اداریہ

گول رام بن میں قتل نا حق/ نہتے مظاہرین پر راست فائرنگ

گول رام بن میں4 عا م شہر یو ں کی ہلاکت اور اہانت قرآن کے خلا ف دی گئی ہڑتا ل کا ل اور’’ لالچو ک چلو ما رچ‘کے پیش نظر انتظا میہ نے شہر سرینگر اور دیگرقصبہ جات میں سختی کے ساتھ اعلا نیہ اور غیر ا علا نیہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لاکر لاکھوں آبادی کوگھروں میں محصور کیا گیا۔ کرفیو کی وجہ سے قومی شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت میں خلل پڑا ہے۔ سخت کرفیو کے باوجودجمعہ کو نما ز جمعہ کے بعد وادی کے طو ل و ار ض میں را م بن سانحہ کے خلاف صدا ئے احتجا ج بلند کیا گیا اور شہداء رام بن کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی جس دوران پائین شہر ،بٹہ مالو ، ہمہامہ ،گاندربل ،پٹن ،بانڈی پورہ ،کولگام ،ہمہامہ ، اُدھمپورہ ، حاجن،سمبل، پلوامہ ،شوپیان ، قاضی گنڈ میں پولیس و فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ٹائر گیس شلنگ ،ہوائی فائرنگ ،پیپر شلنگ اور لاٹھی چارج کا بے تحاشہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں ایک درجن پولیس اہلکاروں سمیت چار درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے گاندربل اور نا ئید کھی کے دو نو جوانو ں کونا ز ک حالت میں سر ینگر منتقل کیا گیا۔ داڑم گول رام بن میں پیش آئے سانحہ کیخلاف سید علی گیلانی نے 3دن،میرواعظ عمر فاروق نے 2دن اور ، محمد یٰسین ملک نے ایک دن کیلئے احتجاجی ہڑتال کی کال دی ہے۔جبکہ بار ایسوسی ایشن کے علاو ہ کئی علیحدگی پسند اور مذہبی تنظیمو ں نے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا تھا ۔ اس قتل عام کے خلاف کل اگر چہ 19 جولائی کو مکمل ہڑتال اور لال چوک چلو کی کال دیتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ سانحہ رام بن اور جبراور قتل عام کیخلاف احتجاج کرنے کیلئے ’لال چوک چلو‘ کے لئے کہا گیا تاہم انتظا میہ نے ہڑ تا ل اورلالچوک چلو پر و گرام کا تو ڑکر نے کیلئے شہر سرینگر اور حساس قصبہ جات میں کرفیو لگانے کا اعلان کیا۔جبکہ جمعرات شام کو ہی دفعہ 144 نفاذ عمل میں لایا گیا۔ لوگوں کی نقل وحرکت پر مکمل پابندی تھی جبکہ جگہ جگہ پر پولیس وفورسز اہلکاروں نے طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی تھیں اور بھاری پولیس و فورسز کی نفری کو تعینات کیا گیا جس سے لاکھوں نفوس دن بھر گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ۔ سخت کرفیو کے ساتھ ساتھ پولیس و فورسز اہلکاروں کو شہر سرینگر کے ساتھ ملانے والے تمام شاہراؤں اور سڑکوں پر تعینات کیا گیا تھا۔لا ل چو ک تک جانے والے تمام سڑکوں پر سخت ناکہ بندی تھی۔ پائین شہر سے ملانے والے سڑکوں کو مکمل طور سیل کردیا گیا اور شہر میں جگہ جگہ سڑکوں اور گلی کوچوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کی آمدورفت کو ناممکن بنایا گیا ۔ ادھر داڈم گول رام بن میں قرآن شریف کی بے حرمتی اورعا م شہر ی ہلا کتو ں کے خلاف جموں خطہ کے طول و عرض میں بھی احتجاجی مظاہروں کے دوران اس سانحہ عظیم میں ملوث قصور واروں کو جلد از جلد کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ ادھر جموں شہر کے مسلم علاقوں میں ہڑتال کے بیچ جلسے نکالے گئے۔اس دوران رام بن کے داڑم ،گلاب گڑھ اور گردنواح کے درجنوں علاقوں کو فورسز و پولیس اہلکاروں نے مکمل سیل کیا تھا جبکہ اس سانحہ میں مرنے والوں کے آبائی علاقوں تک کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔
دریں اثناء طاقت کے بے جا استعمال پر ریاستی کابینہ نے بھی مذمت کی ہے اور جان بحق ہوئے افراد کے لواحقین کے حق میں فی کس5 لاکھ روپے ایکس گریشیا ریلیف کو بھی منظوری دی گئی ۔ ریاستی کابینہ نے فائرنگ کے اس واقعہ میں جان بحق ہوئے افراد کے لواحقین کے حق میں فی کس5 لاکھ روپے بطور ایکس گریشیا فراہم کرنے کی منظوری دی۔اس کے علاوہ اس واقعہ میں مارے گئے افراد کے لواحقین کو سرکاری نوکری دینے کا حکم بھی صادر کیا گیا۔