خبریں

حکومت سازی پر بات چیت کی ناکامی کے بعدمحبوبہ مفتی کی سرینگر واپسی

حکومت سازی پر بات چیت کی ناکامی کے بعدمحبوبہ مفتی کی سرینگر واپسی

حکومت سازی پر بھاجپا کے ساتھ بات چیت کی ناکامی کے بعد پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی سنیچر کو سرینگر لوٹ آئیں، تاہم پارٹی کے کئی سینئر لیڈران دلی میں ہی بی جے پی کے ساتھ درپردہ مذاکرات میں مصروف ہیں۔ادھرریاستی بی جے پی کی اعلیٰ قیادت تشکیل حکومت کے معاملے پرپارٹی کی مرکزی لیڈر شپ کے ساتھ حتمی صلاح و مشورے کیلئے نئی دلی میں ہے۔کشمیر میڈیا نیٹ ورک کے مطابق جموں کشمیر میں پی ڈی پی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا اتحاد دم توڑتا نظر آرہا ہے اور حکومت سازی کے سلسلے میں دونوں پارٹیوں کے درمیان مذاکرات کا کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد نہ ہونے کے بعد اب نئی حکومت بننے یا نہ بننے کے بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔تشکیل حکومت کو لیکر تعطل برقرار ہونے کی بات اُس وقت سامنے آئی جب بی جے پی نے پی ڈی پی کی کوئی بھی نئی شرط ماننے سے دوٹوک انکار کیا۔حالانکہ جمود توڑنے کیلئے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے دوروز قبل بھاجپا صدر امیت شاہ کے ساتھ ملاقات بھی کی لیکن اس کے کچھ ہی گھنٹے بعد بی جے پی جنرل سیکریٹری رام مادھو نے واضح کیا کہ پی ڈی پی کے ساتھ شرائط کی بنیاد پر حکومت تشکیل دینا کسی بھی طر ح سے ممکن نہیں ہے۔اس غیر متوقع پیشرفت کے بعد محبوبہ مفتی کی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کے امکانات بھی معدوم ہوگئے جس کے بارے میں گزشتہ کئی دنوں سے امید کی جارہی تھی۔تاہم بی جے پی کے بیان کے بعد ان امیدوں نے دم توڑ دیا اور پی ڈی پی صدر نے وادی لوٹ آنے کا فیصلہ کیا۔ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی سنیچر کی صبح دس بجے دلی سرینگر وارد ہوئیں اور ائر پورٹ سے براہ راست اپنی گپکار رہائش گاہ فئیر ویو پہنچی۔ذرائع نے کے ا یم این کو بتایا کہ محبوبہ مفتی نے نہ پارٹی کے کسی لیڈر یا عہدیدار کے ساتھ بات چیت کی اور نہ ہی میڈیا کے ساتھ کسی قسم کی کوئی گفتگو کی۔پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ فی الحال پارٹی کا کوئی اجلاس یا میٹنگ طلب نہیں کی گئی ہے ، البتہ پارٹی اگلے دوروز کے اندر اپنا آئندہ لائحہ عمل مرتب کرے گی۔ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی کے دلی سے واپس لوٹنے کے باوجود پی ڈی پی اور بھاجپا کے درمیان درپردہ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔اس سلسلے میں سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو کے علاوہ سید الطاف بخاری، پروفیسر امیتابھ مٹو اور عمران رضا انصاری نئی دلی میں بھاجپا لیڈران کے ساتھ پس پردہ مذاکرات کررہے ہیں۔پارٹی کے ترجمان اعلیٰ اور سابق وزیر نعیم اختر نے کشمیر میڈیا نیٹ ورک کے ساتھ بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی کی سرینگر آمد کی تصدیق کی۔انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کی طرف سے حکومت بنانے کے سلسلے میں کوئی نئی شرط عائد نہیں کی گئی ہے اور اس ضمن میں پارٹی اپنے سینئر لیڈر مظفر حسین بیگ کے بیان پر کاربند ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت پارٹی اجلاس منعقد ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے ۔دوسری جانب بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ ملکر حکومت بنانے یا نہ بنانے کے معاملے پر حتمی صلاح و مشورے کیلئے پارٹی کی ریاستی لیڈرشپ کو نئی دلی طلب کیا ہے۔ذرائع سے کے ا یم این کو معلوم ہوا ہے کہ پارٹی کے ریاستی صدر ست شرما، جنرل سیکریٹری اشوک کول اور ممبران پارلیمنٹ جگل کشور اور شمشیر سنگھ منہاس جمعہ کی شب ہی نئی دلی پہنچ گئے جبکہ سینئر پارٹی لیڈر اور سابق نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ سنیچرکو جموں سے دلی روانہ ہوئے۔ذرائع نے بتایا کہ بھاجپا قیادت حکومت سازی کے سلسلے میں پی ڈی پی کے ساتھ ہوئی بات چیت کو لیکر ریاستی لیڈران کو اعتماد میں لینے کے حق ہے اور پارٹی لیڈران کو دل طلب کرنا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ پارٹی کے جنرل سیکریٹری رام مادھو، جموں کشمیر امور کے انچارج اویناش رائے کھنہ ، جنرل سیکریٹری(آرگنائزیشن) رام لعل ریاستی لیڈران کے ساتھ میٹنگ کرکے حکومت سازی کے معاملے پر تازہ پیشرفت کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔اس دوران تشکیل حکومت کے حوالے سے ریاستی لیڈرشپ کا موقف جاننے کی کوشش کی جائے گی۔ذرائع نے بتایا کہ دلی میں بی جے پی کی قومی ایگزیکٹیو میٹنگ بھی منعقد ہورہی ہے جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی شرکت بھی متوقع ہے۔