سرورق مضمون

گپکار الائنس کے پاس کوئی روڑ میپ نہیں / مخالفین کا الزام لوگوں نے الائنس پر اعتماد کا کیااظہار / فاروق عبداللہ

سرینگر ٹوڈےڈیسک
اپنی پارٹی کی طرف سے پیپلز الائنس فار گپکار ڈکلریشن جس کو عام طور پر گپکار الائنس کہا جاتا ہے ، کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ کئی سیاسی رہنمائو نے اس خیال کا اظہار کیا کہ الائنس کے پاس کوئی روڈمیپ نہیں ہے ۔ پچھلے دنوں اپنی پارٹی کے سربراہ الطاف بخاری نے کہا کہ جموں کشمیر میں بی جے پی کے لئے این سی اور پی ڈی پی نے راستہ ہموار کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جو حالات پائے جاتے ہیں ان کا ذمہ دار یہی دو پارٹیاں ہیں ۔ اپنی پارٹی کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ پارٹی بی جے پی کی بی ٹیم ہے ۔ یہ پارٹی ایک ایسے وقت پر وجود میں آئی جب کشمیر میں تمام مین اسٹریم لیڈر نظربند تھے ۔ اس دوران وادی لاک ڈاون کی صورتحال سے گزر رہی تھی ۔ مرکزی وزارت داخلہ نے پورے جموں کشمیر میں پہرہ بٹھا دیا تھا اور سیاسی سرگرمیاں پوری طرح سے معطل تھیں ۔ 5 اگست 2019 کو جب مرکزی سرکار نے جموں کشمیر کو دیا گیا خصوصی درجہ ختم کرنے کے لئے آئین ہند میں موجود دفعہ 370 اور 35A ختم کیا تو اس موقعے پر سابقہ تین وزراء اعلیٰ سمیت مین اسٹریم جماعتوں کے لیڈر نظر بند کئے گئے ۔ تاہم پی ڈی پی کے دو اہم رہنمائوں الطاف بخاری اور حسیب درابو کو معنی خیز طور نظر بندی سے مبرا رکھا گیا۔ اس پر کئی حلقوں میں حیرانگی کا اظہار کیا گیا ۔ حیرانگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب بخاری نے کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کا اعلان کیا ۔ انہوں نے پی ڈی پی اور این سی کے کئی درجن لیڈروں کو اپنے ساتھ ملاکر اپنی پارٹی کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے لئے بخاری کو وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ امیت شاہ کی آشیرواد حاصل رہی ۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی پارٹی کو کشمیر میں بی جے پی کی ساتھی جماعت مانا جاتا ہے۔ الطاف بخاری اس سے انکار کررہاہے ۔ تاہم انہوں نے دہلی میں وزیراعظم یا وزیرداخلہ سے ملاقات کو حق بجانب قرار دیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنے حقوق واپس لانے کے لئے دہلی جانا اور وہاں اقتدار قابض حکمرانوں کے سامنے اپنے مطالبات رکھنا غلط نہیں ۔ بخاری سے پہلے پی ڈی پی حکومت کے سابق وزیراور این سی کے کارکن بشارت بخاری نے ایک تند وتیز بیان دیا۔ انہوںنے اپنے ایک انٹرویو میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ گپکار الائنس کے پاس مسائل حل کرنے کا کوئی لائحہ عمل نہیں ہے ۔ بشارت بخاری نے پہلی بار زبان کھولتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ الائنس خالی ہاتھ لوگوں سے وعدے کررہی ہے ۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ پی ڈی پی سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ مفتی سعید کے پاس کشمیر مسئلے کا ایک حل تھا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم سعید چاہتے تھے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ چلے ۔ ان کا خیال تھا کہ اس سے کسی نہ کسی مرحلے پر مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کیا جائے گا ۔ بشارت بخاری نے اس بات پر مرحوم لیڈر کی تعریف کی کہ انہوں نے ہمیشہ ہندوستان پر زور ڈالا کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کی جائے ۔ اس میں وہ کسی حد تک کامیاب ہوئے ۔ بشارت کا کہنا تھا کہ مودی کے ساتھ مفتی نے جو توقعات ظاہر کی تھیں وہ بے بنیاد ثابت ہوئیں اور بات چیت کا سلسلہ آگے نہ بڑھ سکا ۔ ان کا کہنا تھا کہ گپکار الائنس دفعہ 370 اور 35A واپس لانے کا الائنس جو وعدہ کررہاہے اس کے لئے ابھی تک کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی ہے ۔ اسی دوران پی سی کے ایک اہم لیڈر عمران انصاری نےپارٹی سربراہ سجاد لون کے نام ایک خط لکھ کر ان کی الائنس میں شمولیت پر کچھ سوالات اٹھائے ۔ بشارت بخاری اور انصاری کے ان سوالات کے بعد کئی حلقے خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ الائنس میں کسی بھی وقت دراڑ پڑسکتی ہے ۔ ان خدشات کے حوالے سے الائنس کے سربراہ فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ لوگوں نے حالیہ ڈی ڈی سی انتخابات میں اس کے امیدواروں کو کامیاب بناکر الائنس پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ۔ فاروق عبداللہ نے مخالفوں کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ان کی بوکھلاہٹ قراردیا ۔
سیاسی محاذ پر کچھ گرمی کے دوران کشمیر موسم نے اچانک اپنا رخ بدلا ۔ یہاں سردی کی شدید لہر پائی جاتی ہے ۔ سرینگر میں شدت کی سردی پائی جاتی ہے جس سے ڈل کے علاوہ پانی کے وسائل اور نل منجمد ہورہے ہیں ۔ سردی نے پچھلی تین دہائیوں کا ریکارڈ توڑ کر ہر طرف ہاہا کار مچادی ہے ۔ پچھلے ہفتے کی بھاری برف باری کے بعد درجہ حرارت منفی آٹھ اور دس ڈگری سے نیچے آگیا ہے ۔ اس وجہ سے زندگی میں ٹھہرائو آگیا ہے ۔ ادھر جموں سرینگر ہائی وے کئی روز سے بند ہے ۔ کیلا موڑ کے پاس تعمیر ہوا پل اچانک گرگیا ۔ اس سے کئی روز تک سڑک بند رہی ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وجہ سے راستے میں کئی ہزار ڈرائیور اور دوسرے مسافر درماندہ ہیں ۔ اس کا اثر وادی کشمیر میں نمایاں طور نظر آتا ہے ۔ وہاں گوشت اور سبزیوں کی کمی پائی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ کئی حلقے الزام لگارہے ہیں کہ حکومت لوگوں کو راحت پہنچانے میں ناکام رہی ہے ۔ سرکاری حلقے ان الزامات کو مسترد کررہی ہے ۔ تاہم کئی علاقوں میں لوگوں نے اس بات پر احتجاج کیا کہ وہاں سڑکوں سے برف ہٹائی گئی نہ بجلی کو بحال کیا جاسکا ۔ تاہم بعض علاقوں میں بروقت کاروائی پر لوگ اطمینان کا اظہار کررہے ہیں ۔ موسم آئندہ کیا رخ اختیار کرے گا اس پر کئی طرح کے خدشات کا اظہار کیا جارہاہے ۔ سردی کی شدید لہر کی وجہ سے لوگ سخت بے اطمینانی کا اظہار کیا جارہاہے ۔