی کو بی جے پی کے ساتھ ایکارڈکرنا پڑا جس سے ایک طرف عوام میں بی جے پی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے پر پی ڈی پی کے تئیں بھی ناراضگی دیکھنی کوملی ۔ تاہم پی ڈی پی نے ریاست میں تقریباً دس مہینے حکومت کی سربراہی کی اور ان دس مہینوں میں بھی سیلاب متاثرین کو خالی امداد دینے اور راحت رسانی کی باتیں کی گئی۔ دس مہینے کے بعد اگر چہ پی ڈی پی سرپرست اور وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کی رحلت بھی ہوئی اور ان کے دور اقتدار میں بھی سیلاب متاثرین کے لئے کوئی ایسے اقدام نہیں کئے گئے جن سے ان کی بازآبادکاری یقینی بن گئی، حالانکہ اگر چہ اس دوران سرکاری سطح پر بڑے بڑے دعوے کئے گئے تاہم پی ڈی پی بی جے پی حکومت کے دس مہینے گذرجانے کے بعد بھی یہ دعوے سراب ہی ثابت ہوئے۔ اب جبکہ مفتی محمدسعید کو رحلت کئے ہوئے دو مہینے گذر گئے اور ریاست میں فی الوقت گورنر راج نافذ ہے تاہم اس دوران سیلاب متاثرین کو اگر چہ مکمل طور پر بازآبادکاری یا معاوضہ نہیں دیا گیا مگر کچھ حد تک مداوا کرنے کی کوشش ضرور کی گئی ۔ اب جبکہ پی ڈی پی بی جے پی سرکار پھر سے بننے والی ہے اور عوام خاص طور پر سیلاب متاثرین میں اس حکومت سے کافی ناراضگی دکھ رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آئے روز عوامی حلقوں میں اس بات کا بحث ہو رہا ہے کہ ریاست میں گورنر انتظامیہ عوامی حکومت سے بہتر ہے اور ریاست میں مسلسل گورنر راج رہنا چاہیے ۔ غرض گورنر راج کی ہر طرح سے عوام میں پذیرائی ہو رہی ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ باتیں بھی گشت کر رہی ہیں کہ جو کام عوامی حکومت یقینی مفتی بھاجپا حکومت نے دس مہینوں میں انجام نہیں دیا وہ گورنر انتظامیہ نے مختصر مدت میں انجام دی،جس سے گورنر انتظامیہ کی عوام میں کافی پذیرائی دیکھنے کو ملتی ہے۔ عوامی حلقوںمیں ریاست میں مستقل طور پر گورنر راج کے نفاذ میں بہتری نظر آرہی ہے۔