مضامین

گورو کو پھانسی دینے کا فیصلہ درست نہیں تھا

گورو کو پھانسی دینے کا فیصلہ درست نہیں تھا

محمد افضل گورو کی پھانسی کے تین سال بعد اس عدالتی فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے خزانہ اور امور داخلہ کے سابق مرکزی وزیرپی چدمبرم نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پارلیمنٹ حملے میں گورو کے ملوث ہونے پر سنگین شبہات تھے اور اْسے پھانسی دینے کا فیصلہ درستگی سے نہیں لیا گیا۔انہوںنے یہ بات بھی واضح کی کہ اس طرح کی سوچ رکھنے والوں کے بارے میں ملک دشمن ہونے کا تاثر دینا انتہائی غلط ہے اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں کی گئی نعرے بازی کو ملک کے ساتھ غداری نہیں قرار دیا جاسکتا۔ یوپی اے دور حکومت میں کئی اہم محکموں کے وزیر رہنے والے سینئر کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے ایک انٹرویو کے دوران دلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں پیش آئی حالیہ صورتحال کے ساتھ ساتھ محمد افضل گورو کو تختہ دار پر چڑھانے کے موضوعات پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔پی چدمبرم سال 2008سے 2012 تک مرکزی وزیر داخلہ رہنے کے بعد سال2013میں اْس وقت وزیر خزانہ تھے جب افضل گورو کو دلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی۔سابق مرکزی وزیر نے پہلی بار یہ بات تسلیم کی کہ محمد افضل گورو کو پھانسی دینے کا فیصلہ ان کی نظروں میں درست نہیں تھا لیکن وہ حکومت میں شامل ہوتے ہوئے اس فیصلے پر اعتراض نہیں کرسکتے تھے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا عدالتیں گورو کے معاملے میں درست نتائج پر پہنچیں اور کیا پھانسی ہی اس کیلئے معقول سزا تھی؟تو انہوں نے کہا’’میرا ماننا ہے کہ اس بارے میں ایک ایماندارانہ رائے رکھنا ممکن ہے اور وہ یہ ہے کہ شاید افضل گورو کیس کا فیصلہ درستگی کے ساتھ نہیں لیا گیا‘‘۔اپنے دور حکومت میں اس پر آواز نہ اٹھانے کے تعلق سے پی چدمبرم کا کہنا تھا’’حکومت میں رہتے ہوئے ایک وزیر کی حیثیت سے آپ یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ عدالت نے کیس کا غلط فیصلہ سنایا کیونکہ یہ حکومت ہی تھی جس نے افضل گورو کے خلاف مقدمہ چلایا، لیکن ایک آزاد شخص یہ رائے ظاہر کرسکتا ہے کہ کیس کا فیصلہ صحیح طریقے سے نہیں کیا گیا‘‘۔اس بارے میں انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا’’جو کوئی بھی ایسی رائے رکھتا ہو، اس کے بارے میں یہ تاثر دینا کہ وہ ملک دشمن ہے، بالکل غلط ہے ‘‘۔افضل گورو کی پھانسی کے حوالے سے پی چدمبرم نے بتایا’’پارلیمنٹ حملے کے پیچھے سازش میں اس(گورو) کے ملوث ہونے کے بارے میں سنگین خدشات اور شبہات تھے اور اگر وہ ملوث بھی تھا تو اس کے ملوث ہونے کی نوعیت اور حد پر گہرے شکوک و شبہات تھے ، اسے قدرتی زندگی تک رہا کئے بغیر عمر بھر قید کی سزا دی جاسکتی تھی‘‘۔ جواہر لعل یونیورسٹی میں افضل گورو کے حق میں احتجاجی مظاہروں اور اس کے بعد پیدا شدہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر داخلہ نے یونیورسٹی طلباء پر غداری کے الزامات کو انتہائی شرمناک قرار دیا۔پی چدمبرم نے واضح کرتے ہوئے کہا’’عدالت پہلی کی شنوائی میں ان الزامات کو خارج کرے گی!آزادانہ اظہار رائے ، بغاوت کی تقریر نہیں ہوتی، ہاں! اگر آپ کی تقریر جلے پر تیل چھڑکنے (تشدد کو ہوا دینے) کا کام کرتی ہے، تب یہ غداری قرار دی جاسکتی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ رواں ماہ کے آغاز میںجے این یو کیمپس میں جو نعرے بلند کئے گئے ،ان کو غداری سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا، یہ ایک ایسا دور ہے جہاں طلباء کو غلط ہونے کا حق بھی حاصل ہے ، یونیورسٹی ایک ایسی جگہ ہے جہاں آپ ہر وقت سنجیدہ نہیں ہوسکتے، آپ بیوقوف بھی ہوسکتے ہیں‘‘۔جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ وہ افضل گورو کو پھانسی دینے والی حکومت کا حصہ تھے اور اگر وہ وزیر داخلہ ہوتے تو کیا کرتے؟، چدمبرم نے کہا’’یہ صحیح ہے لیکن میں اْس وقت وزیر داخلہ نہیں تھا، اگر میں ہوتا تو مجھے نہیں معلوم کہ میں نے کیا کیا ہوتا، یہ تبھی ہوتا ہے جب آپ کرسی پر بیٹھے ہوتے ہیں اور فیصلہ لیتے ہیں‘‘۔