اداریہ

ہائے اقتداروائے اقتدار

اب جبکہ گورنر راج کابھی خاتمہ ہونے والاہے اور سیول گورنمنٹ یعنی حکومت معرض موجودمیںآرہی ہے اوراس سلسلے میں ریاست میں اُبھر آئی دوبڑی سیاسی پارٹیوں نے سمجھوتہ کر کے حکومت بنانے کافیصلہ کیا۔جس کے ممکنہ سربراہ یعنی وزیر اعلیٰ کے عہدے پر پی ڈی پی سرپرست، سابق وزیراعلیٰ اورسابق وزیرداخلہ مفتی محمد سعید کو براجمان کیاجا رہاہے تاہم بھارتیہ جنتاپارٹی کو حکومت میں شراکت دار بناکرانکے حصے میں شاید نائب وزیراعلیٰ کاعہدہ تفویض کیاجا رہاہے۔ البتہ پی ڈی پی شاید وزیر خزانہ کے خاص عہدہ اپنے پاس رکھ رہے ہیں۔اس طرح سے عندیہ یہی ہے پی ڈی پی اوربی جے پی وزارتوں کاتقریباً بٹوارہ کر چکے ہیں۔ اب عوامی حلقوں کاسوال ہے بی جے پی اورپی ڈی پی نے الیکشن کے دوران جو منشورعوام کے سامنے لائے کیایہ پارٹیاں ان منشوروں پرعملدرآمد کریں گے۔ سبھی حلقوں کا خاص کر ریاست کے دانشوروں کامانناہے کہ ان دونوں پارٹیوں نے یہ سوچ کر سمجھوتہ کیا ہوگاکہ دونوں پارٹیوں کامنشورالگ الگ ہے جوآپس میں کسی بھی طرح میل نہیں کھاتے ہیں تاہم حکومت کرنے یعنی مفادات اورمراعات حاصل کرنے کے لئے فی الحال دونوں پارٹیوں نے ان جاری کئے گئے منشوروں پر خاموش رہنے کافیصلہ لیاہوگااوران پر آئندہ الیکشن تک دھیان نہ دینے پر سمجھوتہ کیا ہوگا۔ اندیشہ تویہی ہے کہ آنے والے چھ برسوں کیلئے دونوں پارٹیوں نے اس بات پر سمجھوتہ کیاہوگاکہ فی الحال حکومت کرنے کا وقت آگیا ، فائدے کے چھ سال ہے ان چھ برس میں کچھ حاصل کرنے کے ہیں زیادہ تر دھیان اسی پر دیا گیا ہوگا۔ ادھرپی ڈی پی کے سینئر لیڈر،سابق نائب وزیراعلیٰ اور ممبر پارلیمنٹ مظفر حسین نے بھی کچھ ایسے بیانات دئے ہیں جن سے کئی حلقوں کو یہ محسوس ہو رہاہے کہ شاید پی ڈی پی میں عنقریب بغاوت شروع ہونے والی ہے اور جلد ہی یہ پارٹی بکھیر جائے گی۔ پی ڈ ی پی سرپرست مفتی محمدسعیدا ور پارٹی صدر محبوبہ مفتی نے اگر چہ ایک طرف مظفر حسین بیگ اورایک اورسینئرلیڈر طارق حمید قرہ جو کہ گذشتہ پی ڈی پی دور حکومت میں اہم عہدوں پر فائض تھے، کو ریاست کے باہر کردیایعنی دونوں لیڈروں کوممبر پارلیمنٹ بنا کر دلی کا رُخ کروایا اوردوسری طرف یہاں پارٹی سرپرست مفتی سعید کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے لیڈران کیلئے راہ ہموارکر چکے تھے جس میں پی ڈی پی کے کئی نو منتخب لیڈران بھی شامل ہیں کو حکومت کے کئی اہم عہدوں پر تفویض کرنے کی گنجائش رکھی جاچکی ہے۔ اب جب کہ عین موقع پر پی ڈی پی لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ مظفرحسین بیگ کا بیان سامنے آگیا ہے وہ معنی از خالی نہیں ہو سکتاہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق پی ڈی پی سینئر لیڈرمظفر حسین بیگ کو شاید ریاست کاوزیراعلیٰ بننے کا شوق تھا جو ان کو پوراہونے کا چانس نہیں دکھائی دے رہاہے ۔اس لئے شاید ان کوپارلیمنٹ ممبری راست نہیں آتی ۔اس سلسلے میں انہوں نے پی ڈی پی سرپرست مفتی محمدسعید اور پارٹی صدرمحبوبہ مفتی کے ذاتی فیصلے لینے سے ہی فی الحال بیانات دینے شروع کئے۔ادھرسوال یہ ہے کہ مظفر حسین بیگ کا بیان بے معنی نہیں ہو سکتاہے البتہ ان کو یہی خیال آیاہوگا ہائے اقتداروائے واقتدار۔کہاں ہے تو اقتدار؟