سرورق مضمون

گیلانی کی دلی سے کشمیر آمد / استقبالی جلسے میں جم غفیر،پاکستانی پرچم لہرایا گیا / جنگجو کے بھائی کے قتل پرترال ایک بار پھر اُبل پڑا

ڈیسک رپورٹ
ترال میں اس وقت حالات سخت ابتر ہوگئے جب آرمی نے ایک جنگجو کے بھائی کو قتل کرکے اس کی لاش مقامی پولیس تھانے کے حوالے کی۔ یہ واقعہ ترال کے نزدیکی جنگلوں میں پیش آیا۔ پولیس کے آئی جی نے شام کو ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ مارا گیا نوجوان علاقے میںسرگرم ایک جنگجو کا بھائی ہونے کے علاوہ ایکٹیو اپر گراونڈ ورکر بھی تھا ۔ پولیس دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے مقتول نوجوان خالد مظفر کے والد نے الزام لگایا کہ اس کا بیٹا کسی بھی طرح عسکری سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھا۔ اس کو زیرحراست اپنے جنگجو بھائی کو خوفزدہ کرنے کے لئے مارا گیا۔ اس ہلاکت پر علاقے میں لوگوں میں سخت غم و غصہ پھیل گیا۔ نوجوانوں نے مشتعل ہوکر پولیس اور نیم فوجی دستوں پر سنگ بھاری کی۔ اس دوران ایک سی آر پی اہلکار کی رائفل چھین لی گئی اور کئی پولیس اہلکاروں سمیت چالیس کے لگ بھگ لوگ زخمی ہوگئے۔ خالدمظفر کی ہلاکت پر تمام علیحدگی اور مین سٹریم جماعتوں نے تشویش کا اظہار کیا اور اس ہلاکت کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا۔ ادھر وزیراعلیٰ نے اس ہلاکت کو بدقسمتی سے تعبیر کرکے پولیس سے حقائق معلوم کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کے لئے کہا ہے۔ یاد رہے کہ ریاست کی داخلہ وزارت وزیراعلیٰ کی تحویل میں ہے۔ اس دوران اسی علاقے سے یونس گنائی نامی ایک عسکریت پسند کی لاش بھی حاصل کی گئی ہے ۔
ترال میں فائرنگ اور نوجوان کی ہلاکت کا یہ واقعہ سوموار بعد دوپہر کملا کے بالائی جنگلوں میں پیش آیا۔ یہ کاروائی انجام دینے والے فوجی دستے کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم ہوا تھا کہ ایک مطلوب جنگجو برہان وانی کا بھائی اپنے تین اور دوستوں کے ساتھ اس سے ملنے کملا کے جنگلوں میں گیا ہے اور وہ جنگجووں کے ایک گروپ کے ساتھ گپ شپ کررہے ہیں ۔ فوج نے علاقے کا محاصرہ کیا۔ اس دوران طرفین میں فائرنگ ہوئی جس میں جنگجو برہان کا بھائی خالد مظفر مارا گیا جبکہ اس کے تین ساتھی گرفتار کرلئے گئے ۔ فوج نے پہلے خالد کو جنگجو قراردیا جبکہ پولیس کا کہنا تھا کہ ایک عام شہری مارا گیا ۔ یہ خبر پھیلتے ہی علاقے میں تشویش پیدا ہوگئی اور لوگوں نے اس پر احتجاج کرنا شروع ۔ احتجاج اس وقت تشدد میں بدل گیا جب خالد کی لاش گھر لائی گئی اور اس کے والد نے دعویٰ کیا کہ خالد بھائی سے ملنے نہیں بلکہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پکنک منانے گیا تھا اور وہ فائرنگ میں نہیں بلکہ زیرحراست تشدد سے مارا گیا۔ اس کے سر پر زخموں کے کئی نشان دیکھے گئے اور وہ بہت زیادہ خون بہنے سے ہلاک ہوگیا تھا۔ اس کے بعد پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر پھیل گئی۔ لوگوں نے بڑے پیمانے پر خالد کے جنازے میں شرکت کی اور واقعے کی مزمت کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا۔ خالد کے دوسرے تین ساتھی پولیس حراست میں ہیں۔ اس دوران پولیس نے ان کے بیانات پر مشتمل ویڈیو ریکارڈنگ جاری کی ہے۔ریکارڈنگ میں زیرحراست نوجوان اقرارکرتے ہیں کہ انہیں خالد نے اپنے جنگجو بھائی سے ملانے کے لئے جنگلوں میں لیا تھا جہاں فائرنگ کے دوران خالد مارا گیا۔ خالد کے والد نے ایک بار پھر پولیس کے دعوے کو مسترد کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ وزیراعلیٰ واقعے کی تحقیقات کریں گے اور اصل مجرموں کو سامنے لاکر انہیں سزا دیں گے ۔ ترال کے اسمبلی ممبر مشتاق احمد شاہ نے واقعے کی مزمت کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کرنے کی مانگ کی ہے ۔ کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور ایم ایل اے یوسف تاریگامی نے بھی مانگ کی ہے کہ واقعے کی جوڈیشل انکوئری کی جائے ۔ این سی کار گذار صدر اور سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے بھی اس واقعے کی مزمت کی ہے اور اس کی تحقیقات کرنے کی مانگ کی ہے ۔ اس واقعے کی مزمت کرتے ہوئے حریت لیڈر سید علی گیلانی نے جمعہ کو ترال چلو کی کال دی۔ اس موقعے پر ترال میں ناکہ بندی کرکے وہاں لوگوں کا جمع ہونا ناممکن بنادیا گیا ۔ گیلانی سمیت تمام علیحدگی پسندوں کو جمعرات شام ہی گھروں میں نظر بند کیا گیا۔ تاہم میرواعظ عمرفاروق نے نماز جمعہ کے بعد ایک جلوس کی قیادت کی جس کو پولیس نے آگے بڑھنے سے روکا۔ اس پر جلسے میں موجود نوجوانوں نے پولیس پر پتھرائو کیا جس کے جواب میں پولیس نے آنسو لانے والے گیس کے گولے پھینکے۔ اس دوران مختلف جگہوں پرتصادم میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ تنائو تاحال جاری ہے اور خدشہ ہے کہ حالات جلد بہتر ہونے کے بجائے ابتر ہی ہوجائیں گے ۔